دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے میں کیسے کامیابی حاصل ہو گی؟

دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے میں کیسے کامیابی حاصل ہو گی؟

پاک فضائیہ کے سربراہ ائر چیف مارشل سہیل امان نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت کر اِس لعنت کو جڑ سے ختم کر دے گا، مسلح افواج دہشت گردوں کو ختم کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں،کوئی بھی جنگ فضائی قوت کے بغیر نہیں جیتی جا سکتی۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے گزشتہ روز افغان صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور افغانستان میں اتحادی افواج کے کمانڈر جنرل جان کیمبل سے ٹیلی فون رابطے کئے، اور باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کے حملے کے شواہد سے انہیں آگاہ کرتے ہوئے ملوث ذمہ داران تک پہنچنے اور ٹارگٹ کرنے کے تعاون کا مطالبہ کیا،جنرل راحیل شریف نے افغان قیادت اور جنرل کیمبل کو بتایا کہ دہشت گردوں کو افغانستان سے کنٹرول کیا گیا اور کالعدم ٹی ٹی پی کے کارکنوں نے افغان ٹیلی فون کے ذریعے دہشت گردوں کو ہدایات دیں اُمید ہے افغان قیادت سمیت ایساف کمانڈر دہشت گردی میں ملوث ذمہ داروں کو تلاش کر کے انہیں نشانہ بنانے میں پاکستان سے تعاون کریں گے۔ دوسری جانب پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کہا ہے کہ باچا خان یونیورسٹی پر حملے کی جتنی بھی مذمت کی جائے، کم ہے، درس گاہ پر حملہ پاکستان پر حملے کے مترادف ہے،پاکستان میں دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے میں پوری قوم پُرعزم ہے۔

چار سدہ میں تازہ دہشت گردی کے جو شواہد سامنے آئے ہیں اس میں افغان سرزمین اور افغان ٹیلی فون استعمال ہونے کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کی بات بھی کی ہے، بعض دوسرے حلقے بھی یہی بات کر رہے ہیں، تاہم دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ افغانستان سے رابطہ ہے تحقیقات مکمل ہونے تک نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان وکاس سوراب نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے اس واقعہ میں بھارت کے ملوث ہونے کے الزامات بے بنیاد ہیں، پاکستان نے باضابطہ طور پر ایسا کوئی معاملہ بھارت کے ساتھ نہیں اُٹھایا۔ بیرون مُلک دہشت گردی کے ذمہ دار جو عناصر بھی ہیں، حملہ آوروں کا تعلق تو اسی سرزمین سے ہے، افغان حکومت کے ساتھ معاملہ تو بروقت اُٹھا دیا گیا ہے،اب دیکھنا یہ ہے کہ وہاں سے عملاً کیا جواب آتا ہے اور جس قسم کا تعاون پاکستان کو درکار اور مطلوب ہے کیا وہ میسر بھی آئے گا یا نہیں؟ اہم بات یہ ہے کہ کیا افغان حکومت صدِق دل سے ایسا تعاون فراہم کر سکتی ہے؟ اس کے بعد سوال پیدا ہو گا کہ خود افغان حکومت کے پاس دہشت گردوں کو قابو کرنے کی صلاحیت کس حد تک موثر ہے؟ کیونکہ افغانستان میں بھی دہشت گردی کی وارداتیں ہوتی رہتی ہیں اور وہاں تو ریڈ زون تک میں بھی اِس عفریت کو قابو نہیں کیا جا سکا، تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو افغانستان اپنے ہاں دہشت گردوں کو قابو نہیں کر سکا وہ پاکستان کو کیا تعاون فراہم کرسکتا ہے؟ ہمارے خیال میں اس سلسلے میں خود افغان حکومت کی صلاحیتیں محدود ہیں اِس لئے دہشت گردی کو اگر جڑ سے اکھاڑنا ہے اور قوم نے اِس کا عزم کر لیا ہے تو پاکستان کو اپنی قوتِ بازو ہی پر انحصار کرنا ہو گا۔

دہشت گردوں کے ضمن میں یہ بات بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے لئے باقاعدہ تربیت یافتہ ہیں، اُن کے پاس جدید ترین اسلحہ ہے، وہ ٹارگٹ کا انتخاب خود کرتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنے اہداف بھی بدلتے رہتے ہیں۔ وہ جس جگہ کو ہدف بناتے ہیں وہاں اچانک حملہ کر دیتے ہیں اور اپنے ہدف کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیتے۔گزشتہ برس آرمی پبلک سکول پر حملے میں یہی ٹیکنیک استعمال کی گئی،ائر فورس بیس بڈھ بیر پر حملہ کیا گیا تو نمازیوں کو اچانک جا لیا، اگرچہ ان واقعات میں تمام دہشت گردوں کو قابو کر کے مار دیا گیا، باچا خان یونیورسٹی میں بھی چاروں دہشت گرد ہلاک کر دئے گئے، لیکن اپنی ہلاکت سے پہلے وہ بہت سا جانی نقصان کر چکے تھے،دہشت گرد اپنی وارداتوں کے لئے مختلف شہروں کا انتخاب کرتے رہتے ہیں۔ ابھی تھوڑا عرصہ پہلے مردان میں نادرا کے دفتر کے باہر خود کش بمبار نے خود کو اُڑا لیا تھا،اِس کا مطلب یہ ہے کہ دہشت گرد بیک وقت خود کش بمباروں اور حملوں کی ٹیکنیک استعمال کر رہے ہیں، اس صورتِ حال کے پورے تجزیئے کے بعد اس سے نپٹنے کی وسیع تر حکمتِ عملی تیار کرنا ہو گی اور اب تک اِس ضمن میں جو کوتاہیاں سامنے آئی ہیں اُنہیں دور کرنا ہو گا۔ منصوبہ بندی بیرون مُلک کہاں ہو رہی ہے اور اس میں کون کون سے عناصر ملوث ہیں اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جو دہشت گرد عملاً قتل و غارت کرتے ہیں اور آلۂ کار کی حیثیت ہی سے جو کارروائیاں کرتے ہیں اُن سے براہِ راست نپٹنے کے لئے ہماری کتنی تیاری ہے؟

وزیراعظم نواز شریف نے ڈیووس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے تعلیمی اداروں کو سافٹ ہدف بنا لیا۔ یہ بات درست بھی ہو سکتی ہے،کیونکہ تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی انتظامات بعض دوسرے دفاتر کی نسبت کم تر سطح کے ہوتے ہیں، لیکن یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہئے کہ اب اگر تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی کا انتظام بہتر کیا جائے گا تو پھر دہشت گرد کوئی دوسرا سافٹ ہدف تلاش کر لیں گے،انہیں تو ہمیشہ ایسا ہدف ہی درکار ہوتا ہے، جہاں مزاحمت کم سے کم ہو اور وہ نقصان زیادہ سے زیادہ پہنچانے کی پوزیشن میں ہوں،اس لئے آئیڈیل صورت تو یہ ہے کہ پورے مُلک میں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے جائیں، جن میں کوئی رخنہ نہ ہو اور کوئی دہشت گرد اس سے فائدہ نہ اُٹھا سکے۔ اگر ہماری تیاریاں وقتی اور محدود ہوں گی اور چند دن تک مستعد رہنے کے بعد ہم اسی پہلے والی حالت کی جانب لوٹ جائیں گے تو پھر دہشت گرد تو ’’آسان ہدف‘‘ ہی تلاش کریں گے۔

پاکستان میں دہشت گردی کا تجزیہ ایک اور پہلو سے بھی کرنے کی ضرورت ہے،دُنیا میں جہاں کہیں دہشت گردی کا آغاز ہوا انہوں نے جوابی انتظامات شروع کر دئے، جو بڑی حد تک موثر بھی ثابت ہوئے۔ یہ بات یوں ثابت ہوئی کہ یہ مُلک ایک آدھ بڑے واقعہ کے بعد بہتر پوزیشن میں آ گئے اور وہاں اول تو کوئی بڑی واردات دوبارہ نہ ہو سکی یا اگر ہوئی تو بہت معمولی، پھر یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ وہاں جو انتظامات کئے گئے اُن سے مطلوبہ نتائج بھی نکلے، پاکستان میں جب سے دہشت گردی کا آغاز ہوا،2015ء کا سال ایسا تھا جب دہشت گردی نسبتاً کم ہوئی تاہم اس سال میں بعض بڑے بڑے واقعات بھی ہو گئے، پنجاب کے وزیر داخلہ کرنل(ر) شجاع خانزادہ اسی سال میں جام شہادت نوش کر گئے، حالانکہ پنجاب میں دہشت گردی کی وارداتیں نسبتاً کم ہوتی ہیں۔ کرنل شجاع خانزادہ اسم بامسمّیٰ تھے وزیر داخلہ ہونے کی حیثیت سے خود بھی سیکیورٹی امور کے نگران تھے، لیکن اُن کی کھلی کچہری میں خود کش بمبار گھس گیا، کیا یہ سیکیورٹی میں کسی خامی کا نتیجہ تھا، ہمیں دہشت گردی کے ہر واقعہ کا سائنسی تجزیہ کر کے درست نتیجے پر پہنچنا ہو گا، تبھی دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے گا۔ اس وقت اگر دہشت گرد ہفتے دو ہفتے یا زیادہ وقفے کے بعد بھی کوئی بڑی واردات کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اُن کے راستے میں کوئی ایسی دیوار کھڑی نہیں کی جا سکی، جو ہر حالت میں اُن کا راستہ روکنے کے قابل ہو ، ہمیں سیکیورٹی انتظامات کو جنگی بنیادوں پر پایہ تکمیل تک پہنچانا ہو گا۔ سیکیورٹی ایسی ہونی چاہئے کہ کوئی بھی ہدف دہشت گردوں کے لئے’’ آسان ہدف‘‘ نہ ہو، تبھی بیخ و بن سے اکھاڑنے کا خواب پورا ہو گا۔

مزید : اداریہ