کیا تاجکستان ٹھیک کر رہا ہے اور ہم کیا کر رہے ہیں؟

کیا تاجکستان ٹھیک کر رہا ہے اور ہم کیا کر رہے ہیں؟

اسرائیل نے کہا ہے کہ اسے داعش سے اتنا خطرہ نہیں ہے۔ جتنا ایران سے ہے۔ خبر یہ بھی ہے کہ بال�آخر پنٹاگون نے افغانستان میں موجود قلیل امریکی افواج کو داعش کے خلاف آپریشن کرنے کی اجاز ت دے دی ہے۔ اس سے قبل انہیں صرف طالبان کے خلاف کسی بھی قسم کا آپریشن کرنے کی اجازت تھی۔ سانحہ باچا خان یونیورسٹی کے بعد پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ بھی ٹی وی ٹاک شوز میں زور شور سے کہہ رہے تھے کہ داعش کا پنجاب میں کوئی وجود نہیں ہے۔ صرف درجن بھر لوگ لڑنے کے لئے شام گئے ہیں۔ باقی پنجاب میں ان کا کوئی دفتر اور ریکروٹمنٹ سنٹر نہیں ہے۔

سانحہ باچا خان ہونیورسٹی کے بعد حکمران اور اسٹبلشمنٹ ایک نئی تھیوری کے ساتھ عوام کے سامنے آئے ہیں کہ چونکہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑد یا گیا ہے اس لئے وہ اب سافٹ ٹارگٹس پر حملہ کر رہے ہیں۔ یقیناًآرمی پبلک سکول باچا خان یونیورسٹی پر حملے سافٹ ٹارگٹس پر حملے ہیں۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی کہ یہ کیا کہا جا رہا ہے ۔ کیا یہ کہا جا رہا ہے کہ فوج اور دیگر عسکری اداروں نے اپنی تمام جگہوں کی سیکیورٹی کو اس قدر محفوظ کر لیا ہے کہ دہشت گرد اب ان پر حملہ نہیں کر سکتے۔ اِسی طرح حکمرانوں نے بھی خود کو اتنا محفوظ کر لیا ہے کہ دہشت گرد ان پر حملہ نہیں کر سکتے۔ اس لئے اب دہشت گردوں کے پاس کوئی اور چارہ نہیں رہا کہ عوام پر حملے کریں۔ یعنی سافٹ ٹارگٹس پر حملے کریں۔ کیا اس کو ہم اپنی کامیابی سمجھیں، کیونکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا تو باچا خان یونیورسٹی کے سانحہ کے بعد بر ملا کہہ رہے ہیں کہ ان کی حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ عوام کا تحفظ کر سکے۔اِسی طرح کی صورت حال کا پنجاب سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں کو بھی سامنا ہے کہ ان کے پاس بھی اتنے وسائل نہیں ہیں کہ عوام کا مکمل تحفظ کر سکیں۔ اس لئے دہشت گردوں کے پاس سافٹ ٹارگٹس (یعنی عوام) پر حملہ کرنے کی کھلی چھٹی ہے۔ اب اگر اس کو دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں کامیابی کہا جا ئے تو نا کامی کسے کہا جائے گا؟

خبر تو یہ بھی ہے کہ تاجکستان کی حکومت نے اپنے مُلک میں13ہزار لوگوں کی داڑھیاں صاف کرا دی ہیں۔ 1700خواتین کو حجاب لینے پر حکومت کی جانب سے سخت وارننگ جا ری کر دی گئی ہے۔ مُلک بھر میں حجاب اور دیگر اسلامی لباس بیچنے والی دکانیں سیل کر دی گئی ہیں۔ مُلک کی واحد اسلامی جماعت جس کی پارلیمنٹ میں تھوڑی سی نمائندگی تھی، اس پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ بچوں کے عربی اسلامی نام رکھنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اور اس کے ساتھ فرسٹ کزن میں شادی پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ تمام اقدامات تاجکستان کو سیکولر ریاست بنانے اور مُلک سے جہادی کلچر کو ختم کرنے کے لئے کئے گئے ہیں۔ تاجکستان کی حکومت اس لئے پریشان ہے کہ اس کے دو ہزار لوگ شام میں داعش میں شامل ہو گئے ہیں اور حکومت کا خیال ہے کہ ہمسایہ افغانستان سے مُلک میں جہادی کلچر داخل ہو گیا ہے اور پروان چڑھ گیا ہے، جس کو روکنے کے لئے داڑھیاں کٹوانی اور حجاب پر پابندی لگانا ناگزیر ہے۔

تاجکستان کے بارے میں تو یہ کہنا مشکل ہے کہ اس کی حکومت نے کبھی مُلک میں جہادی کلچر کو پروان چڑھانے کی سرپرستی کی ہو، لیکن پاکستان میں جہادی کلچر کو پروان چڑھانے اور سیکولرزم کو نا کام بنانے کے لئے اسٹبلشمنٹ اور نام نہاد جمہوری حکومتوں نے سرپرستی کی ہے۔ یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ یہ عمل ذوالفقار بھٹو کے دور میں ہی شروع ہو گیا تھا۔ جب اتوار کی بجائے جمعہ کی چھٹی کر دی گئی۔ مُلک بھر میں موجود شراب خانے بند کر دئے گئے۔ اسلامک سمٹ کا انعقاد کیا گیا۔ ایٹمی پروگرام کو اسلامی ایٹمی پروگرام اور بم کو اسلامی بم کہا گیا۔ اتنے سب کے بعد مُلک میں نظام مصطفی کی تحریک اور اسلامی تحریکوں کا زور پکڑنا کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی، جب ایک سیکولر لیڈر نے اس قدر اسلامی بنیاد رکھ دی تو اسلامی تحریکوں کو ہمت مل گئی۔

یہ تو پاکستان کے عوام کا حوصلہ ہے کہ اسٹبلشمنت کی جانب سے نظام مصطفی کی تحریک کی مکمل سرپرستی ۔ جنرل ضیاء الحق کے دس سالہ اسلامی نظام۔ جہادی تنظیموں کے گلی گلی دفتر۔ ریکروٹمنٹ سنٹر۔ کے باوجود یہ عوام اسلامی تحریکوں کو ووٹ نہیں دیتے۔شائد تاجکستان میں تو مساجد میں جہادیوں کو کبھی اس طرح بھرتی نہیں کیا گیا، جس طرح پاکستان کی مساجد میں کیا گیا۔ شائد تاجکستان میں تو کبھی جہاد میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ بڑے بڑے دینی و سیاسی قیادت نے نہیں پڑھائی۔ شائد تاجکستان میں تو کبھی جہاد کی ٹریننگ کے سنٹرز نے اسٹبلشمنٹ کے سائے میں کام نہیں کیا جیسے پاکستان میں کیا ہے اور پھر بھی تاجکستان سے دو ہزار لوگ داعش کے ساتھ لڑنے چلے گئے ہیں، جبکہ پاکستان سے جانے والوں کی تعداد اس سے کہیں کم ہے۔ حساس اداروں کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ مُلک بھر سے چند سو لوگ بھی بمشکل گئے ہوں گے۔ شائد اِسی لئے پاکستان میں تاجکستان سے کم سنگینی کا احساس کیا جا رہا ہے۔

مَیں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ تاجکستان کی حکومت نے درست اقدامات کئے ہیں۔ جہادی کلچر سے نبٹنے کا یہی صحیح طریقہ ہے۔ داڑھی پر پابندی سے ہی داعش اور جہادی کلچر کو شکست دی جا سکتی ہے۔ حجاب پر پابندی سے ہی خواتین کو داعش میں شامل ہونے سے روکا جا سکتا ہے، لیکن کیا لاہور سے داعش میں شامل ہونے والی خاتون کا اپنے خاوند کے نام آڈیو پیغام ٹی وی ٹا ک شوز میں چلانا درست حکمت عملی ہے؟

پاکستان کا سب سے بڑا لمیہ یہ ہے کہ ہم سیکولرزم اور اسلامائزیشن کے درمیان لٹک رہے ہیں۔ ہم لبرلزم اور بنیاد پرستی کے درمیان لٹک رہے ہیں۔ وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ انہیں ایک لبرل پاکستان کے لئے ووٹ ملے ہیں، لیکن وہ لبرل پاکستان کی طرف کوئی قدم بڑھانے کے لئے تیار نہیں۔ کیا پارلیمنٹ میں خواتین کی سیٹیں بڑھانے سے مُلک لبرل ہو جائے گا۔ یہ کیا دوہرا معیار نہیں ہے کہ ہم پارلیمنٹ میں تو خواتین کی سیٹیں بڑھا رہے ہیں، لیکن مخلوط تعلیمی نظام کی مخالفت کر رہے ہیں۔ جب وہ اکٹھے پڑھ نہیں سکتے تو اکٹھے کام کیسے کریں گے۔

اگر تاجکستان کی حکومت ٹھیک نہیں کر رہی اور اس کے منفی نتائج سامنے آئیں گے تو ہم کونسا ٹھیک کر رہے ہیں۔ اگر چین سرکاری حکم سے ایک بچے کی پالیسی پر عمل کروا سکتا ہے۔ تو یہ ماننا ہو گا کہ سرکاری پالیسیوں کا عوام پر بہت اثر ہو تا ہے۔ سرکاری حکم چاہے غلط ہو ۔عوام کے لئے سرکار کا حکم ماننا آسان ہو تا ہے۔ اس کے لئے بھر پور اخلاقی جواز موجود ہو تا ہے۔ اِسی لئے تو یہ حکم بھی ہے کہ جہاد کا ا علا ن بھی صرف حکومت ہی کر سکتی ہے، لیکن پاکستان کا مسئلہ تو یہ ہے کہ حکومت کنفیوژہے۔ جب تک حکومت کنفیوژن سے نہیں نکلے گی۔ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔

مزید : کالم