حکومت کی ناکامی

حکومت کی ناکامی
 حکومت کی ناکامی

  

 تیسری بار وزارتِ عظمیٰ کا حلف اُٹھانے کے بعد محمد نوازشریف بہت زیادہ سنجیدہ نظر آئے، ان دنوں ملک کے حالات بھی بہت اچھے نہیں تو بہت زیادہ خراب بھی نہیں تھے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت رخصت ہو چکی تھی اور عوامی سطح پر ملک کے تمام تر مسائل کی ذمہ داری پیپلزپارٹی کے کھاتے میں ڈال دی گئی تھی۔ نوازشریف کے کاندھوں پر سوائے وزارت عظمیٰ کے بوجھ کے اور کوئی بوجھ بھی نہیں تھا، مگر وہ بجھے بجھے سے نظر آتے تھے، حالانکہ ان دنوں عمران خان بستر علالت پر تھے اور انہوں نے جیسے تیسے نوازشریف کی حکومت کو تسلیم بھی کر لیا تھا، البتہ انہوں نے چند حلقوں کے حوالے سے دھاندلی کے الزامات لگاتے ہوئے انکوائری کا مطالبہ کیا تھا، نواز شریف ان دنوں مختلف صوبائی حکومتوں کے قیام کے حوالے سے مختلف سیاسی رہنماؤں کے ساتھ رابطے کر رہے تھے۔ مولانا فضل الرحمن کی خواہش تھی کہ خیبر پختونخوا میں نواز شریف ان کی حمایت کریں تاکہ وہاں وہ اپنی جماعت کی حکومت بنا سکیں، مگر نواز شریف نے نہ صرف یہ کہ خیبرپختونخوا، بلکہ بلوچستان اور سندھ میں بھی مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں کو خاموش رہنے کا حکم دے دیا، البتہ پنجاب میں بھاری اکثریت مسلم لیگ (ن) کے پاس تھی اور یہاں شہباز شریف کی حکومت قائم ہونے میں کسی مشکل کا سامنا نہیں تھا۔ مولانا فضل الرحمن کے بار بار کے رابطے اور مطالبے کے باوجود نوازشریف نے کے پی کے میں تحریک انصاف کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے خاموشی اختیار کئے رکھی۔ اس سب کے باوجود تمام لوگوں اور اخبار نویسوں کے درمیان یہ بحث چلتی رہی کہ آخر نوازشریف کو کیا ایسی پریشانی ہے کہ وہ بالکل خاموش اور اتنے سنجیدہ سنجیدہ نظر آ رہے ہیں۔ بعض حلقوں کا خیال تھا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے جو لوٹ مار کی ہے۔ اس کے بعد معاشی طور پر ملک کے حالات بہت خراب ہیں نواز شریف ان برے حالات کے حوالے سے بہت پریشان ہیں اور وہ دن رات ان سوچوں میں گم ہیں کہ مُلک کے حالات کیسے ٹھیک کئے جائیں ان حالات نے انہیں ذہنی طور پر بہت پریشان کر دیا ہے۔ اس طرح کی خبروں سے عوام میں یہ پیغام گیا کہ نواز شریف واقعی قوم کے مسائل کی وجہ سے پریشان ہیں مگر ان ہی دنوں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے ایک ٹویٹ کے ذریعے قوم کو بتایا کہ نواز شریف کے سینے میں انفیکشن ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے وہ تکلیف میں ہیں، لہٰذا قوم کو گھبرانے یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس ٹویٹ کے چند روز بعد نواز شریف ایک بار پھر مسکراتے اور قہقہے لگاتے نظر آئے، سو ان کے حوالے سے یہ تاثر بھی غائب ہو گیا کہ وہ قوم کے غم میں پریشان ہیں، بلکہ لوگوں کے علم میں یہ بات آئی کہ وہ چھاتی میں انفیکشن کی وجہ سے پریشان تھے۔وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کو امید بندھی کہ اب مُلک کے معاشی حالات بہتر ہوں گے اور نواز شریف کچھ نہ کچھ کریں گے ضرور۔ بجلی کے بحران کے حوالے سے بھی لوگ پریشان تھے۔ نواز شریف حکومت نے بجلی کی پیداوار کے حوالے سے کئی نئے بجلی گھر بنانے کا کام شروع کر دیا۔ وہ ابھی سنبھل نہ پائے تھے کہ عمران خان نے دھرنا تحریک چلانے کا اعلان کر دیا۔ عمران خان کے ساتھ ڈاکٹر طاہر القادری بھی میدان میں آ گئے، ان دونوں لیڈروں نے تین ماہ تک حکومت کو اپنی گرفت میں جکڑے رکھا، حکومتی سطح پر عوام کو یہ تاثر دیا جانے لگا کہ حکومت عوامی بھلائی کے پروگرام آگے بڑھانا چاہتی ہے، مگر ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کے دھرنے کی وجہ سے ملکی معیشت کا پہیہ جام ہو چکا ہے۔  گو کہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کا دھرنا ان کا عوامی حق تھا، مگر مُلک کے سنجیدہ طبقات نے اس دھرنے کو پسند نہ کیا، خود ہم نے بھی دھرنے کے حوالے سے بہت سخت تنقید کی۔ادھر حکومت کو یہ فائدہ ہوا کہ معاشی ترقی کے حوالے سے جو بھی نقصان نظر آیا اس کا ملبہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری پر ڈال دیا گیا، حکومت کے علاوہ عام شہری بھی دھرنے کے بارے میں بہت غصے میں نظر آئے اس دوران بہت کوشش کی گئی کہ کسی طرح دھرنا ختم کرایا جائے۔ حکومت کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی بہت کوشش کی، نتیجتاً ڈاکٹر طاہر القادری اپنا دھرنا سمیٹ کر ایک بار پھر کینیڈا روانہ ہو گئے، وہ اب کینیڈا میں بیٹھ کر بیان بازی تو کرتے رہتے ہیں، مگر حکومت کے لئے کوئی بڑی مشکل پیدا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ عمران خان ڈاکٹر طاہر القادری کے بغیر بھی دھرنا دیئے بیٹھے رہے اس دوران پشاور کے سکول میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد جو صورت حال پیش آئی۔ عمران خان نے حالات کی سنگینی کا اعتراف کرتے ہوئے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اب عمران خان دھرناختم کرنے کے بعد شادی بھی کر چکے ہیں۔ (وہ عمرے پر بھی جا چکے ہیں) اور ممکن ہے کہ عمرے کی ادائیگی کے بعد وہ ’’ہنی مون‘‘ کے لئے لندن بھی چلے جائیں، ان کی سابق بیگم نے بھی انہیں اپنے گھر آنے کی دعوت دی ہے۔ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے بعد اب حکومت کے سامنے کسی بھی قسم کی کوئی باقاعدہ ’’اپوزیشن‘‘ موجود نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حکومت اگر نیک نیتی کے ساتھ عوام کی خدمت کرنا چاہے تو وہ مکمل طور پر آزاد ہے، مگر بدقسمتی سے حکومت خود اپنے آپ کو ’’خراب‘‘ کرنے پر تلی ہوئی ہے، بجلی کا بحران ابھی تک جاری ہے، ظلم یہ ہے کہ دسمبر اور جنوری جیسے سرد موسم میں بھی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ چل رہا ہے۔ بجلی کے علاوہ گیس کی حالت بھی خراب ہے، گاڑیوں کو کیا خاک گیس ملے گی، یہاں تو لوگوں کے گھروں میں چولہا جلانے کے لئے گیس نہیں ہے۔ ہم کراچی کے حالات کا بہت رونا روتے ہیں، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ لاہور اور پنجاب میں جرائم کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا۔ خود وزیراعلیٰ پنجاب کی ناک کے نیچے، یعنی لاہور شہر میں روزانہ درجنوں چوریوں، ڈکیتیوں کی وارداتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ ڈاکو اور چور نہ صرف یہ کہ لوگوں کا مال لوٹنے میں مصروف ہیں، بلکہ عام دیکھنے اور سننے میں آ رہا ہے کہ یہ چوری یا ڈاکہ ڈالتے وقت کسی بھی قسم کی مزاحمت کے جواب میں لوگوں کو قتل بھی کر دیتے ہیں اور یہ سلسلہ شب و روز جاری ہے، سو اب اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کی طرح اب پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کے انتظامی دبدبے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ شہباز شریف کی شخصیت میں وہ انتظامی دبدبہ نظر نہیں آیا، جس کے بارے میں وہ مشہور ہیں۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اب اخبارات کا مطالعہ بالکل نہیں کرتے۔ انہیں جو کچھ بتایا جاتا ہے وہ اس پر یقین کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور اور پنجاب کے عوام ان کی موجودہ کارکردگی سے بالکل مطمئن نہیں ہیں۔ پنجاب کے علاوہ وفاقی حکومت بھی تقریباً تقریباً ناکام نظر آتی ہے۔ اس وقت پٹرول کے حوالے سے پنجاب کی جو صورت حال بنی ہوئی ہے یہ کسی طور پر بھی حکومت کی اہلیت کو ثابت نہیں کرتی، لوگ پٹرول پمپوں پر ذلیل و خوار ہو گئے تھے۔ پٹرول کی قلت نے جہاں حکومت مخالف رویہ پیدا کیا ہے وہاں مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت میں بھی کمی ہوئی ہے۔ گو کہ دہشت گردوں کے خلاف قومی سطح پر جو مہم چلائی جا رہی ہے وہ بہت ضروری ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عوامی خدمت کے دیگر کام غیر ضروری ہیں، دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ بجلی، گیس اور پٹرول کے علاوہ روزمرہ کی اشیاء کو کنٹرول کرنا بھی حکومت کے فرائض میں شامل ہے۔حکومت کو اب سستی اور کاہلی سے نجات حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید : کالم