ربڑاسٹیمپ اسمبلیاں اور بھولے بھالے عوام

ربڑاسٹیمپ اسمبلیاں اور بھولے بھالے عوام
 ربڑاسٹیمپ اسمبلیاں اور بھولے بھالے عوام

  


مجھے نہیں یاد مَیں نے پہلی بار یہ جملہ کب سنا تھا کہ ہماری اسمبلیاں تو صرف ربڑسٹیمپ ہیں، فیصلے کہیں اور ہو جاتے ہیں، اسمبلیوں سے صرف مہریں لگوائی جاتی ہیں۔ کوئی بھی جمہوری یا غیر جمہوری دور ایسا نہیں گزرا، جس میں اسمبلیوں یا مجلس شوریٰ نے کوئی اپنا فیصلہ بھی کیا ہو ۔ اس پر مستزاد ہم نے قوانین ایسے بنا دیئے ہیں کہ کوئی رکن اسمبلی ضمیرکے مطابق اپنی جماعت سے ہٹ کر کوئی رائے دینا بھی چاہے تو نہ دے سکے۔دوسروں کی طرح مَیں بھی حیرت زدہ ہوں کہ جس دن خود حکومت نے سانحہ ء چارسدہ پر سوگ کا اعلان کیا تھا، اس دن قومی اسمبلی میں دو ایسے بل کیوں منظور کروائے گئے جو متنازعہ ہیں اور جن پر اسمبلی کے اندر بھرپور بحث ہونی چاہیے تھی۔ عمومی حالات میں تو کسی رکن اسمبلی کے انتقال پر بھی دعائے فاتحہ کے بعد اجلاس ملتوی کر دیاجاتا ہے، مگر یہاں سانحہ چارسدہ کے 20شہداء کے لئے کچھ بھی نہیں ہوا، الٹا متنازعہ بلوں کے ذریعے ایسا ماحول پیدا کیا گیا، جو سنجیدگی سے زیادہ ٹھٹھہ مخول کے زمرے میں آتا ہے۔

حکومت کو کیا جلدی تھی کہ اس نے پی آئی اے کو کارپوریشن سے کمپنی بنانے اور ٹیکس ایمنسٹی سکیم نافذ کرنے کے بل اتنی تیزی میں اکثریتی رائے سے منظور کرا لئے۔ گویا صرف اسمبلی کو ربڑاسٹیمپ سمجھ کر اس سے منظوری کی مہر لگوائی گئی۔ نہ اس پر کوئی بحث ہوئی اور نہ ہی انہیں مروجہ طریقہ ء کار کے مطابق کسی کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا۔ دونوں بل اس لئے متنازعہ ہیں کہ اپوزیشن ہی نہیں، بلکہ سول سوسائٹی بھی ان کے خلاف ہے۔ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کو چوروں کے لئے مراعات کا بل قرار دیا جا رہا ہے اور پی آئی اے کی نجکاری کی طرف جانے والا اقدام اسے کارپوریشن سے کمپنی بناکر اٹھایا گیا ہے، جس کے خلاف پی آئی اے کے ملازمین سراپا احتجاج ہیں اور حکومت کی طرف سے ان کے احتجاج پر یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں کی جائے گی، مگر پھر اچانک یہ سب کچھ کر لیا گیا۔ حیرت ہے کہ ایسے معاملات میں تو اسمبلی کی اکثریت کا فارمولا استعمال کیا جاتا ہے او رجو کام انتہائی قومی مفاد کے ہوں، ان پر یہ قدغن لگا دی جاتی ہے کہ جب تک پارلیمنٹ میں اتفاق رائے پیدا نہ ہو، ایسے فیصلے نہیں کئے جا سکتے۔ اس قسم کی جمہوریت اور آمریت میں بہت تھوڑا فرق رہ جاتا ہے۔

ایسا نہیں کہ یہ کام صرف وفاقی حکومت یا قومی اسمبلی کر رہی ہے، صوبائی اسمبلیوں میں بھی بل پاس کراتے ہوئے یہی ہٹو بچو کا انداز اپنایا جاتا ہے، جس سے یوں لگتا ہے کہ جمہوریت کوئی چور بازاری کا عمل ہے، جس میں سب کام چھپ کر اور جلدی جلدی کرنا پڑتے ہیں۔

ابھی چند روز پہلے سندھ اسمبلی نے ربڑسٹیمپ ہونے کی انتہا کر دی۔ زیر سماعت مقدمات کو واپس لینے کا اختیار پراسیکیوٹر جنرل کو دینے کا بل اس طرح پاس کیا، جیسے کوئی چوری کرتا ہے۔ شور شرابے میں جب کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی، یہ بل منظور ہو گیا۔ جب بل پاس کرانے والوں کے پاس دلائل نہ ہوں اور ان میں قومی مفاد کی بجائے ذاتی مفاد شامل ہو تو ایسے ہی ہوتا ہے۔ یہ بل سپریم کورٹ میں چیلنج ہو چکا ہے، اب اس کے بارے میں فیصلہ سپریم کورٹ دے گی۔ کیا یہی اسمبلیوں کی آزادی اور حرمت ہے کہ وہ جو قانون بناتی ہیں، اسے عوام کی اتنی حمایت بھی حاصل نہیں ہوتی کہ وہ اسے خوشدلی سے قبول ہی کرلیں، پھر جب عدالتیں، آئین اور قانون کے مطابق ایسے کیسوں پر فیصلے سناتی ہیں تو یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ عدلیہ مقننہ کے اختیارات میں مداخلت کر رہی ہے۔

حکومت نے انتہائی عجلت میں ٹیکس ایمنسٹی سکیم اور پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق جو بل منظور کرائے ہیں، کیا وہ چیلنج نہیں ہو سکتے ۔ کیا کوئی ٹیکس گزار اٹھ کر ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے بل کو امتیازی قرار دے کر رٹ نہیں کر سکتا کہ وہ ہمیشہ سے ٹیکس دیتا آیا ہے، اب ٹیکس چوروں کو چھوٹ کیوں دی جا رہی ہے؟ اس سے اس کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں اور اس کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔۔۔’’ ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ‘‘۔۔۔ کے مصداق، بظاہر تو ان دونوں بلوں کا مقصد کچھ اور بتایا جا رہا ہے، اندر خانے ارادے اور مقاصد کیا ہیں، اس کا عقدہ تو آنے والے دنوں میں کھلے گا۔ کتنے لوگ ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے انکم ٹیکس کے دائرے میں آتے ہیں اور کتنے کالے دھن والے اسے صرف اپنی ناجائز دولت کو جائز ثابت کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح پی آئی اے کو کارپوریشن سے کمپنی بنانے کا بل اس قومی ادارے کی فلاح و ترقی کا ذریعہ ثابت ہوتا ہے یا پھر اس کی بندربانٹ کا ذریعہ بنتا ہے، لیکن جس طریقے سے ان بلوں کو پاس کرایا گیا ہے، اس نے بہت سے شکوک و شبہات پیدا کر دیئے ہیں۔

ایک طرف ہم دیکھتے ہیں کہ حکمران جماعت پارلیمنٹ سے جو چاہے منظور کرا لیتی ہے۔ گویا یہ ایک فرینڈلی پارلیمنٹ ہے، مگر اس کے باوجود وزیراعظم سے لے کر وزیروں مشیروں تک سبھی اس میں آنے سے گھبراتے یا کنی کتراتے ہیں۔ صورتِ حال تو اس حد تک خراب ہو گئی ہے کہ سینٹ میں وزیر دفاع کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔لوگ سوچ رہے ہیں کہ اب خواجہ آصف اپنا’’کوئی شرم ہوتی ہے ،کوئی حیا ہوتی ہے‘‘، والا مکالمہ کہاں بولیں گے، کسے سنائیں گے؟ یا خود اب انہیں یہ ڈائیلاگ سننا پڑے گا۔ اس سے پہلے یہی سینٹ اپنی ایک قرارداد کے ذریعے وزیراعظم نوازشریف کو ایک خاص مدت کے بعد سینٹ میں آنے کا کہہ چکی ہے، مگر انہوں نے بھی نہ آنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ کوئی بھی بڑا فیصلہ پارلیمنٹ میں زیر بحث نہیں لایا جاتا۔ ایل این جی کا معاہدہ ہو یا نریندر مودی کا دورۂ پاکستان اس پارلیمنٹ کو کبھی اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔

مجھے پارلیمنٹ کی صورت حال دیکھ کر کالج کا وہ کلرک یاد آ جاتا ہے ،جس کی یاد سب کو اس وقت آتی ہے، جب انہوں نے مہر لگوانی ہو، کیونکہ مہر اس کے پاس موجود ہے۔ حکمران ویسے تو پارلیمنٹ کے نزدیک نہیں جاتے، لیکن جب کوئی بل منظور کرانا ہوتو اس کی یادستاتی ہے، اس موقع پر جلدی بھی اس عاشق جیسی ہوتی ہے، جو محبوبہ سے مل کر جلد از جلد واپس جانا چاہتا ہے کہ کہیں پکڑا نہ جائے۔ دھرنے کے دنوں میں یہی پارلیمنٹ حکمرانوں کی جند جان بن گئی تھی۔صبح ، شام اس کے صدقے واری جاتے تھے۔ اس کی حرمت و توقیر کے لئے ہر قربانی دینے کا عہد کرتے نہیں تھکتے تھے۔ اب یہی پارلیمنٹ ان کا راستہ دیکھتی ہے، مگر ان کے پاس یہاں آنے کا وقت نہیں، البتہ اس کی مہر انہیں ضرور درکار ہوتی ہے، جو بوقتِ ضرورت انہیں مل جاتی ہے۔۔۔یہ سوال تو لوگ پوچھ پوچھ کر تھک گئے ہیں کہ ہماری جمہوریت عوام کے لئے ثمرآور ثابت کیوں نہیں ہوتی، لوگوں کے حالات کیوں نہیں بدلتے، ان سے جن وعدوں پر ووٹ لئے جاتے ہیں، وہ پورے کیوں نہیں ہوتے،ارکان اسمبلی اپنے منہ پر چپ کی ٹیپ کیوں لگا لیتے ہیں، وہ اپنے حلقے کے عوام سے کئے گئے وعدوں پر حکمرانوں سے باز پرس کیوں نہیں کرتے؟

جب جہانگیر ترین یہ کہتے ہیں کہ وہ وزیراعظم نوازشریف سے لودھراں کے لئے اعلان کردہ اڑھائی ارب روپے کا پیکیج لے کر رہیں گے تو وزیراعظم نوازشریف بھی سوچتے ہوں گے کہ کبھی اسمبلی میں جہانگیر ترین سے سامنا ہوگیا تو ان کے اس سوال کا کیا جواب دیں گے؟ اگر یہی رویہ ہر رکن اسمبلی اپنا لے اور منہ میں چپ کی نسوار ڈال کر سو نہ جائے تو یہی اسمبلی عوام کے دکھوں اور محرومیوں کا مداوا بن جائے، مگر ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ ارکان اسمبلی اپنے ذاتی کاموں اور مفادات کی درخواستیں لے کر وزیراعظم اور وزراء کے پیچھے ضرور پھرتے رہیں گے، مگر عوام کے اجتماعی مفاد کی بات کبھی نہیں کریں گے۔ وہ وزیراعظم اور وزراء کی عدم موجودگی کے باعث اسمبلی میں نہیں آئیں گے اور کورم بار بار ٹوٹتا رہے گا، جس سے انہیں اس لئے کوئی سروکار نہیں کہ ان کا ٹی اے ڈی اے تو اسمبلی اجلاس کے دوران بہر طور بن جاتا ہے۔جس جمہوریت میں اسمبلیاں عوام کو اتنا احساس بھی نہ دلا سکیں کہ وہ ربڑسٹیمپ نہیں، بلکہ اقتدار کے ایوانوں میں عوا م کی آواز ہیں، اس جمہوریت پر عوام کا اعتماد اور اعتبار کیسے قائم ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود عوام جمہوریت کو سپورٹ کرتے ہیں تو اس سے زیادہ معصوم اور بھولے بھالے عوام جمہوریت کے ٹھیکیداروں کو اور کہاں مل سکتے ہیں؟

مزید : کالم