دہشتگردی کے خاتمے کےلئے مضبوط لیڈرشپ کی ضرورت ہے، خالد مقبول

دہشتگردی کے خاتمے کےلئے مضبوط لیڈرشپ کی ضرورت ہے، خالد مقبول

لاہور(خبر نگار خصوصی) سابق گورنر پنجاب خالد مقبول نے کہا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ جیتنے کےلئے امن اور انسانیت کے موضوعات نصاب میں شامل کرنے چاہیں۔ملک میں جاری دہشتگردی کے خاتمے کےلئے مضبوط لیڈرشپ اور طاقتور سوسائٹی کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے پنجابی کلچرل کمپلیکس میں انفارمیشن اینڈ کلچر ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام” قومی دہشتگردی اور حل“ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں خطاب کے دوران کیا۔دیگر مقررین میں تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود نے کہا کہ سانحہ پشاور جیسے افسوسناک واقعہ سے قبل ہی قوم کو اکٹھا ہو جانا چاہیے۔ہر معاشرے میں شدت پسند لوگ ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں مسلح کرنے کیوجہ سے آج ملک دہشتگردی کا شکا ر بنا ہوا ہے۔اچھے برے طالبان کی تمیز ختم کرنے،مسلح جتھوں کی حوصلہ شکنی اور فوجی عدالتوں کے قیام سے پاکستان کو پر امن بنانے میں آسانی ہو گی۔پیپلز پارٹی کے رہنما نوید چوہدری نے کہا کہ دہشتگردی غیر منتخب قوتوں کا بویا ہوا بیج ہے۔ ملک میں قیام امن کےلئے سوچ فکر اور رویے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان علماءکونسل کے سربراہ مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ اچھے اور برے طالبان کی تمیز کے خاتمے پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔پاکستان سے دہشتگردی کو ختم کرنے کی تمام تر ذمہ داری فوج پر چھوڑنا درست نہیں،قوم کو متحد ہو کر کردار ادا کرنا چاہیے۔مولانا راغب نعیمی نے کہا کہ معصوم لوگوں کا مذہب کے نام پر قتل عام دہشتگردوں کا بیانیہ ہے۔دہشتگردی کو پنجے گاڑنے سے پہلے ختم کرنا چاہیے تھاملک میں قاتل کو سزا ملنی چاہیے۔فتوی جاری کرنا کسی فرد کی نہیں ریاست کی ذمہ داری ہے۔معروف ادیب و کالم نگارعطالحق قاسمی نے کہا حکومت کو ملک میں دہشتگردی کے خاتمے کےلئے اسلام کاچہرہ مسخ کرنیوالی کتابوں اور خطیبوں کا بھی صفایا کرنا چاہیے ۔جنرل راحیل شریف جیسے بہادر اور سنجیدہ آرمی چیف کی کاوشوں سے لگتا ہے کہ ملک سے دہشتگر د ی کا صفایا ہوجائے گا۔حکومت کو فرقہ واریت سے نکل کر اسلام کو داغدار کرنیوالی کتابوں کو جلا دینا چاہیے۔معروف صحافی سہیل وڑائچ نے کہا کہ دہشتگردوں کا بیانیہ ریاست کو کمزور کرنا اور افراتفری پھیلانا ہے ،تعلیمی اداروں میں انسانیت کے نام پر مضامین شامل کرکے مدارس کے طلباءکو بھی لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنی چاہیے۔ برگیڈئیر نادر میر نے کہا بھارت پاکستان کی افغانستان اور کشمیر کے حوالے سے پالیسی تبدیل کرنا چاہتا ہے اور پاکستا ن کو اندرونی اور بیرونی دونوں طرف سے مشکلات کا سامنا ہے۔پاکستان کیخلاف غیر اعلانیہ جنگ شروع ہو چکی ہے جس سے نکلنے کے علاوہ اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ان کے علاوہ جنرل غلام مصطفی،امجد اسلام امجد،میاں عمران مسعود،سید نور ،شوکت علی عارفہ سید ،پروین عاطف اور صوبائی پارلیمانی سیکرٹری رانا ارشد نے خطاب کیا۔

خالدمقبول

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...