متاثرین شمالی وزیرستان کی گھروں کو واپسی!

متاثرین شمالی وزیرستان کی گھروں کو واپسی!

سرحدی امور کے وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے بتایا ہے کہ شمالی وزیرستان کے متاثرین کی اپنے گھروں میں واپسی اگلے ماہ سے شروع ہو گی اور ان کو مرحلہ وار بھجوایا جائے گا کہ وہ اپنے گھروں میں آباد ہو سکیں۔ وزیر موصوف نے یہ بھی کہا کہ اس آباد کاری کے لئے ایک سو ارب روپے کی ضرورت ہو گی، حکومت کے پاس اتنی بڑی رقم نہیں ہے، اس کے لئے مُلک کے مخیر حضرات کو بھی تعاون کرنا ہو گا۔وزیر سرحدی امور نے یہ بات ایک پریس کانفرنس میں کہی، جو قومی ایکشن پلان کے حوالے سے ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد کی گئی۔ انہوں نے اجلاس کے فیصلے کے حوالے ہی سے یہ بات بتائی۔شمالی وزیرستان کے باسی دہشت گردوں کے خلاف فوجی کارروائی (آپریشن ضربِ عضب) کی وجہ سے بے گھر ہوئے تھے ان کی تعداد ابتدا میں سات لاکھ تھی،جو بعد میں بڑھ کر قریباً 10لاکھ ہو گئی تھی۔ بنوں اور گردو نواح میں قائم کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور تھی۔ ان میں سے تھوڑے لوگ ایسے تھے، جو اپنے اعزہ کے مہمان ہوئے ورنہ باقی سب کیمپوں میں مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔ جب سے فوجی حکام نے علاقہ کلیئر ہونے کی اطلاع دی تب سے وہ واپسی کے لئے مطالبہ کر رہے تھے۔ پاک فوج کے مطابق90فیصد سے زیادہ علاقہ صاف کرا لیا گیا اور یہاں سے دہشت گرد فرار ہو کر سرحدی علاقوں تک پھیل گئے اور اب ان کا پیچھا کیا جا رہا ہے، ان بے گھر افراد کی واپسی میں تھوڑی تاخیر کی گئی کہ علاقے میں دہشت گردوں کو فارغ کرنے کے عمل میں مکمل یقین حاصل کر لیا جائے اور اب یہ ہو چکا ہے۔ آپریشن ضربِ عضب شروع ہوا تو خالی دیہات میں بھی کارروائی کی گئی، ہوائی حملوں کی وجہ سے مکانات بھی مسمار ہوئے اور مکینوں کو اپنا مال و اسباب بھی چھوڑنا پڑا۔ اب یہ حضرات واپس جائیں گے، تو ان کو نئے مسائل کا سامنا ہو گا، نہ صرف گھروں کی تعمیر نو لازم ہو گی، بلکہ گھر کے لئے ضرورت کی اشیاء بھی درکار ہوں گی۔ حکومت نے ان کے لئے فی الحال تو سرکاری ذرائع استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم ساتھ ہی ساتھ تعاون بھی طلب کیا جا رہا ہے۔ان بے گھر افراد نے یہ قربانی پاکستان کے لئے دی اور اب وہ بھی جوابی تعاون کے منتظر ہیں اور یہ ان کا جائز حق ہے کہ ان کی قربانیوں کو سراہا جائے اور ان کو پھر سے اُسی طرح آباد کیا جائے جیسے وہ رہ رہے تھے، ان حضرات کی قربانیوں کو خراج تحسین کی ضرورت ہے اور پوری قوم کو کرنا چاہئے۔ حکومت اور فوج نے ہر مرحلے پر یہ یقین دلایا تھا کہ ان بے گھر افراد کے مسائل اور پریشانیوں کا ازالہ کیا جائے گا اب وقت آ گیا کہ ایسا کِیا جائے، اس میں کوئی کوتاہی نہیں ہونا چاہئے۔

مزید : اداریہ