بیرون ملک کتنے سعودیوں نے لڑکیوں کو جنسی ہراسگی کا نشانہ بنایا؟ تعداد اتنی کہ سامنے آنے پر شوریٰ کے اجلاس میں ہنگامہ برپاہوگیا

بیرون ملک کتنے سعودیوں نے لڑکیوں کو جنسی ہراسگی کا نشانہ بنایا؟ تعداد اتنی ...
بیرون ملک کتنے سعودیوں نے لڑکیوں کو جنسی ہراسگی کا نشانہ بنایا؟ تعداد اتنی کہ سامنے آنے پر شوریٰ کے اجلاس میں ہنگامہ برپاہوگیا

  

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں سعودی باشندوں پر دیگر ممالک میں قائم جنسی ہراسگی کے مقدمات کی تفصیل کے انکشاف پر ہنگامہ برپا ہو گیا۔ سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق شوریٰ کونسل کے اجلاس میں وزارت کی سالانہ کارکردگی پر بحث جاری تھی۔ اجلاس میں مجلس کے رکن شہزادہ خالد السعود نے انکشاف کیا کہ” اس وقت بیرونی ممالک میں15ہزار سعودی طالب علموں اور سیاحوں کے خلاف مقدمات درج ہیں۔ ان میں 37فیصد افراد کے خلاف خواتین کو جنسی طور پرہراساں کیے جانے کے الزام میں مقدمات درج کیے گئے ہیں۔“اس دوران اراکین نے مطالبہ کیا کہ خارجہ اطلاعات کا ڈیپارٹمنٹ وزارت ثقافت و اطلاعات سے وزارت خارجہ منتقل کیا جائے تاکہ سعودی عرب کے خلاف غیرملکی میڈیا میں جاری شدید مہم کا مقابلہ کیا جا سکے۔

مزید جانئے: کتنے فیصد کنواری سعودی لڑکیاں شادی شدہ مردوں سے شادی کیلئے تیار ہیں؟ سروے کے ایسے نتائج کہ شادی شدہ مرد خوشی سے نہال ہوگئے

خالد السعود نے کہا کہ” وزارت کو بیرون ملک جانے والے سعودیوں کو دیگر ممالک کے رسوم و رواج کے متعلق آگاہی دینی چاہیے تھی تاکہ وہ وہاں جا کر اس طرح کے جرائم کرنے سے باز رہتے۔اس طرح وزارت وہ 1کروڑ ریال(تقریباً28کروڑ روپے) بچا سکتی تھی جو اسے بیرون ممالک وکیلوں کی فیسوں اور عدالتی اخراجات کی مد میں خرچ کرنے پڑے۔“ایک اور رکن سعود الشماری نے وزارت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ”متعدد ممالک میں ریٹائرڈآرمی آفیسر سعودی عرب کے سفیر کے طور پر تعینات تھے لیکن وزارت نے انہیں ہٹا کر سابق وزیر کو سفیر تعینات کر دیا۔ آج ملک کو جس گھمبیر صورتحال کا سامنا ہے اس میں سابق وزرا اور فوجی افسران کا سفارت کاری میں حصہ صرف 10فیصد ہونا چاہیے۔ زیادہ تر پیشہ ور اور ماہر سفارت کاروں کو ہی سفیر تعینات کیا جانا چاہیے۔ “

شوریٰ کے رکن صدقا فدیل کا کہنا تھا کہ” اب تک 10لاکھ سے زائد سعودی شہری دیگر ممالک میں جا کر مقیم ہو چکے ہیں جو سعودی عرب کی کل آبادی کا 5فیصد ہے۔ وزارت خارجہ کو شہریوں کی ہجرت کے اسباب جاننے کے لیے تحقیقات کرنی چاہئیں۔“ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ”وزارت خارجہ کے حکام مجلس شوریٰ کو دیگر ممالک میں جا کر بسنے والے سعودی باشندوں کے حالات زندگی اور ہجرت کی وجوہات کے بارے میں بریفنگ دیں۔ “مجلس شوریٰ کی خاتون رکن مونا المشیط کا کہنا تھا کہ ”وزارت کی سالانہ رپورٹ میں خواتین کے لیے بنائے گئے انفارمیشن سنٹرز کی کارکردگی شامل نہیں ہے، انہیں بھی رپورٹ میں شامل کیا جانا چاہیے تھا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس