صدر پیوٹن کی وہ شرمناک فلم جو روسی شہری کی موت کا باعث بن گئی، تہلکہ خیز دعویٰ سامنے آگیا

صدر پیوٹن کی وہ شرمناک فلم جو روسی شہری کی موت کا باعث بن گئی، تہلکہ خیز دعویٰ ...
صدر پیوٹن کی وہ شرمناک فلم جو روسی شہری کی موت کا باعث بن گئی، تہلکہ خیز دعویٰ سامنے آگیا

  


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں سابق روسی جاسوس الیگزینڈر لٹوی نینکو کو زہر دئیے جانے کے معاملے کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے اپنی رپورٹ میں یہ تہلکہ خیز دعوٰی کر دیا ہے کہ لٹوی نینکو کی طرف سے روسی صدر ولادی میر پیوٹن کو بچوں کے ساتھ جنسی مراسم کا مرتکب قرار دئیے جانے، اور جنسی زیادتی پر مبنی فلم کی موجودگی کا دعوٰی کرنے کے نتیجے میں ممکنہ طور پر روسی صدر نے ان کے قتل کے احکامات جاری کئے۔

اخبار ڈیلی میل کے مطابق لٹوی نینکو نے روسی صدر پر یہ الزامات اکتوبر 2006ءمیں لگائے تھے، جس کے دو ہفتے بعد انہیں لندن کے ایک ہوٹل میں تابکار پلونیم 210 چائے کے کپ میں ملا کر دے دی گئی۔ روسی خفیہ ایجنسی کو چھوڑ کر برطانوی خفیہ ایجنسی MI6 سے جاملنے والے جاسوس نے ایک آرٹیکل میں لکھا تھا کہ صدر پیوٹن بچوں کی طرف جنسی رغبت رکھتے ہیں اور کریملن کے قریب ایک ننھے بچے کے پیٹ کو چومتے ہوئے ان کی تصویر اس بات کا ثبوت ہے۔ لٹوی نینکو نے وضاحت کی تھی کہ صدر پیوٹن نے بچے کی ٹی شرٹ اٹھائی اور اس کے پیٹ کو چوما، جبکہ کوئی بھی یہ بات نہیں سمجھ سکتا کہ روسی صدر نے اس طرح کا عجیب کام کیوں کیا، وہ بھی ایک اجنبی بچے کے ساتھ۔ لٹوی نینکو نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ روسی صدرکی بچوں کے ساتھ زیادتی کی ویڈیو بھی موجود ہے۔

مزید جانئے: امریکہ نے داعش کے خلاف جنگ میں مزید مدد مانگ لی

اب برطانیہ کے ایک سابق جج سر رابرٹ اوون نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر ولادی میر پیوٹن پر لٹوی نینکو کی طرف سے انتہائی ذاتی نوعیت کے حملے ان کی موت کی وجہ ہوسکتے ہیں، اور غالباً اس کا حکم روسی صدر کی طرف سے ہی جاری کیا گیا۔

اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد روس اور برطانیہ کے درمیان ایک بڑا سفارتی تنازعہ کھڑاہوگیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ رپورٹ میں وہی باتیں بتائی گئی ہیں کہ جن پر برطانوی وزراء2007ءسے یقین رکھتے تھے، کہ روس کی طرف سے لندن کی سڑکوں پر ایک قتل کا حکم دیا گیا، تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ روس اور برطانیہ کے تعلقات جاری رہیں گے، البتہ آنکھیں کھلی اور جذبات سرد رہیں گے۔

مزید : بین الاقوامی