ہانگ کانگ کا یہ ساحل اس قدر چمکدار کیوں ہے؟ وجہ جان کر آپ کو حیرت بھی ہوگی اور افسوس بھی

ہانگ کانگ کا یہ ساحل اس قدر چمکدار کیوں ہے؟ وجہ جان کر آپ کو حیرت بھی ہوگی ...
ہانگ کانگ کا یہ ساحل اس قدر چمکدار کیوں ہے؟ وجہ جان کر آپ کو حیرت بھی ہوگی اور افسوس بھی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ہانگ کانگ سٹی (نیوز ڈیسک) ہانگ کانگ کا ساحلی علاقے میں سمندر پراسرار نیلی رشنیوں سے دمک رہا ہے اور یوں لگتا ہے کہ گویا ساحل کے ساتھ ساتھ سمندری پانی میں لاکھوں نیلی روشنیاں چمک رہی ہیں۔ اگرچہ یہ منظر دیکھنے میں نہایت خوبصورت اور دلکش لگتا ہے مگر ماہرین سمندری حیات کا کہنا ہے کہ حقیقت میں یہ ایک خطرناک اور زہریلا جاندار مادہ ہے جس نے سمندری پانی کو نیلی چمکدار روشنی سے منور کردیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک خلوی جاندار مادہ ہے جو الجی سے ملتے جلتے پودوں کی ایک قسم ہے اور اسے بیک وقت پودا اور غیر نباتاتی سمندری جاندار کہا جاسکتا ہے۔ اس کا سائنسی نام "Noctiluca Scintillans" ہے جبکہ عام زبان میں اسے "Sea Sparkle" یعنی ”سمندری جلملاہٹ“ کہا جاتا ہے۔

ترکی میں قدیم ترین شہرکی حادثاتی دریافت کا دلچسپ واقعہ

یونیورسٹی آف جارجیا کی اوشنو گرافر سمانتھا جوائے کے مطابق بظاہر نہایت خوبصورت اور چمکدار نظر آنے والے اس منظر میں زہر بھرا ہے اور یہ سمندری حیات کے علاوہ انسانوں کیلئے بھی خطرناک ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اس کے بننے کی اہم وجہ فصلوں پر استعمال ہونے والے زہریلے سپرے، کھادیں اور دیگر ماحولیاتی آلودگی ہے۔ جب کھیتوں میں استعمال ہونے والے زہر اور کھادوں کا نائٹروجن اور فاسفورس پانی کے ساتھ سمندر میں پہنچتا ہے تو Noctiluca کی زبردست افزائش ہوتی ہے اور یہ سمندری پانی کو نیلی روشنی سے بھر دیتا ہے۔ یہ خوبصورت مگر زہریلی آب حیات بھارت کے مشرقی اور مغربی ساحلوں پر بھی پائی جاتی ہے۔ مچھلیاں اور دیگر سمندری حیات اسے کھانے سے زہریلی ہوجاتی ہ یں اور یوں یہ زہر انسانی جسم میں بھی پہنچ سکتا ہے۔ ہانگ کانگ کی حکومت اس پر قابو پانے کے لئے ہنگامی اقدامات پر غور کررہی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس