دلیل کی بات کو نہ مانا گیا تو مدرسے بند کر کے جیلیں بند کر دیں گے، فضل الرحمٰن

دلیل کی بات کو نہ مانا گیا تو مدرسے بند کر کے جیلیں بند کر دیں گے، فضل الرحمٰن

لاہور(نمائندہ خصوصی) جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ21 ویں ترمیم پر ہمارے تحفظات کے ازالے کیلئے22ویں ترمیم ناگزیر ہے،مدارس میں بم بنانے کی تربیت نہیں دی جاتی ، ہمیں سخت فیصلے کرنے پر مجبور نہ کیا جائے ، ملک میں سیاستدان اور سیکولر طبقہ ایک ہی لائن پر چل رہا ہے جبکہ کچھ سیکولر طاقتیں فوج اور مولویوں کو لڑانے کی سازش کررہی ہیں۔لاہور میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں سیاستدان اور سیکولر طبقہ ایک ہی لائن پر چل رہا ہے اور کچھ سیکولر طاقتیں فوج اور مولویوں کو لڑانے کی سازش کررہی ہیں ،پاکستان شریعت کی روشنی میں ہی اقتصادی ترقی کرے گا جب کہ ہم آئین پاکستان کو قومی دستاویز سمجھتے ہیں اور اگر اس پر عمل نہیں ہوگا تو افراتفری ہوگی۔ انہوں نے توہین آمیز خاکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے اقدامات کے ذریعے دنیا کو تقسیم کیا جارہا ہے لیکن ہم نے اس طرح کے حالات کا مقابلہ پوری استقامت کے ساتھ کرنا ہے کیونکہ مسلمان انتہا پسندی کے خلاف رد عمل دے تو انتہا پسند کہلاتا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تمام مکاتب فکر اتفاق کرچکے ہیں کہ کوئی اسلحہ اٹھا کر سیاست نہ کرے جبکہ ہمارے مدارس میں بم بنانے کی تربیت نہیں دی جاتی، ہمیں سخت فیصلوں پر مجبور نہ کیا جائے اگر ہماری دلیل کی بات کو نہ مانا گیا تو مدرسے بند کرکے جیلیں بھر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ اور دہشت گردی ہماری نہیں بلکہ مغربی ممالک کی ضرورت ہے اور مغربی ممالک نے ہی ہمارے گلے میں کلاشنکوف لٹکائی پھر چھوڑ کر چلے گئے۔جے یو آئی کے سربراہ نے کہاکہ ہم نے 21 ویں ترمیم کی حمایت نہیں کی تھی اس پر مذاکرات جاری تھے کہ ترمیم کو پارلیمنٹ سے منظور کرلیا گیا تاہم حکومت سے اس معاملے پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پرویز مشرف نے کہا تھا کہ ہم امریکی غلام ہیں جو ایک حقیقت ہے مگر اسے تسلیم کیوں نہیں کرتے جس پر ان کے سامنے اس بات کو قبول کیا کہ ہم امریکی غلام ہی ہیں۔جمعیت علماء اسلام کے سربراہ کا کہنا تھا کہ دینی مدارس کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا کسی کا ہاتھ اپنی گردنوں کی طرف نہیں بڑھنے دیں گے کچھ قوتیں اداروں کو ا?منے سامنے کھڑا کرنا چاہتی ہیں۔ اس موقع پر جاری اعلان لاہور میں ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کی گئی اور اکیسویں ترمیم پر نظرثانی کا مطالبہ کیا گیا۔ علامہ اویس نورانی ، مولانا اللہ وسایا ، پرو فیسر ساجد میر اور دیگر علماء اکرام نے واضح کیا کہ ہر صورت مدارس کا تحفظ کیا جائے گا کسی کو مسجد اور مدارس کی طرف میلی ا?نکھ سے نہیں دیکھنے دیا جائے گا۔قبل ازیں مولانا فضل الرحمن نے جامعہ رشیدیہ ساہیوال میں مختلف و فود سے گفتگو کرہم نے جمہوری نظام کی بقاء کے لیے ہر محاذ پر حکومت کا ساتھ دیا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل اور دینی مدارس و مساجد کے خلاف ہونے والی کاروائیوں پر ہم خاموش تماشائی بن جائیں ۔21 ویں ترمیم پر ہمارے تحفظات کے مداوہ کے لیے 22 ویں آئینی ترمیم ناگزیر ہے اور اُنہوں نے کہاکہ دینی مدارس و مساجد ہماری بنیادیں ہیں اور ہم ان کی حفاظت کریں گے ،دہشت گردی کی حمایت کی ہے اور نہ کریں گے ،لیکن مذہبی اور غیر مذہبی دہشت گردی کی اصطلاح ناقابل فہم ہے ،مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ تحفظ ناموس رسالت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور ایمان بچانے کے لیے ہم اپنی جان ،مال اور آبرو سب کچھ قربان کر سکتے ہیں۔

مزید : صفحہ اول