یکطرفہ کارروائی کا حق کسی کو نہیں ہے

یکطرفہ کارروائی کا حق کسی کو نہیں ہے

 امریکی صدر باراک اوبامہ نے اپنے ’’سٹیٹ آف دی یونین‘‘ خطاب میں کہا ہے کہ وہ پاکستان میں پشاور سکول پر حملے سے لے کر پیرس تک دہشت گردی کا شکار ہونے والے متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔وہ دہشت گردوں کے تعاقب اور ان کے نیٹ ورک کے خاتمے کے لئے یکطرفہ کارروائی کا حق رکھتے ہیں،جہاں بھی خطرہ محسوس ہواوہاں امریکہ کارروائی کرے گا۔ گزشتہ 13برس میں انہوں نے بہت کچھ سیکھا ہے، ان کی دو نسلوں نے خطرناک اور مہنگی جنگیں لڑیں۔ انہوں نے افغانستان میں امریکی مشن کو مکمل قرار دیا اور کہا کہ اب بیرون ملک زمینی جنگوں میں براہ راست شمولیت کی بجائے مقامی افواج کو تربیت اور امداد کی فراہمی پر توجہ مرکوزکی جائے گی۔ جنگوں اور امریکی معاشی بدحالی کا دور ختم ہوچکا اور ملک کی معاشی صورت حال بہتر ہو چکی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ایک اور زمینی جنگ میں شمولیت کی بجائے مربوط اتحاد قائم کرلیاگیا ہے۔ عراق اور شام میں داعش کی پیش قدمی روک دی ،البتہ خطے میں دہشت گردی کے خاتمے میں وقت لگے گا اور اگر کانگریس داعش کے خلاف طاقت کے استعمال کی اجازت دے تو متحد ہو کر مقابلہ کریں گے۔ بڑے ممالک کو چھوٹی ریاستوں کو خوفزدہ نہیں کرنے دیں گے۔انہوں نے روسی جارحیت کی مخالفت اور یوکرائن میں جمہوریت کی حمایت بھی کی ۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر روس پر پابندیاں عائد کیں اوراسے تنہا کردیا ، اب اسے معاشی بدحالی کا سامنا ہے۔ ایران پر مزید پابندیوں کی انہوں نے مخالفت کی ،ایران کے ساتھ جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات کی کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں اور تہران کو ایٹمی قوت بنانے سے روکنے کے لئے تمام راستے کھلے ہیں۔انہوں نے دنیا میں دوبارہ یہودیوں کی بڑھتی ہوئی مخالفت کی مذمت اورآزادی اظہار رائے کی حمایت کا اعلان بھی کیا۔ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے حوالے سے (مغرب میں پایا جانے والا) تاثر گمراہ کن ہے،ان کی اکثریت امن کی حامی ہے۔اوباما نے گوانتانامو میں موجود جیل کو بند کرنے کا عزم دہرایا گو کہ انہوں نے اپنے پہلے ’’سٹیٹ آف دی یونین‘‘ خطاب میں بھی یہ قیدخانہ بند کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ابھی تک اس پر عمل در آمد نہیں ہو سکا اور اب بھی وہاں 122 افراد قید ہیں۔ باراک اوبامہ کے اس دعوے میں تو سچائی ہے کہ امریکی معیشت مضبوط ہو ئی ہے۔ پچھلے دس سال میں اس وقت امریکی معیشت بہت مستحکم ہو چکی ہے اوروہاں ترقی کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے۔ اوبامہ نے جب 2009ء میں اقتدار سنبھالا تو معیشت دگرگوں تھی اور بنکوں سمیت کئی چھوٹے بڑے کاروبار دیوالیہ ہو رہے تھے۔ اوبامہ حکومت نے دیوالیہ ہوتے اداروں کو سنبھالا دینے کے لیے ٹی آر پی (ٹربلڈایسیٹ ریلیف پروگرام،جو کہ پچھلے ماہ ختم ہو گیا ہے) شروع کیا۔ اوبامہ کا یہ پروگرام توقعات کے برعکس کامیاب رہا اور حکومت نے اس سے اختتام تک 15ارب ڈالر منافع کمایا۔ 2009ء میں قریباً آٹھ لاکھ افراد بیروزگار تھے اور بیروزگاری کی شرح 10فیصد تھی جو اب کم ہو کر 5.6 فیصد رہ گئی ہے۔جی ڈی پی خسارے کی شرح 9.8فیصد سے کم ہو کر2.8 فیصد تک رہ گئی ہے۔زیادہ تر معیشت دان اوبامہ حکومت کی معاشی اصلاحات سے مطمئن نظر آتے ہیں اور انہیں کامیاب قرار دیتے ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے اِسی کامیابی نے ان کے اعتماد میں بھی بے پناہ اضافہ کر دیا ہے، وہ ’واحد طاقت‘ کے زعم میں مبتلا ہیں۔انہوں نے اپنے خطاب سے یہی تاثر دینے کی کوشش کی کہ پوری دنیا ان کی مٹھی میں ہے، وہ جب چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے جا دھمکیں گے۔ ویسے اگر وہ یہ تنبیہ نہ بھی کرتے تو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کیونکہ اس سے پہلے بھی امریکہ یکطرفہ کارروائیاں کرتا رہا ہے۔ نائن الیون نے جیسے امریکہ کو دنیا بھر میں حملوں کا لائسنس جاری کر دیا ہو، اس واقعے کے فوراً بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر دیا گو کہ اس حملے کے لئے اس کو سکیورٹی کونسل کی حمایت حاصل تھی اور ایک خیال یہ بھی ہے کہ اگر افغانستان اسامہ بن لادن کو کسی تیسرے فریق کے حوالے کر دیتا تو یہ حالات پیدا نہ ہوتے۔بہر حال وہاں پر تیرہ سال تک امریکی اور نیٹو فورسز نے جنگ جاری رکھنے کے بعد بالآخر 2014 ء کے آخر میں مشن مکمل ہونے کا اعلان کردیا۔ان کا مشن تو مکمل ہو گیا لیکن افغانستان سے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہو سکا، بلکہ پاکستان بھی اس کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ افغانستان کے بعد امریکہ نے ڈنکے کی چوٹ عراق پر حملہ کردیا، اس حملے کے لئے تو امریکہ کو سیکیورٹی کونسل کا ساتھ بھی میسر نہیں تھا۔یہ کھلی دہشت گردی تھی، لیکن اس کا ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں تھا،ہزاروں لوگ جان سے گئے، زخمی ہوئے اور زندگی بھر کے لئے محتاج ہو گئے۔ پاکستان میں مئی 2011ء میں اپنا حق سمجھتے ہوئے ایبٹ آباد میں آپریشن کیا اور اسامہ بن لادن کو مار دینے کا دعویٰ کیا، اس سارے آپریشن کی پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کو ہوا بھی نہیں لگنے دی گئی۔امریکہ کی طرف سے ڈرون حملے بھی جاری ہیں، اب تو ان کے خلاف کوئی پُر زور آواز بھی بلند نہیں کرتا۔ چند روز قبل معروف دانشور نوم چومسکی نے سی این این کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے تجزیئے میں امریکی ڈرون حملوں کو دہشت گردی قرار دیاتھا۔’ویت نام سنڈروم ‘ نے بڑے عرصے تک امریکہ کا پیچھا کیا،ویت نام میں 120ارب ڈالر جھونکنے کے باوجود ناکامی کے بعد امریکہ نے توبہ کر لی تھی کہ وہ کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر اپنی فوجی طاقت کا استعمال نہیں کرے گا، لیکن مختلف ممالک میں بالواسطہ یا بلا واسطہ وہ طاقت کے استعمال سے باز نہیں آیا۔ عرب ممالک میں امریکی کردار سب کے سامنے ہے، شام اور لیبیا سمیت دیگر ممالک میں جاری مسلح و غیر مسلح جدوجہد میں امریکی تعاون پوشیدہ نہیں ہے۔ اب جو امریکہ نے اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لانے کا اعلان کیا ہے کہ اس کی فوجیں بیرون ملک زمینی جنگ میں براہ راست ملوث نہیں ہوں گی بلکہ مقامی افواج کی تربیت اور امدادکی جائے گی تو یہ بھی کوئی خسارے کا سودا نہیں ہے۔ کچھ عرصہ پہلے امریکی سینیٹ میں ایک سماعت کے دوران پینٹاگون کے ڈائریکٹر نے ایک سینیٹر کے سوال کے جواب میں بتایا تھا کہ افغانستان میں ایک امریکی فوجی پر آٹھ لاکھ ڈالرسالانہ خرچ ہوتے ہیں، جبکہ سنٹرآف سٹرٹیجک سٹڈیز کا کہنا ہے کہ یہ خرچہ 14لاکھ ڈالر سالانہ ہے، ایک افغان فوج کے تربیت یافتہ سپاہی کو 230سے240 ڈالر ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے، جو تقریباً تین ہزار ڈالر سالانہ بنتی ہے۔پاکستان کو فوجی امداد میں ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ ادا کئے جاتے ہیں،اس پربھی امریکی کانگریس، سینیٹ اور اخبارات میں ایک شور مچ جاتا ہے، بھارت بھی حتی المقدور ہنگامہ مچاتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ پاکستان پر احسانِ عظیم کیا جا رہا ہے۔امریکہ کی دو نسلوں نے مہنگی جنگیں لڑ لی ہیں، اس لئے سستی جنگ لڑنے کے فارمولا پر زور دیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ دھمکا بھی دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر وہ کہیں بھی یکطرفہ کارروائی کر سکتے ہیں۔ امریکہ کو چاہئے کہ وہ اپنے رویے پر غور کرے، ترقی پذیر ممالک کا ہاتھ تھامے، ان کے لئے ترقی کی راہ ہموار کرے اور لوگوں کی فلاح و بہبود پر توجہ دے،اس سے اسے زیادہ افاقہ ہوگا۔ معیشت مضبوط ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ پوری دنیا کا مالک بن چکا ہے، امریکہ کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ کسی بھی صورت حال میں اسے یکطرفہ کاروائی کا حق حاصل نہیں ہو سکتا،دہشت گردی ہر حال میں دہشت گردی ہے، چاہے اس کا مرتکب کوئی بھی ہو۔

مزید : اداریہ