تاجر برادری اور معاشی استحکام

تاجر برادری اور معاشی استحکام
تاجر برادری اور معاشی استحکام

  


ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کے بہت سے رازوں میں سے ایک راز یہ بھی ہے کہ وہاں آمدن رکھنے والا ہر شخص ٹیکس کی ادائیگی اپنا قومی فریضہ سمجھ کر کرتا ہے اور حکومتیں ان محاصل سے حاصل ہونے والا سرمایہ توانائی، انفراسٹرکچر، صحت اور تعلیم سمیت ترقی و خوشحالی کے دیگر منصوبوں پر خرچ کرتی ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ٹیکس کی ادائیگی کو ایک مصیبت سمجھا جاتا ہے اور جب بھی ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں، کچھ حلقے اس پر تنقید شروع کر دیتے ہیں۔ ترقی یافتہ اقوام میں ٹیکس اور جی ڈی پی کے درمیان تناسب 30سے 40 فیصد ہوتا ہے ،جبکہ ہمارے ہاں یہ تناسب گیارہ فیصد کے لگ بھگ ہے جو بہت ہی کم ہے، کیونکہ اکثر ترقی پذیر ممالک میں بھی ٹیکس اور جی ڈی پی کے درمیان تناسب پندرہ سے بیس فیصد کے درمیان ہے۔ پاکستان کی آبادی 19 کروڑ کے لگ بھگ ہوچکی ہے ،لیکن افسوس کی بات ہے کہ 30 جون 2014ء کو اختتام پذیر ہونے والے مالی سال کے دوران ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والوں کی تعداد صرف 8,55,429 رہی۔ ان میں سے بھی 3,22,438 افراد نے زیرو ٹیکس ادا کیا، 260,888 نے 20 ہزار سے کم ٹیکس دیا، 240,072 افراد نے 20 ہزار سے 999,999 روپے کے درمیان، 17,477 نے ایک ملین سے 2.5 ملین روپے کے درمیان، 7,237 نے 2.5 ملین روپے سے 5 ملین روپے کے درمیان 3,817نے 5ملین روپے سے 10ملین روپے کے درمیان، جبکہ 3,500افراد نے 10ملین روپے یا اس سے زائد ٹیکس ادا کیا۔ اب جو لوگ آمدن ہونے کے باوجود ٹیکس ادا نہیں کر رہے ،اس کا خمیازہ موجودہ ٹیکس دہندگان کو بھگتنا پڑ رہا ہے، جس کا بہترین حل ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ہے ،لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جب حکومت اس سلسلے میں کوئی قدم اٹھاتی ہے تو ٹیکس ادائیگی سے گریز کرنے والوں کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے دوست بھی احتجاج میں شامل ہو جاتے ہیں جو پہلے ہی ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ تاجر بھائیوں کو اس حقیقت کا علم ہونا چاہئے کہ نواز شریف حکومت تاجر برادری کو حقیقی معنوں میں ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھتی اور ملک کی معاشی ترقی و خوشحالی کے لئے ان کی خدمات کا بھرپور اعتراف کرتی ہے، لہٰذا انہیں حکومت کے خلوص نیت میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ ملکی معیشت کی بحالی اور امن و امان کے قیام کے لئے حکومت کے اقدامات اس بات کے گواہ ہیں کہ نواز شریف حکومت حقیقی معنوں میں ملک کو معاشی طور پر مستحکم دیکھنا چاہتی ہے۔ صنعت و تجارت، معیشت اور امن و امان سمیت تمام امور بڑی کامیابی کے ساتھ بہتری کی جانب گامزن ہیں، اگر صورت حال اسی طرح رہی تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کے سماجی و معاشی مسائل بہت حد تک حل ہو جائیں گے اور پاکستان کا شمار بھی ترقی یافتہ ممالک میں ہوگا، لیکن کامیابی کے لئے تاجر برادری کا بہترین کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ٹیکس وصولی کے نظام میں اصلاحات متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ حکومت نے اپنی توجہ ترجیحی بنیادوں پر چند ایسے بڑے شعبوں پر مرکوز کر رکھی ہے، جن کے معاملات درست ہونے سے دیگر شعبوں کے مسائل خود بخود کافی حد تک حل ہو جائیں گے۔ ان بڑے شعبوں میں توانائی، زراعت، مینوفیکچرنگ سیکٹر، تعلیم، پانی، انسانی وسائل، معدنیات، صحت عامہ اور غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی شامل ہیں۔

بدقسمتی سے ماضی کی حکومتوں نے ان شعبوں کو بہت بری طرح نظرانداز کرکے ملک کو معاشی تباہی کی طرف دھکیلا، لیکن شکر ہے کہ اب حالات مسلسل بہتری کی طرف گامزن ہیں۔ آپریشن ضرب عضب کی بدولت دہشت گردی کا ناسور جڑ سے اکھڑ رہا ہے۔ آئے روز توانائی کی پیداوار کے کسی نہ کسی منصوبے کا افتتاح ایک اچھے مستقبل کی نوید دے رہا ہے، دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات بہتر سے بہتر ہوتے جا رہے ہیں۔ مارک اپ 6.0 فیصد کے ساتھ ،جبکہ افراط زر 1.61 فیصد کے ساتھ تاریخ کی کم ترین سطح پر ہیں۔ انفراسٹرکچر بہتر ہو رہا ہے ، جبکہ 46 ارب ڈالر حجم کا پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ نہ صرف پاک چین دوستی کا ایک اور لازوال ثبوت بن گیا ہے، بلکہ عالمی برادری کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لئے بہترین ملک ہے، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ چونکہ پاکستان کی معاشی بنیاد زرعی شعبے پر قائم ہے، لہٰذا وفاقی و پنجاب حکومتیں زرعی شعبے میں انقلاب لانے کے لئے بہت اہم اقدامات اٹھا رہی ہے۔ پانی کی قلت پاکستان ہی نہیں، بلکہ ساری ترقی پذیر دنیا کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اس اہم مسئلے پر حکومت کی بھرپور توجہ ہے اور اس کے حل کے لئے بہت سے پراجیکٹس پر کام جاری ہے۔ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں پانی کے منصوبوں کے لئے خاطر خواہ فنڈز بھی مختص کئے جائیں گے، لیکن یہ سب کچھ تب ہی ممکن ہوسکے گا، جب ٹیکس نیٹ سے باہر شعبے ٹیکس نیٹ میں آئیں گے، لہٰذا تاجروں کو چاہیے کہ بلاوجہ کسی کی باتوں میں آنے کے بجائے ٹیکس اصلاحات کے معاملے پر حکومت کو سپورٹ کریں، جس سے نہ صرف ایماندار ٹیکس دہندگان کی حوصلہ افزائی ہوگی اور ان پر سے بوجھ کم ہو گا،بلکہ حکومت کے محاصل بھی بڑھیں گے۔

مزید : کالم