میاں بیوی نوز ائیدہ بچی سمیت کمرے میں زندہ جل گئے

میاں بیوی نوز ائیدہ بچی سمیت کمرے میں زندہ جل گئے

                                 مانگا منڈی (نامہ نگار) مانگا منڈی کے نواحی گاو¿ں میں میاں بیوی اور 5ماہ کی بچی سمیت کمرے میں سوئے ہوئے رات کو آگ لگنے کی وجہ سے تینوں جل کرکوئلہ بن گئے آگ لگنے کی اصل وجہ معلوم نہیں ہو سکی قیاس آرائیوں سے معلوم ہوا موم بتی یا کمرہ گرم کرنے والی آگ کی آنگیٹھی سے آگ لگی ہوگی یہ واقع تھانہ مانگا منڈی سے صرف 2کلو میٹر کے فاصلے پر ہوا مگر تھانہ مانگا منڈی کی پولیس اطلاع ملنے کے باوجودتقریباً1گھنٹے بعد موقع پر آئی وہ بھی تھانہ مانگا منڈی کے سب انسپکٹر وسیم صابر اپنے چند اہلکاروں کو لیکر پہنچ گئے نمائندہ روزنامہ ”پاکستان“نے پولیس سے تقریباًڈیڑھ گھنٹہ قبل مرنے والوں کے گھر پہنچ گئے نمائندہ روزنامہ ”پاکستان“نے پولیس سے دیر کرکے آنے کی وجہ اور تھانہ مانگا منڈی کے انچارج انسپکٹر عطاءاللہ کے نہ آنے کی وجہ پوچھی تو ملازموں نے بتایاکہ انچارج بلڈ پریشر کے مریض ہیں اس لیے وہ اپنے گھر میں آرام کر رہے ہیں تفصیلات کے مطابق مانگامنڈی کے نواحی گاو¿ں چھوٹے ترڑے میں ایک گھر میں2بھائی رہائش پذیر تھے بڑے بھائی مظہر حسین ولد محمد اشرف نے بتایا کہ کہ میرا چھوٹا بھائی 23سالہ زاہد اقبال بھٹی اور اس کی 19سالہ بیوی نازیہ بیگم اور ان کی 5ماہ کی بچی آمنہ زاہد گھر کے اوپر والی منزل میں رات کو جاکر سو گئے چھوٹی بچی ہونے کی وجہ اور سردی ہونے کی وجہ سے رات کو آنگیٹھی میں لکڑی کے کولے بناکر رکھی ہوئی تھی تاکہ کمرہ گرم رہے دوسری یہ بات ہے کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے رات کو میرا بھائی زاہد اقبال بھٹی2عدد موم بتی بھی لاکر کمرہ میں روشی کرنے کےلئے اوپر چھت پر لے گئے آگ لگنے کی وجہ ان دو باتوں سے ہو سکتی ہے مظہر حسین کے12سا لہ بیٹے علی حیدر نے نمائندہ روزنامہ ”پاکستان“سے گفتگو سے کرتے ہوئے کہاکہ میں سکول جانے کےلئے تقریباًصبح 8بجے تیار ہوکر اپنے چچا زاہد اقبال بھٹی کو جگانے کےلئے اوپر گیا کہ چچا جی آکے ناشتہ کرلو کیوں کہ میرا چچا ٹیکسی ڈرائیور ہے مانگا منڈ ی شہر میں ٹیکسی چلانے کا کاربار کرتا ہے جب میں کمرے میں گیا تو میرا چچا زاہد اقبال بھٹی اور اس کی بیوی میری چچی نازیہ بیگم5ماہ کی بچی آمنہ زاہد جل کر جان بحق ہو چکے تھے لاشوں کی شناخت نہیں ہو رہی تھی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ زاہد اقبال بھٹی کی شادی بھی 2سال قبل ہوئی تھی یہ خبر سن کرمانگا منڈی کے نواحی گاو¿ں چھوٹے ترڑے کے شہری سینکڑوں کی تعداد میں مرنے والے کے گھر میں پہنچ گئے اُس موقع پر ہر آنکھ اَشکبار دیکھائی دے رہی تھی رشتہ دار خواتین اور مرد دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے ہر طرف چیخوں پکار ہی سنائی دے رہی تھی نماز ظہر کے بعد تینوں کو مقامی قبرستان میں دفنا دیا گیا نماز جنارہ میں معززین علاقہ کے علاوہ سینکڑوں افراد نے شرکت کی جب تینوں افراد کی میت گھر سے آٹھائی گئیں تو لواحقین کے علاوہ گاو¿ں کے سینکڑوںافراد دھاڑیں ما ر مار کر روتے رہے۔

آتشزدگی

مزید : صفحہ آخر