این اے 122ضمنی الیکشن ،سردارایاز صادق کی درخواست پر بحث مکمل

این اے 122ضمنی الیکشن ،سردارایاز صادق کی درخواست پر بحث مکمل

لاہور(نامہ نگار)عبد العلیم خان کی جانب سے دائر حلقہ این اے 122ضمنی الیکشن مبینہ دھاندلی کیس کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق سردار ایاز صادق کی درخواست پر بحث مکمل ہوگئی، الیکشن ٹربیونل نے درخواست پر فیصلہ 26جنوری تک محفوظ کر لیا۔پاکستان تحریک انصاف نے این اے 122کے ضمنی الیکشن کے وقت ووٹوں کی غیر قانونی منتقلی اور جعلی ووٹوں کے اندراج کے خلاف آئین کے آرٹیکل 52کے تحت معاملے کو الیکشن ٹربیونل میں چیلنج کررکھا ہے جبکہ سردار ایاز صادق نے الیکشن ٹربیونل میں عبدالعلم خان کی پٹیشن کے قابل سماعت ہونے کے خلاف درخواست دی ہوئی۔گزشتہ روزدوران سماعت سردار ایاز صادق کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ عبد العلم خان کی پٹیشن اوتھ کمشنر سے قانون کے مطابق تصدیق شدہ نہیں تصدیق کا دن اور تاریخ درخواست پر ہونا ہے جو درج نہیں، ووٹر لسٹوں کی منتقلی نادرا کی ذمہ داری ہے سردار ایاز صادق کا اس میں کوئی کردار نہیں ،علاوہ ازیں نادرا کے اقدامات کے خلاف درخواستوں کی سماعت الیکشن ٹربیونل نہیں کر سکتا۔پٹیشن قابل سماعت نہیں ،خارج کی جائے۔ دوسری جانب عبدالعلم خان کے وکیل انیس علی ہاشمی کا دوران بحث موقف اختیار کیا کہ پٹیشن قانون کے مطابق تصدیق ہوئی ،سردار ایاز صادق کو کامیاب کرانے کے لئے ضمنی الیکشن سے قبل دیگر حلقوں سے 30ہزار ووٹ حلقہ این اے 122میں غیر قانونی طور پر منتقل کئے گئے اور الیکشن سے تعلق رکھنے والے کوئی بھی اقدام الیکشن ٹربیونل میں چیلنج ہوسکتا ہے ،الیکشن ٹربیونل محمد رشید قمر نے پٹیشن کے قابل سماعت ہونے یا قابل سماعت نہ ہونے سے کی حد تک کیس پر فیصلہ محفوظ کر لیا جو 26جنوری کو سنایا جائے گا۔

مزید : صفحہ آخر