پاک فوج کو سلام ’’بڑا دشمن بنا پھرتا ہے ۔۔۔جو بچوں سے ڈرتا ہے‘‘

پاک فوج کو سلام ’’بڑا دشمن بنا پھرتا ہے ۔۔۔جو بچوں سے ڈرتا ہے‘‘

 آرمی پبلک سکول پشاور کے معصوم شہداء کا پاکیزہ خون رنگ لایا۔ قوم دہشت گردی کے خاتمے کے یک نکاتی ایجنڈے پر متفق اور یکسو ہوگئی۔وزیراعظم محمد نوازشریف کی مدبرانہ قیادت نے پوری سیاسی قیادت کو دہشت گردوں کے خاتمے کے ایجنڈے پر متفق کرنے کا تاریخی کارنامہ سرانجام دیا۔ محمد شہبازشریف ملک کے سب سے بڑے صوبے کے وزیراعلیٰ ہونے کے ناطے دہشت گردی کے خلاف مہم میں قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ 16 دسمبر 2014ء ٹھیک 43 سال بعد ایک بار پھر پاکستانی قوم پر قیامت کا دن گزرا۔ بربریت اور وحشت کا وہ کھیل کھیلا گیا جس پر انسانیت بھی شرمندہ ہے۔ 132بچے ‘ سکول کی پرنسپل‘ سٹاف اور دیگر اہلکاروں کی شہادت نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا۔ پشاور شہر میں ویرانی چھا گئی اور ننھے منھے شہدا سے قبرستان بھر گئے۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے فوری طور پر گورنر اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو فون کر کے ہر ممکن تعاون کی پیش کش کی۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے دلخراش واقعہ پر تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے قائدین اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں سے اختلافات کو بھلا کر ایک ہونے کی اپیل کی۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے سانحہ پشاور کے فوراً بعد کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کا اجلاس طلب کر لیا۔ جس میں امن عامہ کی مجموعی صورتحال اور تعلیمی اداروں میں فول پروف سکیورٹی انتظامات کرنے کے حوالے سے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سیکرٹری داخلہ اور آئی جی نے امن عامہ کی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ نے تعلیمی اداروں کے سکیورٹی پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کا حکم دیا اور موثر ابلاغی نظام کے ذریعے اہم مقامات کی حفاظت کو بہتر بنانے کی حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایت دی۔ وزیراعلیٰ نے کہا یہ جنگ 18کروڑ عوام کی جنگ ہے جو ہر صورت جیتیں گے۔ پاکستان بچانے کی جنگ میں جیت ہی واحد آپشن ہے۔ پنجاب پر ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے ناطے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کیلئے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اسی لئے اس بڑے مقصد کے حصول کیلئے تفصیلی منصوبہ بندی کی گئی۔ وزیراعظم پاکستان کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان کے اعلان کے بعد پنجاب میں برق رفتار اقدامات کئے گئے تاکہ معاشرے کے مقتدر اور بااختیار طبقوں کو دہشتگردی کے خلاف متحرک کیا جائے۔پنجاب بھر کے کمشنروں، آرپی اوز، ڈی سی اوز اور ڈی پی اوزکی اعلیٰ سطح کی سکیورٹی کانفرنس بلائی گئی جس میں سرکاری مشینری کو دہشتگردی اور انتہاپسندی کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے لائحہ عمل دیاگیا۔مختلف مکاتب فکر کے جیدعلمائے کرام اور مشائخ عظام کا اجلاس بھی طلب کیاگیا جس میں علمائے کرام کو منبر و محراب سے دہشتگردی کے خلاف فکری اور نظریاتی جنگ میں اپنی ذمہ داری بطریق احسن ادا کرنے کی درخواست کی گئی۔علمائے کرام ومشائخ عظام معاشرے میں بھائی چارے، رواداری، برداشت اور تحمل کے جذبات کو فروغ دے کر اپنا مؤثر اور بھرپور کردار ادا کرسکتے ہیں۔نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے اعلیٰ عسکری قیادت کے ساتھ ایپکس کمیٹی کے اجلاس طلب کئے گئے جن میں صوبے میں سکیورٹی انتظامات کو فول پروف بنانے کیلئے فیصلے کئے گئے۔افواج پاکستان کے افسران ، جوانوں، پولیس افسروں، اہلکاروں اور عام شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں جن پر پوری قوم کو فخر ہے۔ پنجاب میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومتی اقدامات کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کیلئے ایسے آرڈیننس جاری کئے گئے جن کی اشد ضرورت تھی ۔حکومت پنجاب نے پنجاب اسلحہ ترمیمی آرڈیننس 2015ء جاری کیا جس کے تحت اسلحہ کی خریدوفروخت ، اس کے استعمال اور اسلحہ لے کر چلنے سے متعلق نئے ضابطے لاگو کئے گئے تاکہ اسلحے کے غلط استعمال کوروکا جاسکے ۔اسلحہ ترمیمی آرڈیننس کے تحت ایسی ترامیم کی گئیں جن کے بعد خلاف ورزی کے مرتکب شخص کو 2 سے 7 سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی ۔ اسی آرڈیننس میں ممنوعہ بور کے اسلحے سے متعلق بھی ترمیم کی گئی ۔ اسلحے کی نمائش کے حوالے سے بھی نئی ترمیم لاگو ہوئی جس کی خلاف ورزی پر سخت تادیبی کارروائی کو یقینی بنایاجائے گا ۔ طلباو طالبات کو محفوظ رکھنے کیلئے تعلیمی اداروں کیلئے بھی نئی ہدایات جاری کی گئیں ۔ان میں سکولوں کی چاردیواری ،ان کو اونچا کرنا ، سی سی ٹی وی کیمرے ،میٹل ڈیٹیکٹر اور تربیت یافتہ سیکورٹی گارڈز ، طلبا وطالبات او ر اساتذہ کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تربیت اور سٹوڈنٹس کو لانے او رلے جانے والی گاڑیوں اور عملے کی سیکورٹی کلیئرنس جیسے معاملات شامل ہیں ۔اس سلسلے میں لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی نے سکول بس اور وین سے متعلق ضروری اقدامات کا آغاز کردیا ہے۔ وال چاکنگ کی ممانعت کے آرڈیننس 2015 ء کے تحت دہشت گرد، فرقہ وارانہ اور کالعدم تنظیموں کی تشہیر اور نفرت انگیز و شرانگیز پراپیگنڈہ پر قابو پانے کے لئے قانونی اصلاحات کی گئیں جن کے تحت وال چاکنگ قابل دست اندازی پولیس اور ناقابل ضمانت جرم تصور کیاجائے گا اور اس کا مقدمہ مجسٹریٹ درجہ اول کی عدالت میں چلایاجائے گا اور اس جرم کے تحت 6 ماہ تک قید اور 25 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ کیاجاسکے گا اور نہ صرف وال چاکنگ کرنے والا ، کروانے والا بلکہ جس کے حق میں وال چاکنگ کی جارہی ہو وہ بھی مجرم تصور ہوگا ۔ پنجاب حکومت نے حساس تنصیبات کے تحفظ کا آرڈیننس 2015 ء بھی جاری کیا جس کے تحت کسی بھی ضلع میں عبادت گاہوں ، مذہبی مقامات ،حکومتی دفاتر ، این جی اوز ، غیر ملکی پراجیکٹس کے دفاتر ، ہسپتال ، بینک،مالیاتی ادارے ، صنعتی یونٹس ‘ شادی ہالز‘ پٹرول پمپس‘ ہوٹلز‘ شاپنگ سنٹرز اور پبلک ٹرانسپورٹ کے اڈے حساس جگہوں میں شامل ہوں گے اور ان کی سکیورٹی کے حوالے سے خلاف ورزی کرنے والے کو 6ماہ تک قید اور 50ہزار سے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکے گا۔ہر ضلعی حکومت تحصیل کی سطح پر سکیورٹی ایڈوائزری کمیٹی تشکیل دے گی جو سہ ماہی بنیادوں پر حساس تنصیبات کا معائنہ کرے گی اور حساس تنصیبات کے منیجرحضرات/ذمہ داران تمام ضروری اقدامات اٹھانے کے پابند ہوں گے۔ صوبہ بھر میں پراپرٹی ڈیلرز اور مالکان رہائش گاہ کیلئے آرڈی نینس 2015ء جاری کیا گیا‘ جس کے تحت ہوٹلز‘ گیسٹ ہاؤسز اور مالک مکانوں کے لئے کوائف کی پولیس کو 48گھنٹے کے اندر اندر فراہمی کو یقینی بنانے اور مہمان کو کمرہ دینے کی صورت میں 3گھنٹے کے اندر پولیس کو اطلاع کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔ جس کی خلاف ورزی پر جرمانے اور قید کی سزا میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ان تمام اقدامات کے ساتھ ساتھ عوام میں آگاہی کے لئے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے مہم کا بھی اہتمام کیا گیا تاکہ پنجاب حکومت کی طرف سے سکیورٹی اقدامات کو یقینی بنانے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے عام آدمی حکومت کے شانہ بشانہ اپنا کردار ادا کر سکے۔ پنجاب حکومت نے میڈیا کے ذریعے عوام کو آگاہ کیا کہ وہ جہاں کوئی مشکوک سرگرمی دیکھیں اس کی اطلاع ٹیلیفون نمبر 15 یا1124یا1129 پر دیں اور اس واقعہ کو اپنے موبائل میں محفوظ کر کے ’’وٹس ایپ‘‘(Whats App)پر 03-111-888-666 پر کریں۔صوبائی حکومت نے حالات کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے فوری طور پر قانونی حوالے سے نظرثانی کی ہے اور ان تمام اقدامات پر پوری طرح عملدرآمد کا ارادہ رکھتی ہے۔جس کے لئے پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔صوبائی کابینہ کے اراکین اور سیکرٹری صاحبان کو بھی مختلف اضلاع میں دہشت گردی کے خلاف حکومتی اقدامات کو یقینی بنانے اور ان کی کڑی نگرانی کرنے کے فرائض سونپے جا رہے ہیں جن کی صوبائی سطح پر مانیٹرنگ بھی کی جائے گی۔ پنجاب حکومت کی طرف سے لاگو کردہ تمام آرڈی نینس اس وقت تک کارگرثابت نہیں ہو سکتے‘ جب تک ہر شہری اس ضمن میں اپنے فرائض کی انجام دہی نہیں کرتا۔ میڈیا کے ذریعے ہمیں مسلسل اپنے شہریوں کو باخبر رکھنا ہو گا اور بدلتے حالات کے مطابق انہیں تیار کرتے رہنا ہو گا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہم سب کا مشترکہ قومی فریضہ ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ’’ابھی نہیں تو کبھی نہیں‘‘ کی بنیاد پر ہم سب اپنی تمام توانائیاں صرف کرتے ہوئے آگے بڑھیں اور ملک و قوم کو محفوظ مستقبل دینے کے لئے وہ کردار ادا کریں جس کا وقت ہم سب سے تقاضا کر رہا ہے۔ پشاور کے سکول میں بچوں کی شہادت پر آج بھی ہر دل زخمی اور ہر آنکھ اشکبار ہے۔ عصر حاضر کی تاریخ میں بربریت اور سفاکیت کے ایسے بدترین واقعہ کی مثال نہیں ملتی۔ شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ قوم آج شہداء کے خون کے طفیل دہشت گردی کے خلاف متحد ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے معاشرے کے تمام طبقات کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سیاسی اتفاق رائے سے بنائے گئے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ملک سے دہشت گردی ،انتہاء پسندی اورفرقہ واریت کا خاتمہ وقت کا تقاضا ہے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاک افواج ، جرأت و بہادری اورقربانیوں کی نئی تاریخ رقم کررہی ہیں۔ پوری قوم ملک سے دہشت گردی کا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاتمہ چاہتی ہے۔ معصوم انسانیت کو خون میں نہلانے والوں کا یوم حساب آن پہنچا ہے۔ پاکستان اور امن کے دشمنوں کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔ پرعزم قوم کے اتحاد سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ضرور کامیاب ہونگے اور ملک کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنائیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمدشہبازشریف کی زیر صدارت ہونے والے اعلی سطح کے ایک اجلاس میں صوبے میں دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر عملدر آمدکے حوالے سے اقدامات،امن عامہ کی مجموعی صورتحال، سرکاری ونجی تعلیمی اداروں کے لئے وضع کردہ سکیورٹی پلان اور صوبے میں سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں تعلیمی اداروں میں پیشگی الارم سسٹم لازمی قرار دینے کافیصلہ کیا گیا اوروزیراعلیٰ نے تعلیمی اداروں میں پیشگی الارم سسٹم شروع کرنے کی منظوری دی۔ اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ نجی و سرکاری سکولوں ،کالجوں اوریونیورسیٹوں میں وضع کردہ سکیورٹی انتظامات کی موثر مانیٹرنگ کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے اوراس ضمن میں صوبائی وزراء اورسیکرٹری صاحبان اپنے تفویض کردہ اضلاع میں انتظامات کی نگرانی جاری رکھیں۔ وزیراعلی محمد شہباز شریف کی ہدایت پرپنجاب کے چارپبلک سکولوں کے نام آرمی پبلک سکول پشاور کے شہید طلباء سے منسوب کر دیئے گئے۔ آرمی پبلک سکول پشاور میں شہید ہونے والے طلبا کا تعلق پنجاب کے مختلف شہروں سے تھا۔وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی ہدایت پر پنجاب کے مختلف اضلاع میں ڈی سی اوز اور کمشنر ز کی زیر نگرانی چلنے والے پبلک سکولوں کے نام شہدائے پشاور سے منسوب کر دیئے گئے ہیں۔جن سکولوں کے نام شہداء کے نام سے منسوب ہوئے ان میں ڈی پی ایس خوشاب ، ڈی پی ایس گوجرانوالہ ، ڈی پی ایس سیالکوٹ اور ننکانہ صاحب کا پبلک سکول شامل ہے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...