موسم سیاست اور شاہ محمود قریشی!

موسم سیاست اور شاہ محمود قریشی!

ملک سرد ہواؤں کی لپیٹ میں ہے۔تاخیر سے سہی قدرت مہربا ہوئی اور پہاڑوں پر برف باری اور بارش کے ساتھ میدا ی علاقوں میں بھی کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش ہوئی۔ لاہور بھی ٹھ ڈا ٹھار ہے، لوگوں کی سرگرمیاں جو پہلے پٹرول کی قلت کے باعث ما د پڑ گئی تھیں اب ٹھ ڈ کی وجہ سے کم ہیں۔ پٹرول کا قحط تو بہرحال ختم ہو گیا۔ اب لمبی لمبی قطاریں ختم ہو گئیں، کافی پٹرول پمپ کھل گئے قطار ضرور ہے، لیک تعداد کم ہو چکی اس سے ا دازہ ہوتا ہے کہ ایک دو روز میں حالات معمول پر آ جائیں گے۔ اس صورت حال کے لئے لاہور کے سی ای جی سٹیش وں کو گیس دی ے سے بھی مسئلہ حل کر ے میں مدد ملی۔ یہ حکمت عملی بہتر رہی ہے کہ پٹرول کی جگہ سی ای جی کے لئے قطاریں لگیں۔ ات ی دیر میں پٹرول کی سپلائی پہ چ گئی۔ گزشتہ روز بھی بعض پٹرول پمپ والوں سے سی ای جی ملی اور بعض ے پٹرول دیا ، موٹر سائیکل والے حضرات بھی اب لالچ چھوڑ کر خود ہی سو دو سو روپے کے پٹرول پر آ گئے ہیں تاہم اب بھی کافی پٹرول پمپ ب د ہیں۔جی ٹی روڈ پر بہت کم پٹرول پمپوں کے پاس پٹرول ہے باقی ب د پڑے ہیں یہاں تو سی ای جی بھی ہیں، حکومت کو ادھر بھی توجہ مبذول کر ا چاہیے کہ شہر سے شہر والی بڑی سڑکوں پر پٹرول مل ا شروع ہو گا تو معمولات بالکل ٹھیک ہو جائیں گے۔ قلم اٹھایا تھا، سیاست کے لئے بات موسم اور پٹرول کی طرف چلی گئی کہ یہ بھوت کی طرح سر پرسوار ہے۔ موسم ٹھ ڈا ہے تو سیاست بھی ٹھ ڈی ہو چکی، تحریک ا صاف ے آپریش ضرب عضب کی وجہ سے اپ ے احتجاجی پلا کو موخر کیا۔ عمرا خا دوسری شادی کے بعد یوں بھی ہ ی مو پر ہیں اور اب تو عمرہ کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب پہ چ گئے ہیں۔ مسز ریحام خا ا کے ساتھ ہیں، کہتے ہیں کہ یہاں سے ا ہوں ے چ د روز کے لئے امریکہ جا ا ہے۔ عمرا خا اظہار تشکر کے لئے عمرہ ادا کر ے گئے ہیں، چو کہ وہ سیاست دا ہیں اس لئے کوئی سیاسی بات بھی کل ہی آتی ہے۔ اب سابق وزیرداخلہ عبدالرحم ملک دور کی کوڑی لائے ہیں وہ کہتے ہیں کہ عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری سعودی عرب میں ہیں اور عمرا خا بھی پہ چ گئے کہیں ایسا ہ ہو کہ وہاں ا دو وں حضرات کی ملاقات ہو تو کوئی یا پلا ب جائے۔ عبدالرحم ملک ے دو وں کو م صوبہ ساز قرار دے دیا، حالا کہ ڈاکٹر طاہر القادری تو عمرا خا کو اکیلا چھوڑ کر امریکہ سدھار گئے تھے اور بتایا گیا تھا کہ علاج کے لئے گئے ہیں، ہمیں یہ خبر ہیں تھی کہ وہ عمرے کے لئے سعودی عرب تشریف لا چکے ہیں۔ہماری اطلاع اور ا کے ترجما کے مطابق تو ڈاکٹر حضرات ے ا کو لمبا سفر کر ے کی مما عت کر دی ہوئی ہے۔ اب اگر عبدالرحم ملک کی بات درست ہے تو ملاقات کے امکا کو رد ہیں کیا جا سکتا۔ یہاں یہ مل گئے تو شاید م افقت کا طرز عمل ہ ہو، عمرا خا کے دل میں گا ٹھ ہے حالا کہ ڈاکٹر طاہر القادری ے دھر ا ختم کرکے باہر جا ے کے باوجود عمرا خا یا تحریک ا صاف کے حوالے سے کوئی بات ہیں کی، البتہ عمرا خا کے احساسات ذرا مختلف ہیں اگر ملاقات ہوگی تو وہ کہہ بھی دیں گے، مگر تحریک ا صاف کے حلقوں سے اس کی کوئی تصدیق ہیں ہوئی وہ تو کہتے ہیں کہ کپتا اپ ی مسز کو ساتھ لے کر خاص عمرے کے لئے گئے ہیں اور اس عبادت میں ریاضت تو ممک ہے سیاست ہیں ہوگی۔ ہ ہی وہ امریکہ کسی سیاسی مقصد کے لئے جائیں گے وہ تو وہاں شوکت خا م میموریل ہسپتال پشاور کے لئے چ دہ اکٹھا کر ے جائیں گے۔ یہ تو رہی اپ ی جگہ آج تو اپ ے دیری ہ کرم فرما شاہ محمود قریشی سے اظہار ہمدردی کر ا ہے کہ ا کی سابق جماعت والوں ے ا کے شیشہ دل پر پتھر مار دیا اور س دھ اسمبلی میں تحریک ا صاف کے چاروں اراکی کے استعفے م ظور کرکے وٹیفکیش بھی جاری کر دیا اور الیکش کمیش کو ضم ی ا تخابات کے لئے چٹھی بھی لکھ دی ہے۔ اس پر ڈاکٹر عارف علوی ے تو اظہار تشکر کیا تاہم شاہ محمود قریشی برہم ہوئے اور ا ہوں ے پیپلزپارٹی کے لتّے لئے ہیں اور ا کو دوغلا قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں پیپلزپارٹی کا کرداربھی دہرا ہے۔ اسلام آباد اور حتیٰ کہ ایوا کے فلور پر ا ہوں ے استعفوں کی م ظوری کی مخالفت کی اور اب خود یہ فریضہ ا جام دے دیا ہے۔شاہ محمود قریشی کی برہمی قابل فہم ہے کہ ا کے زدیک تو استعفیٰ دی ا ایک حکمت عملی تھی۔ م ظوری مقصود ہیں، ا کو پورا یقی تھا کہ ایسا ہیں ہوگا، یوں تالاب کا پا ی ساک تھا جس میں پیپلزپارٹی ے ک کر مار کر ارتعاش پیدا کر دیا اور اب یہ خطرہ سر پر م ڈلا رہا ہے کہ خود ا کی باری بھی آ جائے گی کہ مسلم لیگ ( ) کو بھی یہ بات پس د آئے گی کہ سی ٹ میں عمرا خا سمیت دوسری مخالف پارٹیاں زیادہ تعداد میں جمع ہ ہو پائیں گی۔ تحریک ا صاف اسمبلیوں میں ہوتی تو یقی اً ا کی ماء دگی ملتی۔ س دھ سے وہ کوئی شست کے اہل تو ہیں تھے لیک ا کے چار ووٹ اپوزیش جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت کو خراب ضرور کر سکتے تھے، لیک اب تو یہ بھی ممک ہیں رہا ، اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پ جاب اسمبلی اور قومی اسمبلی بھی ایسا کر گزرے گی اور استعفے م ظور کر کے پ ڈال خالی کر دے گی۔پھر خیبرپختو خوا کے سوا کسی اسمبلی میں گ جائش ہیں ہوگی اور خیبر پختو خوا سے پا چ یا چھ سی یٹر سی ٹ کے لئے م تخب ہو جائیں گے اور کچھ تو آواز ہوگی،تاہم اس کے لئے عمرا خا کی اجازت چاہیے اور وہ کہتے ہیں کہ اسمبلیوں میں جوڈیشل کمیش کے ب جا ے کے بعد جائیں گے۔ اب شاہ محمود قریشی تو احتجاج کررہے ہیں، وہ تو یہی چاہتے ہیں، اسمبلی میں جائے بغیر مراعات ملتی رہیں‘‘، اب پچھتاوے کیا ہوت‘‘۔ حالات کو س وار ے کی ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے، لیک ذاتی مفاد بھی تو کوئی حیثیت رکھتے ہیں، وہ یہ کہ اسمبلی سے مستعفی ہو ے کا مطلب یہ ہے کہ تمام مراعات سے بھی فراغت اور پھر ئے ا تخابات کا ا تظار جو عمرا خا کے مطابق اسی سال ہوں گے،(یہ ممک ظر ہیں آتا)  ہمیں شاہ محمود قریشی سے ہمدردی ہے، ہماری ا سے واقفیت اس وقت سے ہے جب وہ تعلیم حاصل کر ے کے بعد ولائت سے آئے اور ا کے والد مخدوم سجاد قریشی ا کو ساتھ لے کر مرحوم اقبال احمد خا کے پاس آئے تھے، پھر وہ مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور پ جاب کے وزیر بھی رہے، یہاں سے رخت سفر با دھا اور پیپلزپارٹی کے پلے پڑ گئے، ا کے دور اقتدار میں وزیرخارجہ تھے ، وہ مزے اور جھولے ا کو ہیں بھولتے، لیک ’’اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں‘‘۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...