پڑھے لکھے ہیں نا!

پڑھے لکھے ہیں نا!
 پڑھے لکھے ہیں نا!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کل لبرٹی چوک سے گزرتے ہوئے گاڑیوں کا غیر معمولی رش دیکھ کر بڑی مشکل سے راستہ تلاش کرنے میں کامیاب ہوا ہی تھا کہ کیا دیکھتا ہوں کہ بیچ سڑک کے ایک صاحب جو اپنی وضع قطع اور زبان سے خاصے پڑھے لکھے لگ رہے تھے، ایک کالی ہنڈا کے بزرگ ڈرائیور پر برس رہے تھے جب یہ حربہ کامیاب نہ ہوا تو انہوں نے کالی ہنڈا کا دروازہ زور سے کھینچ کر مارا اور گالیاں برساتے روانہ ہوئے، گاڑی پر لگے سٹیکرز سے معلوم ہوا موصوف کا تعلق کسی ملٹی نیشنل سے ہے ہوسکتا ہے کوئی منیجر وغیرہ ہوں۔۔۔ معلوم ہوا کہ کالی گاڑی سے اُن کی گاڑی کو صرف ایک خراش آئی تھی جس پر انہوں نے طوفان برپا کردیا اور جن کو وہ للکار رہے تھے وہ غالباً اُن کے والد صاحب کی عمر کے ہوں گے، وہ اہل خانہ کے ساتھ گاڑی میں بیٹھے رہے اور یہ سب مغلظات اُن کو اہل خانہ کے سامنے سننا پڑیں، وہ صرف اتنا کہہ پائے بھئی میں مرمت کروادیتا ہوں، پر سنا کس نے تھا؟ خیر جگہ ملتے ہی ہم نے گاڑی نکالی کہ جان چھٹی سو لاکھوں پائے پر یہ کیا کالی گاڑی والے بزرگ شہری کا ایک جملہ اُڑ کر بہت تھوڑی سے کھلی کھڑکی کے راستے ہماری سماعت سے ٹکرایا ’’پڑھے لکھے ہیں نا‘‘ اور خیالات کی ہلچل نے چین نہ لینے دیا۔ وہ بزرگ نمناک آنکھوں سے اتنی تذلیل سہنے کے بعد ٹھیک ہی تو کہہ رہے تھے۔ اس ملک میں چینی کا بحران، آٹے کا بحران اور اس سے پہلے سیمنٹ، پیاز، ٹماٹر کا بحران اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والے راتوں رات امیر بننے والے بھی تو پڑھے لکھے ہیں نا۔ ہر محکمے میں ہر دو نمبر کام کے ریٹ مقرر کرنے والے نیچے سے اوپر تک ماہانہ مقرر کرنے والے بھی تو پڑھے لکھے ہیں نا۔ مجرموں کو چھوڑنے اور بے گناہوں کو سزا دینے والے اور دلوانے والے بھی تو پڑھے لکھے ہیں نا۔ مریض کو صحیح مشورہ دینے کی بجائے اپنی کمائی کا ذریعہ بنانے والے بھی تو پڑھے لکھے ہیں نا۔ ٹیکس کا نظام مشکل بنا کر اپنا حصہ لے کر چور راستے بتانے والے بھی تو پڑھے لکھے ہیں نا۔ عوام کو بے وقوف بنا کر، جھوٹے خواب دکھا کر لوٹنے والے بھی تو پڑھے لکھے ہیں نا! پوری قوم کی سوچ بدلنے والے، حقائق چھپانے اور نان ایشو کو ایشو بنا کر ریٹنگ بڑھانے والے بھی تو پڑھے لکھے ہیں نا! ۔۔۔ ذہن نے سوال کیا بھلا ایسا کیوں ہے؟ علم تو روشنی ہے نور ہے ۔۔۔ حسنات تک پہنچنے کا راستہ ہے تو علامہ اقبال سے جواب ملا تربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیں جس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیں حکیم سعید سے جواب ملا دولت اور طاقت وحشی جانور کی طرح ہیں، انہیں شکر کی زنجیروں میں قید رکھنا چاہیے۔ بانو قدسیہ سے جواب ملا حرام کو جزو بدن بنا کر خیر کی اُمید سعئی لا حاصل ہے۔ یہ اثر تو نسلوں اور صدیوں تک انسانی جینز اور خلیوں میں سرایت کرکے سفر کرتا ہے۔ تو معلوم ہوا علم ہونا کافی نہیں ۔۔۔ وہ والدین بھی ضروری ہیں جو بچوں کی تربیت کے لئے خود نفس کشی کریں۔ بچہ کسی سے لڑ کر آئے تو اس کے لاڈ میں اس کے ہمنوا بننے کی بجائے اس کی اصلاح کریں اُسے ٹوکیں، اُسے بڑوں کا ادب سکھائیں۔۔۔ آنے والی نسل کی بہتری کے لئے حلال تک محدود رہیں ۔۔۔ اگر ایسا نہیں ہوگا تو بیچ سڑک کے چوراہے میں جو کچھ ہوا ہوتا رہے گا کیونکہ ہر تعلیم یافتہ کا تربیت یافتہ اور تہذیب یافتہ ہونا ضروری نہیں سند یافتہ ہونا ضروری ہے۔

مزید : کالم