شطرنج اسلام میں ممنوع ہے سعودی مفتی اعظم نے فتویٰ جاری کر دیا

شطرنج اسلام میں ممنوع ہے سعودی مفتی اعظم نے فتویٰ جاری کر دیا

ریاض( آن لائن ) سعودی مفتی اعظم شیخ عبداللہ الشیخ نے شطرنج کو اسلام میں ممنوع قرار دے دیا۔ برطانوی روزنامہ کے مطابق مفتی اعظم شیخ عبداللہ الشیخ نے ایک ٹی وی شو میں روزمرہ معاملات پر ناظرین کے سوالات کے جوابات میں کہا کہ شطرنج ناصرف جوئے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے بلکہ یہ وقت کا ضیاع بھی ہے۔ ان کا موقف تھا کہ شطرنج کا شمار ’جوئے بازی‘ میں ہوتا ہے اور یہ ’پیسے کا ضیاع اور دو کھلاڑیوں کے درمیان نفرت اور دشمنی‘ کا سبب ہے انہوں نے قرآنی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید شراب، بت پرستی جیسے کاموں سے ممانعت کر تا ہے۔ عراق کی شیعہ مذہبی اتھارٹی کے رہنما آیت اللہ السیستانی نے بھی شطرنج کو ممنوع قرار دینے کے حوالے سے احکام جاری کئے ہیں ایران میں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد شطرنج کو حرام قرار دیتے ہوئے اسے ایرانی عوام میں کھیلنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

تاہم 1988 میں اس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ خمینی نے شطرنج پر پابندی اٹھا لی اور اب ایران بین الااقوامی کھیلوں میں شرکت کے لئے اپنے کھلاڑی بھیجتا ہے برطانوی ماہر شطرنج نائیجل شارٹ سعودی مفتی اعظم کے اس فتوے پر تعجب کا اظہار کر تے ہوئے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ شطرنج میں ایسی کوئی بات نہیں جس سے معاشرے کو خطرہ ہو ۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی