سپیکرنے اسرائیلی وزیراعظم کو کانگریس سے خطاب کی دعوت دے دی

سپیکرنے اسرائیلی وزیراعظم کو کانگریس سے خطاب کی دعوت دے دی

واشنگٹن(اظہرزمان،بیوروچیف)وائٹ ہاؤس میں اور کانگریس کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں اضافے کا ایک نیا سبب پیدا ہو گیا ہے ۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یا ہونے آج یہ بیان جاری کرکے واشنگٹن میں کھلبلی پیدا کر دی کہ انہیں سپیکر جان بونین نے دونوں جماعتوں ری پبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے مارچ میں کانگریس سے خطاب کی دعوت دی ہے۔ سکیورٹی حلقوں نے فوری طور پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی کہ سپیکر نے صدر اوبامہ کی طرف سے منگل کی ’’سٹیٹ آف یونین‘‘ خطاب میں ایران کے خلاف کانگریس کی مجوزہ پابندیوں کو ویٹو کرنے کی جو دھمکی دی تھی یہ اس کا جواب ملا ہے۔ یہی بات خود اپنے انداز میں سپیکر بوہنر نے واضح کر دی کہ ہم اسرائیلی وزیر اعظم کو موقع دینا چاہتے ہیں کہ وہ ایران کے ایٹمی عزائم سے پیدا ہونے والے خطرات سے امریکی کانگریس اور عوام کو آگاہ کریں۔انہوں نے واضح کیا کہ ان کے پاس یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی عالمی لیڈرکوکانگریس سے خطاب کی دعوت دیں اور اس کے لئے ان کا صدر سے مشورہ کرنا ضروری نہیں ہے۔

میڈیاکی اطلاع کے مطابق سپیکر کی اس دعوت سے وائٹ ہاؤس کے انتظامی حکام کو شدید جھٹکا لگا ہے جن کا کہنا ہے کہ یہ پروٹوکول کی خلاف ورزی ہے کیونکہ سپیکر کسی عالمی لیڈر کو صدر سے پوچھے بغیر امریکہ آنے کی دعوت نہیں دے سکتے ۔قبل ازیں صدر اوبامہ کے خطاب پر بدھ کے روز تبصرہ کرتے ہوئے سپیکر بوہنر نے کہا تھا کہ اگر صدر اوبامہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ ایک ’’بڑامعاہدہ‘‘کرلیں گے اورہم خاموش رہیں گے تو یہ ان کی بھول ہے۔ انہیں ہم سے یقیناًمایوسی ہوگی۔انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا تھا کہ امریکہ میں اس مسئلے پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے جو انتہا پسنددہشت گردوں اور ایران کے جارحانہ عزائم سے پیدا ہو رہا ہے۔

مزید : صفحہ اول