مصری پولیس والے جنسی درندے بن گئے ،مظاہرین کے ساتھ شرمناک سلوک کا انکشاف

مصری پولیس والے جنسی درندے بن گئے ،مظاہرین کے ساتھ شرمناک سلوک کا انکشاف
مصری پولیس والے جنسی درندے بن گئے ،مظاہرین کے ساتھ شرمناک سلوک کا انکشاف

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

قاہرہ (نیوز ڈیسک) حکومت مخالف مظاہرین پر ہمیشہ جبر اور تشدد کیا جاتا ہے مگر مصر میں احتجاج کرنے والے مردوں اور خواتین کو تشدد کے علاوہ عصمت دری کی سزا بھی دی جارہی ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق جنرل عبدافتح السیسی کی حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو پولیس اٹھا کر لے جاتی ہے اور خود بھی ان کی عزت سے کھیلتی ہے جبکہ مزید ظلم کیلئے انہیں جیلوں میں قیدیوں کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ ایک خاتون نے برطانوی اخبار ”ڈیلی ٹیلیگراف“ کو بتایا کہ اسے احتجاج کے دوران پولیس والوں نے زبردستی اٹھا کر ایک ٹرک میں ڈال لیا۔ یہ پولیس والے کہہ رہے تھے ”تمہیں مرد بننے کا شوق ہے؟ آﺅ تمہیں بتاتے ہیں کہ تم عورت ہو اور عورت ہونے کا کیا مطلب ہے؟“ خاتون نے بتایا کہ اسے ٹرک میں لے جاکر حالت خراب ہونے پر اسے کسی قسم کی طبی امداد بھی نہ دی گئی۔ خاتون کا کہنا ہے کہ اس کا سب کچھ لٹ گیا ہے اور اب وہ اپنے خاوند اور گھر والوں کو بھی کھوچکی ہے۔

شوہر کی آخری خواہش پوری کرنے کیلئے 86 سالہ بڑھیا نے زندگی کو انوکھا رنگ دے دیا

اسی طرح ایک وکیل نے اخبار کو بتایا کہ اس کے نوجوان مﺅکل کو پولیس نے گرفتار کیا اور نیم برہنہ کرکے جیل میں قیدیوں کے آگے یہ کہتے ہوئے پھینک دیا کہ ”یہ رہا تمہارے لئے لولی پاپ“ انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ حکومتی مخالفین اور مظاہرین کی عصمت دری کو بطور ہتھیار استعمال کیا جارہا ہے اور اس متاثرین کی تعداد میڈیا میں آنے والی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ جنرل السیسی اخوان المسلمون کی منتخب جمہوری حکومت کے خاتمے کے بعد صدر بنے تھے اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کے اقتدار میں آنے کے بعد حسنی مبارک کے خلاف آنے والا انقلاب بے معنی ہوگیا ہے کیونکہ مصر ایک دفعہ پھر فوج کے زیر تسلط ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس