نئے سعودی فرمانروا ’سلمان بن عبد العزیز‘ کی بارے میں دلچسپ حقائق

نئے سعودی فرمانروا ’سلمان بن عبد العزیز‘ کی بارے میں دلچسپ حقائق
نئے سعودی فرمانروا ’سلمان بن عبد العزیز‘ کی بارے میں دلچسپ حقائق

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدلعزیز السعود کی وفات کے بعد نئے فرمانروا سلمان بن عبدلعزیز نے بادشاہت کا منصب سنبھال لیا ہے۔ ان کے بارے میں کچھ معلومات تو انتہائی معمولی نوعیت کی ہیں کہ شاہ سلمان مرحوم سعودی فرمانروا کے سوتیلے بھائی اور شاہ عبدالعزیز کے سب سے چھوٹے اور پینتیسویں بیٹے ہیں، مگر کچھ معلومات ایسی بھی ہیں جو آپ کو حیران کر دیں گی۔

شہزادہ مقرن سعودی ولی عہد مقرر، نواز شریف اور مشرف کا معاہدہ ، یہ تو وہی ہیں!

1۔ نئے سعودی بادشاہ کو بھولپن کی بیماری ’الزائمر ‘ لاحق ہے اور ان کی یاداشت مسلسل زوال کی طرف رواں ہےاور صحت کی خرابی کی وجہ سے کہاجارہاہے کہ عملاً ملک کی باگ دوڑ  ولی عہد کے ہی ہاتھ میں ہوگی ۔ اس کے علاوہ ان پر فالج کا بھی ایک حملہ ہو چکا ہے جس کے باعث ان کا بایاں بازو صرف معمولی حرکت ہی کر سکتا ہے۔

2۔ نئے سعودی فرمانروا اور القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے تعلقات کے بارے میں کئی قصے مشہور ہیں۔ اسامہ بن لادن کی زندگی پر کتاب تحریر کرنے والے یوسف بودنسکی کا کہنا ہے کہ شاہ سلمان ہی وہ شخص تھے جنہوں نے افغانستان میں روس کیخلاف لڑنے والے مجاہدین خصوصاً اسامہ سے مضبوط تعلقات قائم کر کے انہیں مالی معاونت فراہم کی۔

3۔ شاہ سلمان کی تین بیویاں اور 13 بچے ہیں ۔

شاہ عبداللہ کچھ عرصہ صحرائی قبائل کیساتھ بھی رہے

4۔ سعودی عرب کے نئے بادشاہ کے دوسرے بیٹے ’سلطان بن سلمان‘ خلاءمیں سفر کرنے والے پہلے مسلمان اور عرب شخص ہیں۔ جنہوں نے جون 1985 میں سپیس شٹل میں سفر کیا۔

5۔ اکہتر سالہ سلمان بن عبدالعزیز نے شاہی سکول میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد برطانیہ کے رائل ایئر فورس کالج سے بھی تعلیم حاصل کر رکھی ہے جس کی بنیاد پر انہیں سعودی انٹیلی جنس کی سربراہی بھی ملی۔

6۔ مزید برآں سلمان بن عبد العزیز نے 1963 میں قدرے جواں عمری میں ریاض کی گورنری سنبھالی اور ایک دوردراز صحرائی قصبے کو جدید ترین شہر بنا ڈالا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس