وہ ارب پتی جس نے اپنی تمام دولت غریبوں میں بانٹ دی

وہ ارب پتی جس نے اپنی تمام دولت غریبوں میں بانٹ دی
وہ ارب پتی جس نے اپنی تمام دولت غریبوں میں بانٹ دی

  

ڈبلن(نیوزڈیسک)آپ نے بہت سے ارب پتی لوگوں کی کہانی سنی ہوگی جنہوں نے غریبوں کے لئے بہت کام کیا لیکن آج ہم آپ کو ایک ایسے انسان کے بارے میں بتائیں گے جس نے اپنی دولت دنیا بھر کے غریبوں میں بانٹ دی۔ اس کا کہنا ہے کہ غریبوں کی مدد کرکے اسے بہت خوشی ہوتی ہے اور اگر وہ کسی کی مدد نہ کرے تو وہ بہت اداس ہو جاتا ہے۔

ترکی میں قدیم ترین شہرکی حادثاتی دریافت کا دلچسپ واقعہ ،جاننے کیلئے کلک کریں

84سالہ چک فینی نامی یہ آئرش نژاد کاروباری شخصیت نیو جرسی امریکہ میں اپریل 1931ءمیں پیدا ہوئی۔فینی ایک درمیانے درجے کے گھرانے میں پلا بڑھا اور کارنل یونیورسٹی سے گریجویشن کی اور ڈیوٹی فری شاپرز گروپ (DFS)نامی کمپنی بنا کر کاروبار کا آغاز کیا جس کا کام سیاحوں اور دیگر لوگوں کو ڈیوٹی فری چیزیں فراہم کرنا تھا ۔یہ ایک بالکل نیا اور اچھوتا آئیڈیا تھا اور اس کا کاروبار دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنے لگا۔بہت جلد اس کی کمپنی DFSدنیا بھر میں مقبول ہو چکی تھی اور اس نے اس کاروبار سے اربوں روپے کمائے لیکن فینی کو شروع ہی سے غریبوں کی مدد کا شوق تھا۔

 ایک بار جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے تو اس کا جواب تھا کہ اسے لوگوں کی مدد کرکے اچھا لگتا ہے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس پر بہت زیادہ اداسی چھا جاتی ہے۔اس کا کہنا تھا کہ دولت کا استعمال لوگوں کی مدد کرنے میں کرو۔فینی کا لائف سٹائل آج بھی ویسا ہی ہے جیسا اوائل عمری میں ہوتا تھا یعنی جب وہ بہت امیر نہیں ہوا تھا۔اس کا کہنا ہے کہ وہ محنت امیر ہونے کے لئے نہیں کرتا تھا بلکہ اسے ایسا کر کے خوشی محسوس ہوتی تھی۔ اس کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اپنی تمام دولت بھی فلاح کے کاموں میں لگانے کے بعد بھی وہ اخبارات اور میڈیا سے دور رہتا تھا اور اس نے زندگی میں چندانٹرویو دئیے۔اس کی فاﺅنڈیشن نے 1982ءسے 2012ءتک 6.2ارب ڈالر(6200ارب روپے)فلاحی کاموں میں خرچ کئے جبکہ 2016ءتک یہ ادارہ مزید 1.3ارب ڈالر خرچ کرے گی۔فینی نے دنیا بھر کے غریبوں میں کئی اداروں کی مدد کی ۔ اس کا کہنا ہے کہ اکثر اوقات جن اداروں کی مدد کی جاتی ہے تو وہ بہت بڑی رقم دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں تو انہیں یقین دلایا جاتا ہے کہ یہ رقم بالکل صحیح کاروبار سے دی جارہی ہے لہذا انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس