اہم مقدمات میں پرائیویٹ وکلاء کی خدمات لینے پرایڈووکیٹ جنرل نوید رسول مرزا مستعفی

اہم مقدمات میں پرائیویٹ وکلاء کی خدمات لینے پرایڈووکیٹ جنرل نوید رسول مرزا ...

 لاہور(نامہ نگارخصوصی)ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نوید رسول مرزا نے حکومت کی طرف سے اہم مقدمات میں پرائیویٹ وکلاء کی خدمات حاصل کرنے پراپنے عہدہ سے استعفا دے دیا ۔ذرائع کے مطابق گزشتہ روز اورنج لائن ٹرین منصوبہ کے کیس میں ایک سینئر وکیل کی ایک کروڑ 25لاکھ روپے فیس کے عوض خدمات حاصل کرنے کے لئے حکومت کی طرف سے بھجوائی گئی سمری اس استعفا کی فوری وجہ بنی ۔ایڈووکیٹ جنرل نوید رسول مرزا نے یہ سمری مسترد کردی اوراپنا استعفا گورنر کو بھجوا دیا ۔آئین کے آرٹیکل 140(4)کے تحت بھیجے گئے استعفا میں مستعفی ہونے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی ہے ،ایڈووکیٹ جنرل نوید رسول مرزا کا استعفا ایک فقرہ پر مشتمل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ "میں اپنے عہدہ سے مستعفی ہورہاہوں "۔نوید رسول مرزا کے قریبی ذرائع نے پاکستان کو بتایا کہ نوید رسول مرزا کا کہنا ہے کہ اہم مقدمات میں پرائیویٹ وکلاء کی خدمات حاصل کرنا دراصل ہم پر حکومت کا عدم اعتماد ہے جب ہم حکومت کے اعتماد پر پورا نہیں اتر پا رہے تو پھر ہمیں اس عہدہ پر برقرار رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔اس سے قبل بھی حکومت متعدد مقدمات میں پرائیویٹ وکلاء کی خدمات حاصل کرچکی ہے جس پر ایڈووکیٹ جنرل کو تحفظات تھے ۔نوید رسول مرزا کو مارچ2015ء میں ایڈووکیٹ جنرل مقرر کیا گیا تھا ،وہ 10ماہ 16دن اس عہدہ پر برقرار رہے ۔ نوید رسول مرزا نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب آفس میں ساتھی لاء افسروں کے ساتھ الوداعی ملاقات بھی کی ۔

مزید : صفحہ اول