کیا یہی اندازِ حکمرانی ہے ؟

کیا یہی اندازِ حکمرانی ہے ؟
 کیا یہی اندازِ حکمرانی ہے ؟

  

 پٹرول کے حالیہ بحران سے لوگ پنجاب میں کس بری طرح متاثر ہوئے۔ اس کا تذکرہ ہی افسوس ناک ہے ۔ حکومت نے اس بحران کی وجہ تلاش تلاش کرنے اور ذمہ داروں کا تعین کرنے لئے ایک کمیٹی مقرر کی، جس نے کئی افسران کو ذمہ دار ٹہرایا ۔ یہ دوسری بات ہے کہ جس کمیٹی نے یہ تحقیقات کی ہیں بہت سارے ذمہ دار لوگ اس کمیٹی کو ہی اس قابل نہیں گردانتے جو اس معاملے کی تحقیقات کرنے کی اہلیت رکھتی ہو۔ بہرحال جو کچھ بھی ہوا ، اور حکومت کے اہم وزراء نے اس پر جس انداز میں بھی مٹی ڈالنے کی کوشش کی اس میں انہیں کوئی کامیابی بھی حاصل نہیں ہو سکی، بلکہ ایک ہی بات سامنے آئی کہ حکومت خصوصاً وزیراعظم کو اپنے من پسند، سفارشی اور خوشامد پسند افسران کو متعین کرنے کی بجائے تمام عہدوں پر اہلیت کے حامل افسران کو متعین کرنا چاہئے خواہ وہ وزیراعظم کے خیال میں اہل افسران ان کے مخالف ہی کیوں نہ ہوں۔ کاروبار مملکت اہل افراد ہی چلا سکتے ہیں۔ سفارشی افراد وہ ہی کچھ کر سکتے ہیں،جو ان لوگوں نے پاکستان کا حشر کیا ہوا ہے۔ حکومتوں نے وفاق اور صوبوں میں اپنے من پسند افسران مقرر کرنے کی ایسی وبا پیدا کردی ہے جسے جتنا جلدی ممکن ہو سکے تدارک کرنا ہی اس ملک کے لئے بہتر ہوگا ۔ گونگوں سے بہروں کو آواز د لانے سے بھی بھلا کبھی کام چلا ہے ۔ نواز شریف ہوں یا آصف زراری انہیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ان کے منظورنظر افسران کے مقابلے میں اہل افسران کہیں بہتر نتائج دے سکتے ہیں۔ حکومتیں چلانے والوں نے جس طرح اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ ملک کی انتظامیہ کو بھی ذاتی کمپنی میں تبدیل کیا ہے اس کا خمیازہ ملک اور عوام کو ہی بھگتنا پڑے گا۔ اہل افراد کو مقرر نہیں کیا جاتا، نااہل افراد منصوبوں پر عمل در آمد نہیں کرا پاتے ، قانون نافذ نہیں کرا پاتے نتیجہ سامنے ہے۔ عدلیہ کی ہی درپیش صورت حال دیکھ لیں تو سوائے حیرانی کے کچھ اور دیکھنے کو نہیں ملتا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کی ایک سرکٹ بنچ میں جانے کا اتفاق ہوا۔ عدالت میں سماعت کے لئے ایک جج صاحب کے سامنے 132 مقدمات کی فہرست تھی جسے انہیں ایک دن میں سماعت کرنا تھا۔ 36 مقدمات کی سماعت کے بعد عدالت کا وقت ختم ہو گیا،عدالت برخاست ہو گئی۔ عدالت میں صبح آٹھ بجے اپنے اپنے مقدمات کی سماعت کے لئے آنے والے ان حضرات کو دوپہر کے بعد واپس جانا پڑا ۔ وہ لوگ یہ سوچتے ہوئے چلے گئے کہ دیکھیں اب آئندہ سماعت کب مقرر ہوتی ہے۔ یہ معمول ہے کہ سماعت کے لئے پیش کئی جانے والے مقدمات کی اکثریت کی سماعت ان کی مقرر تاریخ پر نہیں ہو پاتی۔ وکلاء کہتے ہیں کہ مقدمات کی اس قدر بھرمار ہوتی ہے کہ جج صاحبان سماعت ہی نہیں کر پاتے۔ کوئی جج اگر سماعت کرنا بھی چاہے تو اس کے لئے ممکن نہیں ہوتا کہ ان کے سامنے پیش کئے گئے سارے مقدمات کی سماعت کر پائیں۔ بعض جج حضرات کی خواہش کا بھی دخل ہوتا ہے۔ کبھی دل نہ چاہا تو مقدمہ ہی نہیں سنا جاتا ہے۔ اس صورت حال سے پورا ملک دوچار ہے۔ مقدمات کی سماعت کے دوران دیگر مسائل اپنی جگہ برقرار رہتے ہیں۔ پہلا اور بنیادی مسئلہ یہ ہوا کہ مقدمہ کی سماعت کے لئے جج موجود ہونا چاہئے۔ عدالتوں کی تعداد ضرورت کے مقابلے میں کم ہے۔ ججوں کی تعداد بھی کم ہے۔ مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کا یہ ایسا بنیادی مسئلہ ہے جسے حکومت کو ہی حل کرنا ہو گا۔ مقدمات کی بھر مار کیوں ہوتی ہے، یہ کام ججوں کا ہے کہ وہ دیکھیں کہ مقدمہ قابل سماعت ہے بھی یا نہیں۔  سندھ میں گنے کے کاشتکاروں اور چینی تیار کرنے کے کارخانہ مالکان کے درمیاں ایک تنازعہ کھڑا ہوا ہے۔ حکومت سندھ نے اپنے قانونی اختیار کے تحت کارخانہ داروں کے لئے ایک حکم جاری کیا کہ وہ گنا خریدنے کا کم سے کم نرخ 182 روپے فی 40 کلو کاشتکار کو ادا کریں گے۔ کارخانہ داروں کا استدلال ہے کہ کاشتکار کو حکومت کے طے کردہ نرخ ادا کرنے کی صورت میں ان کے کارخانے نقصان میں رہیں گے۔ کارخانہ داروں نے ہائی کورٹ میں در خواست دائر کی ، عدالت نے فیصلہ دیا کہ حکومت کا مقرر کردہ نرخ درست ہے اور کارخانہ دار یہ ہی نرخ کاشت کاروں کو ادا کریں۔ کارخانہ داروں نے فیصلے پر عمل در آمد کرنے کی بجائے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی۔ ایک طرف انہوں نے قانون کا سہارا لیا اور دوسری طرف اپنے کارخانوں کو تالا لگا دیا۔ وہ کارخانے جنہیں اکتوبر کے مہینے میں کام کا آغاز کردینا چا ہئے تھا دسمبر کے اختتام پر اپنی چمنی جلائی اور پھر نرخوں پر تنازعہ کا بہانہ بنا کارخانوں کو ہی بند کر دیا۔ کارخانہ دار 155 روپے میں گنا خریدنا چاہتے ہیں۔ کارخانوں کی بندش نے کاشتکاروں کو مشتعل کر دیا۔ انہوں نے احتجاج میں جلسے جلوس شروع کر دیئے۔ بڑے اور چھوٹے کاشت کار نرخ کے معاملے پر پریشان ہو گئے، کیونکہ ان کی تیار فصل ان کے کھیت میں کھڑی ہے، اسے کاٹ کر کارخانے پہچانا ہے، لیکن کارخانے ہی بند پڑے تھے۔ تیار ہونے کے بعد کھیت میں گنے کا موجود رہنا بھی کاشت کار کے ہی نقصان کا سبب بنتا ہے۔ گنے میں موجود رس گھٹتا جاتا ہے۔ کاشتکاروں نے اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کی یہ تدبیر نکالی کہ انہوں نے ہائی ویز پر دھرنوں کی دھمکی دی اور اضافہ یہ کیا کہ اگر ہمیں گنے کو کھیتوں میں جلانا پڑا تو کارخانوں کو بھی جلائیں گے۔ حکومت نے مداخلت کی اور کارخانہ داروں کو پابند کیا کہ وہ کارخانے کھولیں اور گنا لینا شروع کریں۔ نرخ کا معاملہ عدالتوں کو طے کرنے دیں۔ اب کاشت کار اس امید میں ہے کہ عدالت حکومت کا مقرر کردہ نرخ منظور کر لے گی، کارخانہ دار اس توقع میں ہے کہ عدالت ان کی درخواست پر ہمدردانہ غور کرے گی۔  سپریم کورٹ میں معاملہ منگل کے روز سماعت کیا گیا، عدالت نے درخواست کی ابتدائی سماعت کے بعد اسے منظور کر لیا اور مقدمہ کی سماعت کے لئے دفتر کو آئندہ ماہ کی کوئی تاریخ مقرر کرنے کی ہدایت کر دی۔ ایسے نہ جانے کتنے مقدمات عدالتوں میں روز آتے ہیں جن میں وقت کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ گنے کی خرید سے لے کر چینی تیار کرنے تک کے اس معاملے میں کاشتکاروں سے لے کر کار خانہ داروں تک کے اربوں روپے کے مفادات وابستہ ہیں۔ عدالت کیوں نہیں اس معاملے کی سماعت کسی وقفے کے بغیر کر سکتی ہے؟ ایک طرف عدالتوں میں مقدمات کی بھر مار ہے، ان پر بوجھ ہے تو دوسری طر ف سائلوں کے لئے وقت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اِسی طرح دہشت گردی کے مقدمات کا معاملہ ہے۔ تاخیر ہی ملک میں فوجی عدالتوں کے قیام کا سبب بنا۔ حکومت اور عدلیہ کے درمیان ذرائع ابلاغ کے ذریعہ تکرار بھی ہوئی ۔ اکثر وکلاء اس رائے کے حامی ہیں کہ فوجی عدالتیں مسئلہ حل نہیں کر سکیں گی اور انصاف کے تقاضے پورے نہیں کر پائیں گی۔ اعلیٰ عدلیہ نے بھی اس وقت اعلان کیا تھا کہ دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کسی تاخیر کے بغیر کی جائے گی، لیکن عملاً کوئی صورت سامنے نہیں آئی۔ حکومت کو انصاف کی فوری فراہمی کے سستے انتظامات تو کرنا ہی ہوں گے۔ اس سے فرار ممکن نہیں۔  حکومت نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ایکشن پلان ترتیب دیا، جس پر عمل در آمد ابھی تک عملاً شروع نہیں کیا جا سکا ہے، اجلاس پر اجلاس ہو رہے ہیں۔ سابق صدر پرویز مشرف نے اپنے ایک حالیہ انٹر ویو میں کہا کہ ہم کا غذ تیار کرنے کے ماہر ہیں، لیکن عمل در آمد کرانے میں ناکام رہتے ہیں۔ پاکستان میں انتظامیہ چلانے والے افسران عمل در آمد کے مرحلے میں ہی تو کوتاہی کا شکار ہو جاتے ہیں، جس کا خمیازہ قوم بھگتتی رہتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ہی نا اہل ، سفارشی اور من پسند افسران کی تقرریاں ہیں ۔

مزید : کالم