دینی

دینی

امن عالم سیرت طیبہ کی روشنی میں

سینیٹر پروفیسر ساجد میر کی مختصر مگر جامع تحریر

اسلام اور مسلم کی جو (Definition) تعریف ہے۔ وہ بذات خود اس بات کا اظہار ہے کہ سیرت طیبہ اور اسلام میں امن کی کیا اہمیت ہے۔ ارشاد ہوا: ’’اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِہٖ وَیَدِہٖ‘‘ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ مومن کے بارے میں فرمایا ’’المومن من امن الناس بواقہ‘‘مومن وہ ہے جس کے شراورآزار سے لوگ محفوظ رہیں۔ یہاں ’’ الناس ‘‘ لفظ استعمال کیا۔ یہ خاص نہیں عام ہے۔ گویا مومن کی قید نہیں بلکہ دنیا بھر کے لوگ محفوظ رہیں۔ یہ افیشل (Definition) تعریف ہے۔ مسلم اور مومن کے بارے میں جو زبان نبوت سے ادا ہوئی۔ جہاں تک سیرت طیبہ کا تعلق ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ آپ کی زندگی کے اہم ترین واقعات ہی فیصلہ کن ہیں۔ چاہے مکی زندگی ہو یا مدنی، عطائے نبوت سے پہلے یا بعد کے یہ واقعات اس چیز پر دلالت کرتے ہیں کہ آپ نے امن عالم کے لیے دنیا میں امن کے قیام کی مثالیں قائم کی ہیں۔

مکی زندگی اور نبوت سے پہلے دو واقعات جن سے ہم سب واقف ہیں۔ حلف الفضول میں آپ کی شرکت اور آپ اس کو بہت اہمیت دیتے تھے۔آپ اس کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ میں آج بھی اس حلف پر قائم ہوں۔ میں اس کے بدلے میں سرخ اونٹوں کی دولت قبول کرنا بھی گوارہ نہیں کرتا۔

اسی طرح کعبے کی تعمیر کے وقت جب حجر اسود کی تنصیب کا وقت آیا توقبائل کے درمیان تلواریں کھنچ گئیں۔ اندیشہ تھا کہ اگر ان قبائل کو تنصیب کا موقعہ نہ دیا گیا تو جنگ ہو سکتی ہے۔ اتنے میں آپ حرم کعبہ میں تشریف لائے اور سب کی زبان سے نکلا: [جاء الامین ] ’’امانت والے‘‘ امن والے تشریف لے آئے ہیں۔ آپ نے اس کا بڑی دانش مندی اور حکمت عملی سے سدباب کیا اور تمام قبائل کوحجر اسود کی تنصیب میں شریک کیا۔ یہ آپ کی امن پسندی پر دلالت کرتا ہے۔

مدنی زندگی میں سب سے نمایاں چیز جو نظر آتی ہے وہ مؤاخات کا عمل ہے۔ اوس اور خزرج کی باہمی لڑائیوں کو ختم کیا۔ انصار اور مہاجرین کو بھی صحیح طور پر بھائی بھائی بنایا۔ ایک ہندو شاعر نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا:

کس نے قطروں کو ملایا اور دریا کردیا

کس نے ذروں کو ملایا اور صحرا کردیا

مؤاخات مدینہ کے بعد اہم چیز میثاق مدینہ ہے جس کے ذریعے آپ نے قبائل کی لڑائیاں بھی ختم کیں۔ اس کے ساتھ یہود کوبھی ملاکر آپ نے مدینہ کے اطراف کے باقی قبائل سے بھی معاہدے کیے۔ اس کے ساتھ صلح حدیبیہ جو مشکل حالات میں انتہائی مشکل شرائط کے ساتھ آپ نے قبول کی اور صحابہ کرام سے بھی قبول کروائی۔ یہ آپ کی امن پسندی اور امن کی اہمیت پر دلالت کرتے ہیں۔

اس کے بعد ایک اور بات سامنے آتی ہے اور وہ ہے فتح خیبر ، جبکہ یہودیوں پر بلکہ شر پسند یہودیوں پر آپ کی دھاک بیٹھ چکی تھی۔ اس حالت میں ایک پیش کش آئی کہ صلح کر لیں۔ آپ نے فاتح ہونے کے باوجود اس پیش کش کو قبول کر لیا اور ان یہودیوں کو امن وامان کا پروانہ دے دیا۔

اس کے بعد ایک اہم ترین واقعہ فتح مکہ کا ہے۔ آپ دس ہزار قدسیوں کے ساتھ موجود ہیں اور آپ کے سامنے وہ تمام لوگ اپنے جرائم کے ساتھ حاضر ہیں۔ آپ جانتے تھے کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے آپ کی راہ میں کانٹے بچھائے اور آپ پر پتھر برسائے اور آپ کو الزام تراشی کا نشانہ بنایا۔ آپ کے ساتھیوں کو خاک وخون میں نہلایا۔ پھر آپ نے ان سے صرف ایک بات پوچھی کہ تم مجھ سے کس قسم کے سلوک کی امید رکھتے ہو؟ انہوں نے بیک زبان کہا کہ اچھے سلوک کی [انت الاخ الکریم ابن الاخ الکریم] آپ نے فرمایا [انتم طلقاء لاتثریب علیکم الیوم] جاؤ تم سب کو معاف کردیا۔ لیکن یہ ایک عمومی اعلان تھا، اس کے بعد آپ نے ایک خصوصی اعلان بھی کیا اور وہ ابو سفیان کے بارے میں تھا۔ یہ جانتے ہوئے کہ عالم کفر کا قائد تھا لیکن فرمایا: جو ابو سفیان کے گھر داخل ہو گیا۔ وہ امن میں ہے۔

اسی طرح ابو جہل کے بیٹے عکرمہ جو باپ کی طرح تھا۔ وہ یقین نہیں کر سکتا تھا کہ اسے بھی معافی مل جائے گی۔ وہ مکہ چھوڑ کر چلا گیا۔ اس کی بیوی نے معافی کی درخواست کی تو آپ نے اسے بلوایا اور جب وہ آیا تو حیرت انگیز طریقے سے اس کا استقبال کیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ آپ خود اٹھ کر اسکے استقبال کے لیے بڑھے۔ اتنی تیزی اور شوق سے آگے بڑھے کہ آپ کے کندھے کی چادر زمین پر گر گئی۔ ارشاد فرمایا کہ تم مکہ چھو ڑ کر کہاں چلے گئے تھے ہم تو تیرے انتظار میں یہاں بیٹھے ہیں۔

اسی طرح ایک اور بات ہوئی کہ حضرت علیؓ جو آپ کے عم زاد بیٹے ااور داماد بھی ہیں۔ انہوں نے گذارش کی کہ مکہ میں آنے والے حاجیوں کو زم زم پلانے کی روایت ہمارے خاندان کی ہے، آج موقع ہے کہ کعبہ کی چابی آپ کے پاس ہے یہ بھی ہمارے حوالے کردیں۔ یہ خدمت بھی ہمارے پا س آجائے۔ آپ خاموش رہے، گردن جھکی ہوئی ہے اور کچھ سوچ رہے ہیں۔ آخر آپ نے فرمایا کہ عثمان بن طلحہ کو بلاؤ، یہ وہی شخص ہے جو آپ کو کعبے میں داخلے سے روکتا تھا۔ وہ کانپتا ہوا آیا کہ اب اس کے جرائم کی اسے سزا ملے گی۔ لیکن ارشاد نبوت ہوا کہ عثمان! یہ چابی لو اور جو تم سے یہ چابی لے گا وہ ظالم ہو گا، عثمان حیران ہوئے۔ آپ کے ارشاد مبارک کا نتیجہ ہے کہ بیت اللہ کی چابی آج بھی اسی خاندان کے پاس ہے۔ خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ کو بھی کعبہ کے اندر جانا ہو تو اسی عثمان بن طلحہ کے خاندان سے درخواست کی جاتی ہے، اسی خاندان کا فرد اسے کھولے گا اورمہمان اندرجائے گا۔ یہ وہ امن ہے جو سیرت طیبہ سے معلوم ہوتا ہے۔

اس کے بعد حنین کا واقعہ ہے۔ اس جنگ میں تقریباً چھ ہزار قیدی، صرف ایک بار فرمائش کی گئی کہ ہمارے قیدی چھوڑ دیئے جائیں۔آپ نے فرمایا: میں اپنے اور بنو ہاشم کے قیدیوں کو ابھی چھوڑنے کو تیار ہوں، لیکن باقی قیدیوں کے لیے لوگوں سے بات کرنا ہوگی۔ بات ہوئی تو دو قبائل کے علاوہ سب نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم بھی آزاد کردیتے ہیں۔ لیکن دونوں قبائل کے لیے انوکھی بات تھی کہ نہ انتقام نہ سزا نہ قید اور رہائی کی اجازت دی جارہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس طرح نہیں چھوڑیں گے۔ آپ نے ان قبائل کو فی قیدی چھ اونٹ دے کر ان کو راضی کر لیا، اور کہا کہ تمام قیدی چھوڑ دو۔

یہ آپ کی امن پسندی تھی۔ آخری بات خطبہ حجۃ الوداع میں فرمائی: [اِنَّ دِمَاءَکُمْ وَاَمْوَالَکُمْ وَاَعْرَاضَکُمْ حَرَامٌ عَلَیْکُمْ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَہْرِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا] جس طرح کعبے اور حج کے دن کی حرمت ہے، اسی طرح تمہارے لیے ایک دوسرے کے مال ، جان کو لو ٹنا اور زیادتی کرنا حرام ہے۔ یہ اسی طرح باعث احترام ہونا چاہیے جیسے کعبہ کی حرمت۔

یہ چند اسباق ہیں جو ’’ امن عالم کے لیے سیرت طیبہ کی روشنی میں ‘‘ سامنے آتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم پوری دنیا کو بتائیں کہ ہمارا دین کس طرح امن کے لیے کوشاں ہے۔ اسلام بدامنی اور دہشت گردی کا مذہب نہیں بلکہ یہ امن وسلامتی کا ضامن ہے۔

مزید : ایڈیشن 1