سپریم کورٹ کا حکومت کو عوام کی آگاہی کیلئے کالعدم تنظیموں کی فہرست جاری کرنیکا حکم

سپریم کورٹ کا حکومت کو عوام کی آگاہی کیلئے کالعدم تنظیموں کی فہرست جاری ...

اسلام آباد(اے این این) سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کوہدایت کی ہے کہ وہ کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں کی فہرست جاری کرے تاکہ عوام کو اس سلسلے میں آگاہی حاصل ہو سکے ، جب قانون کی کتابوں میں غلطیاں ہوں گی تو پھر لوگوں کو کیسے معلوم ہوگا کہ شدت پسندی میں ملوث ہونے پر کیا سزا مل سکتی ہے۔جمعرات کو جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے دو رکنی بنچ نے قانونی کتب میں غلطیوں کے مقدمے کی سماعت کی ۔وفاقی سیکرٹری قانون طلبی کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوئے ۔ان کی عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ سیکرٹری قانون کہاں ہیں؟ جس پرعدالت کو بتایا گیا کہ ان کی جگہ وزارت کے معاون پیش ہوئے ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت کو وزارت قانون کا معاون نہیں چاہیے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا کوئی ایسا شخص ہے جو عوام کا بھلا سوچتا ہو، عدالت کی برہمی پر وقفے کے بعد سیکرٹری قانون جسٹس (ر) رضا خان عدالت میں پیش ہوگئے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت قانون کی کتابوں کے ساتھ کیا مذاق کر رہی ہے ۔ وزارت قانون اپنا کام نہیں کر سکتی تو وزارت کوبند کر کے کام عدلیہ کو سونپ دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر لاء ڈیپارٹمنٹ نا اہل ہے تو ٹھیکے پر کسی دوسرے محکمے کو دے دیا جائے ۔ عدالت نے کہاقراردیا کہ جب قانون کی کتابوں میں اتنی غلطیاں ہوں گی تو پھر لوگوں کو کیسے معلوم ہوگا کہ شدت پسندی میں ملوث ہونے پر کیا سزا مل سکتی ہے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ قانون کی کتابوں کی اشاعت غلطیوں سے پاک ہو۔ایک موقع پرریمارکس دیتے ہوئے جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ حکومت شدت پسندی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کو ایسی تنظیموں کے بارے میں علم ہو جنھیں کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ لوگوں کو ملک میں کالعدم قرار دی گئی شدت پسند تنظیموں اور ان کی تعداد کے بارے میں علم نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ لوگوں کو اس بات کا علم بھی نہیں ہے کہ وہ جن تنظیموں کو چندہ دے رہے ہیں آیا حکومت نے انھیں کالعدم قرار تو نہیں دیا۔عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ فوری طورپر حکومت سے ہدایات لے کر آئیں کہ وہ کتنے عرصے میں کالعدم تنظیموں کی فہرست متعلقہ اداروں کی ویب سائٹ پر لگا دے گی جس پر اٹارنی جنرل نے اس ضمن میں عدالت سے مہلت طلب کی ۔واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ ملک میں 72 کالعدم تنظیمیں کام کر رہی ہیں لیکن چند ہی روز بعد انھوں نے کہا کہ صرف اس وقت صوبہ پنجاب میں 95 کے قریب کالعدم تنظیمیں کام کر رہی ہیں تاہم انھوں نے ان تنظیموں کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق کالعدم قرار دی گئی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے علیحدہ گروپ بنا لیے ہیں اور انھیں کالعدم قرار دینے سے متعلق خفیہ ادارے اور انسداد دہشت گردی سے نمٹنے کے قومی ادارے کے اہلکار مل کر اس بارے میں تفصیلات اکٹھی کر رہے ہیں.

کالعدم تنظیموں کی فہرست

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...