کرائے کے لائسنس پر میڈیکل سٹور کھلولنے کا کاروبار: کارروائی خود کریں گے، ڈی سی او

کرائے کے لائسنس پر میڈیکل سٹور کھلولنے کا کاروبار: کارروائی خود کریں گے، ڈی ...

لاہور(جاوید اقبال)صوبائی دارالحکومت میں کرائے کی اسناد اور کرائے کے ڈرگ سیلز لائسنس پر فارمیسیاں اور میڈیکل سٹور کھولنے کا دھندا عروج پر پہنچ گیا ہے اس غیر قانونی دھندے میں کمیشن ایجنٹ کے فرائض ضلع لاہور کے ڈرگ انسپکٹراور ڈرگ سیلز برانچ کا کلیریکل سٹاف ادا کر رہا ہے جو میڈیکل سٹور اور فارمیسی کھولنے والے کو 50ہزار سے تین لاکھ سالانہ تک یہ سہولت فراہم کرتا ہے جو مختلف ڈسپنسروں ،کیٹیگری بی سی اور فارم بی رکھنے والے بیروز گاروں، پرائیوٹ اور سرکاری سیکٹر میں ملازمت کرنیوالوں کی اسناد حاصل کر تا ہے اور ان سے ففٹی ففٹی پر معاملات طے پا کر ان لوگوں کی اسناد پر ڈرگ سیلز لائسنس جاری کر کے یہ غیر قانونی دھندا کر ا رہا ہے رپورٹ کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں اس وقت 70فیصد میڈیکل سٹورز اور فارمیسیاں کرائے کے ڈرگ سیلز لائسنس پر چلائی جا رہی ہیں ۔تفصیلات کے مطابق میڈیکل سٹور یا فارمیسی کھولنے کیلئے کوالیفائیڈ پرسن کا ہونا اور ہر مالک کے لئے اپنا ڈرگ سیلز لائسنس ہونا ضروری ہے جس کیلئے میڈیکل سٹور کھولنے والا کیٹیگری بی سی یا فارماسسٹ ہونا ضروری ہے مگر یہ کمی محکمہ صحت لاہور نے پوری کر دی ہے ۔شہر میں معروف اور غیر معروف میڈیکل سٹورز اور فارمیسیوں پر کوالیفائیڈ پرسن موجود نہیں۔90فیصد سے زائد میڈیکل سٹورز اور فارمیسیاں کوالیفائیڈ لوگوں کے بغیر چلائی جا رہی ہیں ۔ڈرگ ایکٹ کے مطابق یہ کھلم کھلا قوانین کی خلاف ورزی ہے اور ایسا کرنا خلاف قانون ہے اور ڈرگ ایکٹ کا مذاق اڑنے کے مطابق ہے اس حوالے سے ڈی سی او لاہور کا کہنا ہے کہ معاملہ علم میں نہیں ہے ایساکرنا خلاف قانون ہے اور قانون میں سزا بھی موجود ہے ایسا کرنیوالوں کیخلاف قانون حرکت میں آئے گا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1