پی ٹی آئی سے مذاکرات کا معاملہ کمیشن کے بجائے دھاندلی کی تعریف پراٹک گیا

پی ٹی آئی سے مذاکرات کا معاملہ کمیشن کے بجائے دھاندلی کی تعریف پراٹک گیا

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک +اے این این) حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات میں تعطل جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے بجائے بلکہ دھاندلی کی تعریف پر ہونے کاانکشاف،پی ٹی آئی انتخابی عملے کی غلطیوں، غفلت اور لاپرواہی کو منظم دھاندلی کے زمرے میں شامل کرنے پربضد،حکومت نے مطالبے کوناقابل قبول قراردے دیا۔ ذرائع کے مطابق حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات میں تعطل اور تنازعہ کی بنیادی وجہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نہیں ہے بلکہ معاملہ دھاندلی کی تعریف پر اٹکا ہوا ہے۔ حکومت مبینہ دھاندلی کی عدالتی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل پر راضی ہے تاہم عمران خان چاہتے ہیں دھاندلی کی ازسرنو تعریف کی جائے ۔ نئی تعریف میں انتخابی عملے کی غلطیوں، غفلت اور لاپرواہی کو بھی منظم دھاندلی تصور کیا جائے ۔ عمران خان بضد ہیں جن پولنگ اسٹیشنز پر پریذائیڈنگ افسران کے دستخط یا مہر نہیں ہے اسے بھی منظم دھاندلی تصور کیا جائے اور جہاں انتخابی فارمز کی فیلنگ میں غلطیاں ہیں یا پولنگ بیگز کی سیل ٹوٹی ہوئی ہے اسے بھی منظم دھاندلی تصور کیا جائے ۔ حکومت نے گزشتہ ہفتے جوڈیشل کمیشن کا مجوزہ ڈرافٹ تیار کرکے تحریک انصاف کے سپرد کیا تھا اس میں بھی عمرا ن خان نے اس قسم کی ترامیم کی تھیں ۔ عمران خان کا موقف ہے کہ ان کی تجویز کردہ ترامیم کے مطابق دھاندلی کی ازسر نو تعریف کی جائے اور جوڈیشل کمیشن کو نئی تعریف کے مطابق دھاندلی کی تحقیقات کا اختیار دیا جائے۔دوسری جانب حکومت دھاندلی کی تعریف میں ردوبدل پر راضی نہیں؟ حکومت کا موقف ہے کہ دھاندلی کی پرانی تعریف کے مطابق مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کی جائیں اور جوڈیشل کمیشن کو پرانی تعریف کے مطابق دھاندلی کی تحقیقات کے اختیار دئیے جائیں۔

مزید : صفحہ اول