مسائل کے تالوں کے لئے ’’بابونگر‘‘ کی کنجی

مسائل کے تالوں کے لئے ’’بابونگر‘‘ کی کنجی
 مسائل کے تالوں کے لئے ’’بابونگر‘‘ کی کنجی

  

 ایک سکہ بند مزاح نگار کی حیثیت سے جناب حسین احمد شیرازی کو اپنا لوہا منوائے ایک مدت گزر چکی۔ ’’بابونگر‘‘ کی تصنیف کے دوران انہوں نے اپنی صلاحیتوں کے جو جوہر دکھائے، ان کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ اعلیٰ سرکاری ملازمت سے لے کر شعبہ وکالت میں خدمات کی انجام دہی کے دوران ایک دردمند پاکستانی کی حیثیت سے انہوں نے معاشرے کے تضادات کو اپنے انداز میں ابھارا۔ سماجی بیماریوں کی درست تشخیص کرتے ہوئے اذیت ناک عوامل سامنے لانے کے بجائے لطیف پیرائے میں اپنا مافی الضمیر بیان کر دیا۔ آج جب ملک طرح طرح کے بحرانوں کا شکار ہے، جس شعبے کی جانب نظر دوڑائیں تنزلی ہی دکھائی دیتی ہے۔ ان حالات میں ’’بابونگر‘‘ کی نگری میں گھوم کر حقائق کا درست اندازہ لگانے کے بعد وطن عزیز کی سمت درست کی جا سکتی ہے۔ شرط پھر وہی ہے کہ فیصلہ ساز طبقات کو مطالعے کا کچھ شغف ہو۔ کسی بھی ملک یا ادارے میں بحران کیوں پیدا ہوتے ہیں؟ اس کی ایک بہت بڑی وجہ اختیارات کی مرکزیت ہے۔ آج کل ہماری وفاقی اور پنجاب حکومتیں اسی علت کے باعث خود بھی مشکل میں پڑی ہوئی ہیں اور عوام کو بھی شدید الجھنوں میں ڈال رکھا ہے۔ ’’بابونگر‘‘ کا یہ پیراگراف قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہونے والے غلط فیصلوں اور بیڈگورننس کی بنیادی وجہ آشکار کر رہا ہے: ’’ہمارے دفتری نظام کا سب سے زیادہ اصلاح طلب پہلو اختیارات کی مرکزیت اور ماحول کا جبر ہے۔ دفاتر میں اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کا استبداد ہے اور ماتحت افسران کو بنے بنائے فیصلے ملتے ہیں۔ اگر کوئی ان میں غلطی نکالنے کی خطا کر بیٹھے تو ہر سطح کے افسر اپنی کوتاہی کو فراخدلی سے تسلیم کرنے کے بجائے بغض اور عناد کی وجہ بنا لیتے ہیں۔ اس طرح نوواردوں کو اپنی ملازمت کے پہلے ہی چند برسوں میں احکامات کی بے چون و چرا تعمیل کی عادت پڑ جاتی ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ سلطنت روما کے زوال کے دور میں بری خبر لانے والے کو قتل کر دیا جاتا تھا۔ یہ رسم اب بابونگر میں بھی جاری و ساری ہے۔ اختیارات کا یہ جبر اس آہنی خول کی طرح ہے جو شاہ دولہ کے مزار پر چڑھائے جانے والے بچوں کا چہرہ بگاڑنے کے ساتھ ساتھ ان کو ذہنی طور پر بھی ہمیشہ کے لئے مفلوج کر دیتا ہے۔ جن دوچار فیصد افراد کو اس ماحول سے الرجی کی شکایت ہو وہ نوکری سے بھاگ اٹھتے ہیں یا ان کے اعلیٰ افسران ان کا ریکارڈ خراب کر کے انہیں ہمیشہ کے لئے دیوار سے چپکا دیتے ہیں۔ اب میدان میں آگے بڑھنے کے لئے رہ گئے۔۔۔’’بھاگ لگے رہن، اللہ سرداریاں قائم رکھے‘‘ قبیلے کے لوگ (پنجاب کے بھانڈوں کا مخصوص فقرہ جس کا قریب ترین مفہوم’’خدا حضور کے اقبال کا سورج سدا بلند رکھے‘‘ سے ادا ہوتا ہے)۔‘‘ نرم گفتار اور خوش مزاج حسین احمد شیرازی نے اپنی تحریروں میں موقع پرست ریٹائرڈ افسران کی طرح محض سویلین سائیڈ کو ہی تختہ مشق نہیں بنایا ،بلکہ اقتدار کی ہوس کے مارے جرنیلوں پر بھی کھل کر نکتہ چینی کی ہے۔ انہوں نے لالچی سیاستدانوں کے بھی خوب لتے لئے، لیکن یہ ثابت کر دیا کہ وہ ایک قانون پسند پاکستانی ہیں جو ہر حال میں آئین کو ہی مقدم جانتے ہیں۔ ’’خاکی بابو‘‘ کے عنوان سے تحریر کردہ مضمون میں وطن کے لئے اپنی جان دینے والوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: ’’لیکن شہداء کی عظمت کے ساتھ ساتھ ہمیں ہیئت مقتدرہ کے ان لوگوں سے بہت گلہ ہے جنہوں نے اس ملک کی باگ ڈور سنبھال کر اسے برباد کر دیا۔ یہ وہ افراد ہیں جنہوں نے اس ملک میں پری کہانیوں کا آغاز ’’میرے عزیز ہم وطنو!‘‘ سے کیا، لیکن بالآخر اس سرزمین کو بھوت بنگلہ بنا کر چھوڑ گئے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ڈھاکہ کے پلٹن میدان کا امیر عبداللہ نیازی ہمارے اسلام کی تاریخ میں سب سے برا مسلمان تھا۔‘‘ مارشل لاء اور فوجی طاقت سے مسائل کا حل ڈھونڈنے کی خواہش رکھنے والوں کے لئے یہ چند سطور ایک روشن دریچے کی حیثیت رکھتی ہیں: ’’ایک رائے کے مطابق ہمارے سنگین مسائل کا حل سنگین کی نوک ہی سے ممکن ہے۔ انسانی نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ صرف سختی اور درشتی سے تو آپ اپنے چار سالہ بچے کی عادتیں تبدیل نہیں کر سکتے۔ ایک صاحب اپنے بچوں کے بارے میں بتا رہے تھے کہ میں نے انہیں صحت بہتر کرنے کے لئے ورزش کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے میری بات نہیں مانی تو اگلے دن میں نے سب کو اتنا پیٹا کہ سب کے سر پھٹ گئے، ڈاکٹر سے ٹانکے لگوانے پڑے۔ وہ اب بھی ورزش نہیں کرتے تو میں اس سے زیادہ اور کیا کر سکتا ہوں۔‘‘ اس کے باوجود بھی کوئی آنکھیں بند کر کے ’’آ فوج آ‘‘ کی گردان کرنے سے باز نہیں آ رہا تو اس کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ ’’بابونگر‘‘ میں معاشرے کے تمام شعبوں کی ’’لفظی سرجری‘‘ کی گئی ہے۔ عمومی رویوں سے لیکر سماجی رجحانات کی عکاسی، کام چوری، منافقت، سفارش، کرپشن، گروہ بندی، ذات پات، نااہلی، ڈنگ ٹپاؤ حکمت عملیاں، بدمزاجی جیسے مسائل کی وجوہات کھل کر بیان کر دی گئی ہیں۔ صاحب بصیرت مصنف نے کاروباری بابو، عدالتی بابو، وکیل بابو، عالمی بابو، روحانی بابو، طبی بابو، ادبی بابو، آرٹسٹ بابو غرض کہ کسی کو بھی نہیں بخشا۔ معاشرے کے جس حصے میں جو خرابی نظر آئی اس کا بے لاگ تجزیہ کر دیا۔ اب ذرا ’’خواتین بابو‘‘ کے منفرد موضوع کے حوالے سے اقتباسات: ’’ایک بڑے بابو نے سرکاری دورے پر اپنی خاتون پی اے کو بھی ہمراہ چلنے کا کہا۔ پھر انہوں نے ناں میں جواب سننے کے لئے پوچھ لیا کہ اسے اس دورے میں کسی پریشانی کا احتمال تو نہیں ہے؟ اس خاتون نے کہا کہ میں آپ کو اپنے باپ کے برابر سمجھتی ہوں اور والد کے ہمراہ کسی بیٹی کو کیا فکر ہو سکتی ہے۔ اس جواب سے بڑے بابو پریشان ہو گئے اور وہ خاتون دورے سے بچ گئی۔‘‘ ’’ایک خاتون بابو نے اپنے باس کو دھمکایا کہ خوامخواہ میرے کیس میں نوشیرواں عادل بننے کی کوشش مت کرو، میں نے کندھے سے قمیص پھاڑ کر شور مچا دیا تو اپنے بیوی بچوں سے بھی منہ چھپاتے پھرو گے۔ اسی ’’لیڈیز‘‘ نے ایک دفعہ ایک ماتحت افسر کو، جس کے پاس کار تھی، کہا کہ مجھے گھر پہنچا دو۔ یہ اگلی نشست پر بیٹھ گئیں اور جس طرزعمل کا مظاہرہ کیا اس کے پیش نظر ماتحت نے راستے میں گاڑی بند کی اور کار کی چابی وہیں چھوڑ کر یہ کہتے ہوئے بھاگ گیا: کار آپ لے جائیں، میں پیدل اپنے گھر چلا جاؤں گا۔‘‘ ان واقعات سے کوئی یکطرفہ رائے ہرگز اخذ نہ کی جائے۔ مصنف نے ان خواتین کو خراج تحسین پیش کیا ہے جو ہر طرح کے نامساعد حالات کے باوجود عزت اور وقار کی پیکر بن کر محنت، لگن اور نیک نیتی سے فرائض سرانجام دیتی ہیں۔ ’’بابونگر‘‘ میں اس امر کا اعتراف حیران کن اور خوش کن ہے کہ سنجیدگی اور متانت کے ساتھ کام کرنے والی خواتین کی کارکردگی ان کے بیشتر مرد ساتھیوں سے زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ آج کل میڈیا کا دور دورہ ہے۔ دھرنوں سے لے کر حکومتوں کے دھڑن تختے کی کوششوں تک ہر کوئی میڈیا کو استعمال کرنے کے چکر میں ہے۔ اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ مشرف دور میں میڈیا کو ملنے والی آزادی کوئی سوغات نہ تھی، بلکہ بڑے مغربی ایجنڈے کا ایک طے شدہ حصہ تھی۔ میڈیا کیا گل کھلا رہا ہے؟ اس موضوع پر الگ سے بحث کی ضرورت ہے۔ فی الحال کالم کے آخر میں ’’میڈیابابو‘‘ کا کردار ملاحظہ فرمائیں: ’’بابونگر میں میڈیا بابو بھی قیام پذیر ہیں جن میں معاشرے کے دوسرے طبقات کی طرح اچھے برے سبھی اقسام کے لوگ ہیں۔ حق اور سچ کو دوسروں تک پہنچانے کی جدوجہد میں جان تک قربان کر دینے والے افراد اس روشن قندیل کی مانند ہیں جس کی تابانی قوموں کی زندگی میں کامیابی کے سفر کو ممدومعاون ہے۔ البتہ ان میں سے کم اچھے لوگوں کے بارے میں ہمارے ایک سیاستدان دوست کہتے ہیں کہ اس ملک میں صرف ہم سیاستدان اور ایک بہت پرانے پیشے سے منسلک افراد، سب لوگوں سے رقم اینٹھتے ہیں، لیکن طرفہ تماشا ہے کہ یہ میڈیا بابو ہم دونوں سے بھی لفافے وصول کرتے ہیں۔‘‘ اس کتاب کے مطالعے کے بعد ہماری یہ رائے اور بھی پختہ ہو گئی ہے کہ ملکی مسائل سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ درست تشخیص اور اخلاص سے ساری مشکلیں ختم ہو سکتی ہیں۔ ’’بابونگر‘‘ سے ملنے والے اسباق کو کنجی بنا کر استعمال کیا جائے تو مسائل کے تالے کھلتے ہی چلے جائیں گے۔

مزید : کالم