مسلم دنیا کے جذبات پر صہیونیوں کی باربار نمک پاشی

مسلم دنیا کے جذبات پر صہیونیوں کی باربار نمک پاشی
 مسلم دنیا کے جذبات پر صہیونیوں کی باربار نمک پاشی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

 قارئین کو معلوم ہو گا کہ پیر س میں ابھی کچھ روز پہلے فرنچ میگزین چارلی ہیبڈو نے حضرت نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس کے خلا ف گستا خانہ خا کے شا ئع کئے تھے ۔ جس کے نتیجے میں کچھ انتہا پسندوں نے متذکرہ میگز ین کے دفتر میں گھس کرگستا خانہ کارٹون بنانے والے آرٹسٹ ، اسکے مد یر اور کچھ صحا فیوں سمیت 17 افراد کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا..... مگر افسوس اس میگز ین کے سٹا ف نے ہو ش کے نا خن نہیں لئے ،بلکہ دو بارہ انتہا ئی ڈھٹا ئی کامظاہر ہ کر تے ہوئے چارلی ہیبڈ و کے سرِورق پر ھا دئ عا لمﷺ کے خا کے شائع کرکے پو ری دنیا کے مسلمانو ں کے زخمی جذبا ت پر ایک با ر پھر نمک پا شی کی ہے ۔۔۔اس مو قع پر انتہائی افسو س اس امر کا بھی ہے کہ دنیاکو امن و مسا وات کا درس دینے والی نام نہا د \"عالمی یو رپی تنظیمو ں \" نے مجر ما نہ چپ سادھ رکھی ہے ۔ ان کی زبا نیں گنگ ۔۔۔ دلو ں پر قفل اور بصا رت عنقا ہوچکی ہے ۔۔۔ اللہ و رسو ل ؐ اور انسا نیت کے ان دشمنو ں سے کو ئی پو چھے کہ کیا اظہا ر آزادی کا مطلب یہی ہے کہ ایک مسلمہ آفاقی مذہب کے پیشو اؤ ں کا جس طر ح من چاہے تمسخر اڑائیں ۔۔۔با لخصو ص ہما رے پیا رے نبی اکر م ﷺ کا تمسخر ،جن کے اخلا ق عالیہ کے با رے میں اللہ کر یم نے خو د اپنے کلا م پا ک میں فرما یا ہے : \"انک لعلی خلق عظیم \".بلا شبہ آپ بڑے ہی اعلی اخلا ق کے مالک ہیں \"ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ نبی اکرمﷺ کی شا ن میں گستا خانہ خاکے شائع کر کے دنیا بھر میں پھیلے ہو ئے ایک ارب سے زائد مسلما نو ں کی باربار دل آزاری آخر کیو ں کی جاتی ہے ؟اگر اسی کا نا م آزادئ اظہا ر ہے تو عقل کے ان اند ھو ں کو معلو م ہو نا چا ہئے کہ مسلما نو ں کے پا س بھی زبا نیں ہیں ۔۔۔قلم ہیں۔۔۔پر یس اور سر ورق ہیں ۔۔۔ مسلما ن بھی میگز ین اور رسا ئل کا سہا را لے کر اپنے قلم اور آرٹ کے ایسے ایسے آزادانہ نمو نے پیش کر سکتے ہیں کہ دنیائے کفر بلبلا بلبلااٹھے۔۔۔ لیکن نہیں ۔۔۔ہم ایسا نہیں کر سکتے ۔۔۔ کیو نکہ ہما ری مجبو ری یہ ہے کہ ہم ایک ایسے نبیؐ کے امتی ہیں جنہوں نے سا ری زند گی کسی کو تکلیف نہیں دی ۔۔۔جن کا فرما ن گرامی ہے کہ اللہ کے نز دیک وہ بڑاہی قابل قدر ہے ،جس کے ہا تھ اور زبا ن سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے ۔۔۔ تا ریخ شا ہد ہے کہ آپ کے جا نثا روں کو جب بھی ستا یا گیا تو آپؐ نے انہیں ہمیشہ صبر ہی کی تلقین فرمائی ۔۔۔ بلکہ آپ ﷺ تو ایسے کر یم تھے کہ تکلیف پہنچا نے والو ں کیلئے ہد ایت کی دعا فرما تے تھے، آپﷺ کے اخلا ق عالیہ کا یہ عالم تھا کہ اس کی بدولت جہنم کے راستے پر چلتے لو گ جنتی بن گئے ۔۔۔تکمیل دین کے مو قع پر آپ ﷺ نے قیا مت تک کیلئے پو ری انسا نیت کو مخا طب ہو کر فرما یا : اے لو گو : آج کے بعد ایک دو سرے کے جا ن وما ل ٗ عز ت و آبر و کی حفاظت کو تم پر فرض کر دیا گیا ہے ،کیو نکہ تم سب ایک آدم علیہ السلام کی اولا د ہو۔۔۔ اوردیکھو میں بھی ایک انسان ہو ں ، آدم کا بیٹا ہو ں ۔۔۔ممکن ہے کہ کبھی مجھ سے بھی کسی کے اوپر زیا دتی ہو گئی ہو ۔۔۔آج میں تمہا رے سامنے موجو د ہوں،حاضر ہوں ،شاید اس کے بعد یہ مو قع نہ آئے ،لہذا جو چاہتاہے وہ آج مجھ سے بدلہ لے سکتا ہے کیو نکہ میں قیا مت کے روز محشر کی سختی سے ڈرتا ہو ں ۔ قا رئین کرام !ذرا تصو رمیں لا ئیے کہ جس ہستی نے انسا نو ں کو بھائی چا رے اور مسا وات کا ابدی سبق دے کر خو د اس پر عمل کر کے دکھا یا ۔۔۔اس مقد س اور پا ک طینت ہستی کے خلا ف ، جو بلا شبہ دنیا کے کا میا ب تر ین انسا ن ہو نے کا شر ف رکھتی ہے ۔ جبکہ پو ری دنیا کے کا فر بھی اس کے اخلا ق کر یمہ کے معترف ہیں ۔۔۔ایسے میں چندسر پھرے صہیونی گماشتے اس ہستی کے خلا ف گستا خا نہ کا رٹون شائع کرکے اس کی عز ت و نا موس کے سا تھ کھلواڑ کرنے کے ملعون عمل کوآزادئ اظہارسے موسوم کر یں تو صاف ظاہر ہے کہ ان کا یہ مکروہ عمل حقیقت میں مسلم دنیا کواشتعال میں لانے اور انھیں تشدّدپراکسانے کی گھناؤنی سازش ہے۔۔۔ بلاشبہ ایسے واقعات پر مسلمانو ں کا اشتعال میں آجاناایک قدرتی امر ہے۔کیونکہ ہر مسلمان اپنی جان ٗاپنی عزّت اورجان سے بڑھ کر حتّی کہ اپنے ماں باپ اور اپنی اولاد سے بھی زیادہ اپنے پیارے نبی ﷺ کو عزیز رکھتا ہے ۔جیسا کہ بقول ِ کَسے: نہ جب تک کٹ مروں میں خا جہء یثر ب کی حر مت پر خدا شاہد ہے کامل میرا ایما ن ہو نہیں سکتا لیکن قارئین محترم ! آج ہم تا ریخ انسا نیت کے جس نا ز ک تر ین مو ڑ پر کھڑے ہیں، اس کا تقا ضا یہ ہے کہ ہم کسی بھی طر ح سے اپنے جذبا ت کو بے قا بو نہ ہونے دیں ۔۔۔اپنے اخلا ق ٗاپنے کردا ر ٗ اور اپنے معاملات کے ذریعے امتیازسے پیداشدہ فاصلوں کو کم کر کے انسا نیت کے نا تے ان چند نا عا قبت اندیشو ں کو جہنم کے راستے سے بچا کر جنت والے راستے پر لے جا نے کی کو شش کر یں ۔۔۔اپنے آقائے نامدار تاجدارِ مدینہ کے طریقہ کار ٗ اور سیرت کو اپنی زندگی کا حصہ بنا ئیں ۔۔۔تو ڑپھوڑ۔۔۔ مار دھا ڑ ۔۔۔نفر ت آمیز اور اشتعال انگیز کا روائیوں سے گریزکر یں ۔دنیا کے امن کو تاخت وتا راج ہو نے سے بچا ئیں ۔۔۔ڈائیلا گ کے ذریعے ان بے چا روں اور بے راہرووں پر مذہبِ اسلام کی حقانیت واضح کر یں ۔قرآن کے حکم \"موعظۃ حسنۃ \"کے تحت احسن طر یقے سے ان کو وعظ کر یں پھر آپ ان شا ء اللہ یدخلون فی دین اللّہ افو اجا کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے ۔۔۔کہ لو گ جوق در جو ق اسلا م میں ایسے داخل ہو نگے کہ آپ کی عقلیں دم بخود رہ جا ئیں گی کیو نکہ اسلام رو ز اوّل ہی سے شدید تر مخالفتو ں اور محا ذ آرا ئیو ں کے باوجود آپ ﷺکے اخلا ق کریمانہ کی بدولت پھیلا ہے اور پھیلتا رہے گا۔۔۔ویسے بھی تاریخِ انسانیت نے نفرتوں کے الاؤ میں محبت و اخوّ ت کے پھول کھلتے کبھی نہیں دیکھے ۔ وما علینا الا البلاغ

مزید : کالم