پاکستان اور چین خوراک کے شعبے میں اصلاحات لا سکتے ہیں‘ شاہ فیصل آفریدی

پاکستان اور چین خوراک کے شعبے میں اصلاحات لا سکتے ہیں‘ شاہ فیصل آفریدی

لا ہور( کامرس رپورٹر)چین کے بیس رکنی وفد سے گفتگو کے دورا ن پاکستان چین جوائینٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شاہ فیصل آفریدی نے کہا کہ پاکستان اور چین مل کر خوراک کے شعبے میں انقلابی اصلاحات لا سکتے ہیں۔چینی وفد مس لیو شیو چن کی قیادت میں لا ہور پہنچا جسکا مقصد پاکستان اور چین کے مابین خوراک کے شعبے میں نئی جدت پیدا کرنا اور اس شعبے کو نئی بلندیوں تک پہنچانا ہے۔وفد کے دیگر ارکان میں شین ٹونگ ہوشن گروپ کے چئرمین چانک روون ،ویہائی رنڈے فوڈ کے مینجر سن کانگ، رونگ چنگ ہونگ فوڈ کے مینیجر یو ان چن ۔ویہائی ین شیانگ امبرائڈری کے جنرل مینیجر شی ین اور ویہائی نونگدے جنرل ٹریڈنگ کے جنرل مینیجر شیو لاشن شامل تھے۔چینی وفد نے خوراک کے ساتھ ساتھ کلاتھنگ اور ایمبرائڈری کے شعبے میں بھی باہمی دلچسپی کا بھی اظہار کیا۔چینی وفد سے تفصیلی میٹنگ کے دوران مسٹر شاہ فیصل آفریدی نے کہا کہ چینی تاجروں کی مدد سے خوراک کی پیداوار اور مارکیٹ میں معیاری اشیاء کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چینی وفد کا یہ دورہ پاکستان اور چین کمے درمیان علاقائی رابطہ، ہم آہنگی اور آپس کے تعاون میں اضافے کے لیے اہم ثابت ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ پنجاب خوراک پیدا کرنے کے لحاظ سے پوری دنیا میں دسویں نمبر پر ہے مگر جدید ٹیکنالوجی کے فقدان کی وجہ سے ہر سال بہت سی خوراک ضائع ہو جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر چین سے جدید ٹیکنالوجی درآمد کی جائے تو اس نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔چینی وفد سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شاہ فیصل آفریدی سے کہا کہ نئی مہارت اور جدید ٹیکنالوجی سے مختلف شعبوں میں جدت پیدا کی جا سکتی ہے۔ان شعبوں میں فروٹ کی پراسیسنگ ،مصالحہ جات، میرین فوڈ ،ٹیکسٹائل، فوڈکاسٹنگ،پروڈکشن،پاور مشینری اور پاور ٹولز شامل ہیں۔ پا کستان چین جوائینٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے چینی وفد کا مختلف پراسیسنگ یونٹس کے دورے کا اہتمام بھی کیا جن میں مرحبا ہیلتھ فوڈ کمپنی اور بنی(Bunny) فوڈزبھی شامل ہیں ۔

مرحبا ہیلتھ فوڈ کمپنی کے دورے کے دوران چینی وفد نے نیچرل فوڈ اور ہربل پراڈکٹ میں باہمی د لچسپی کا اظہار کیا اور ان پراڈکٹس کو چینی مارکیٹ میں متعارف کروانے کی یقیں دہانی بھی کروائی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مہارت اور چینی ایسٹرن میڈیسن سسٹم ملکر کام کریں گے اور اس شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لائیں گے۔چینی وفد نے بنیز(Bunnys)فوڈ کا دورہ بھی کیا جہاں انہوں نے سنیکس ، بنز ، بریڈ، رسک اور فروزن ایٹمز کا بغور مشاہدہ کیا ۔انہوں نے وہاں کے اعلی عہددران سے ملاقات کے دوران مختلف سبزیوں کی ڈی ہائیڈریشن ، پریزرویشن اور انہیں زیادہ دیر تک محفوظ کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔مرحبا ہیلتھ فوڈ کے سی،ای۔او مسٹر عثمان سے چینی وفد کی سربراہ مس لیوشیوچن نے کہا کہ اس سال کے آخر تک پاکستان اور چین کے باہمی تعاون سے خوراک کے شعبے میں تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں گی اور اس شعبے کی ترقی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ چینی تاجر پاکستانی تاجرون کے ساتھ ہمہ وقت کاروبار، خاص طور پر خوراک ،ہربل ادویات اور کلاتھنگ کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ چینی تاجر پاکستانی پراڈکٹس اور امہارت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انکے ساتھ ملکر کاروبار کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔

مزید : کامرس