بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن!

بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن!

گزشتہ روز گدو تھرمل پاور پلانٹ میں آتشزدگی کے باعث منگلا اور تربیلا کی ٹرانسمیشن بھی ٹرپ کر گئی، جس سے پنجاب ، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کئی گھنٹے تک تاریکی میں ڈوبے رہے،جبکہ آج (جمعہ) گدو تھرمل سے حیدر آباد جانے والی ٹرانسمیشن لائن ٹوٹ کر گر گئی اور حیدر آباد سے جیکب آباد تک شہری برقی رو سے محروم ہو گئے۔ یہ ایک بڑا بریک ڈاؤن ہے، جو ایک ہفتے میں دوسری اور اب تیسری مرتبہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق کم پیداوار اور زیادہ لوڈ کے باعث حادثات ہوئے۔دورِ جدید میں صنعت و حرفت کے علاوہ کاروبارِ حیات کا تمام تر انحصار برقی توانائی پر ہے، بجلی بند ہونے سے صنعت کا پہیہ بھی رُک جاتا ہے، جبکہ گھروں میں بھی پریشانی ہوتی ہے،جمعرات کو ہونے والا بریک ڈاؤن بہت بڑا تھا اور اس سے آدھے سے زیادہ مُلک متاثر ہوا، صورت حال یہ تھی کہ یو پی ایس بھی جواب دے گئے اور شہریوں کو اندھیرے میں بیٹھنا پڑا۔ یہ اطلاع بھی ہے کہ گیس تو پہلے ہی نہیں تھی، بجلی سات آٹھ گھنٹے کے بعد ہی بحال ہونا شروع ہوئی،اس عرصے میں شہریوں نے کھانے کے لئے ہوٹلوں کا رُخ کیا اور جو ہوٹل جنریٹر سے روشنی لیتے یا ایل پی جی سے کھانے تیار کرتے ہیں ان پر بہت رش ہو گیا تھا۔یہ حادثات افسوسناک ہیں، اگرچہ متعلقہ ادارے اس کو اتفاقیہ قرار دے رہے ہیں، لیکن عقل و فہم یہ عذر تسلیم نہیں کرتی، بات پیداوار اور ضرورت کی ہے، پہلے ہی لوگ چھ سے چودہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ بھگت رہے ہیں کہ اوپر سے ایسے بریک ڈاؤن شروع ہو گئے ہیں، شعبہ بجلی کے ماہرین اسے زیادہ لوڈ کا کرشمہ قرار دے رہے ہیں، لیکن حقیقت بیان کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ وزارتِ خزانہ ایک کنجوس بنئے کا کردار ادا کر رہی ہے، آئی پی پیز سے بجلی مل سکتی ہے، جو لی نہیں جاتی کہ ادائیگی کرنا پڑتی ہے، دوسری طرف خود بجلی پیدا کرنے اور تقسیم کرنے والے شعبوں کا سوال ہے جو رینوویشن کے کام میں تاخیر کرتے ہیں، ترسیل کا نظام پرانا ہو چکا ہے، اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، مرحلہ وار پروگرام تو بنا بنایا ہے، لیکن عمل درآمد میں کمی ہے اس کے لئے قوم کو جوابدہی لازم ہے، پیداوار اور ترسیل کے ذمہ دار حضرات کو اس طرف توجہ دینا ہو گی اور محترم وزیر خزانہ بھی قوم کے حال پر رحم فرمائیں اور جب تک تربیلا اور منگلا کی کمی ہے،کم از کم اس حد تک آئی پی پیپز کو ادائیگی کر کے بجلی لے لیں تاکہ عوام کی پریشانی کسی حد تک کم ہو سکے۔ بعض حلقوں نے ان حادثات کو تخریب سے بھی جوڑا ہے۔ اس پہلو پر بھی تحقیق ہو تو بُری بات نہیں،ویسے بریک ڈاؤن کے حوالے سے مکمل تحقیق لازمی ہے۔

مزید : اداریہ