گردن میں تیر مار کر زخمی کرنے والے فوجی کے ساتھ چنگیز خان نے کیا سلوک کیا؟

گردن میں تیر مار کر زخمی کرنے والے فوجی کے ساتھ چنگیز خان نے کیا سلوک کیا؟
گردن میں تیر مار کر زخمی کرنے والے فوجی کے ساتھ چنگیز خان نے کیا سلوک کیا؟

  

لاہور (نیوز ڈیسک) چنگیز خان کا شمار دنیا کے کامیاب ترین اور سفاک ترین فاتحین میں ہوتا ہے جس کے سامنے بڑے بڑے بہادر کانپنے لگتے تھے۔ تیرھویں صدی کے آغاز میں جب 13 قبائل چنگیز خان کے خلاف جنگ کر رہے تھے تو ایک تیر اس کی گردن میں آ لگا۔ جنگ کے خاتمے کے بعد جب چنگیز خان کی فتح کا اعلان ہو گیا تو اسنے قیدی بنائے گئے سپاہیوں سے سوال کیا کہ اس کے گھوڑے کی گردن میں تیر کس نے مارا تھا۔چنگیز خان نے اپنی بجائے اپنے گھوڑے کا استعمال اس لئے کیا کہ یہ بات خفیہ رہے کہ اس کی گردن زخمی ہوئی تھی اور اس لئے بھی کہ کوئی غلط دعویٰ نہ کرے۔ قیدی سپاہیوں میں سے زرگدائی نامی شخص آگے آیا اور بتایا کہ اس نے گھوڑے پر نہیں بلکہ چنگیز خان پر تیر چلایا تھا جو اس کی گردن میں لگا تھا اور یہ بھی کہا کہ اگر اس کی سزا کے طور پر اس کا سر قلم کر دیا جائے تو وہ تیار ہے۔ چنگیز خان کو زرگدائی کی صاف گوئی اس قدر پسند آئی کہ اسے اپنی فوجوں میں ایک اہم عہدے پر فائز کر دیا۔ زرگدائی نے بھی چنگیز خان سے مکمل وفاداری کا عہد کیا اور آنے والے سالوں میں موجودہ منگولیا، چین اور روس کے علاقوں میں وسیع فتوحات کیں اور اسی جرنیل نے وسطی ایشیاءاور یورپ کے کئی ممالک کو بھی فتح کیا۔

مزید : صفحہ آخر