دہشتگردی کے ناسور نے قومی اور بین الاقوامی کلچر کو متاثر کیا: پرویز رشید

دہشتگردی کے ناسور نے قومی اور بین الاقوامی کلچر کو متاثر کیا: پرویز رشید

لاہور (کرائم رپورٹر)دہشت گردی کے ناسور نے نہ صرف قومی اور بین الاقوامی کلچر کو متاثر کیا ہے بلکہ اس نے حالات اور ماحول میں غیر یقینی اور بد امنی کی فضاء کو فروغ دیا ہے اور جس کی وجہ سے انسانی رویے بھی متاثر ہو رہے ہیں اور منفی سوچیں پروان چڑھ رہی ہیں۔ دہشت گردی کی اس جنگ میں جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے فرنٹ لائن فورس کا کرداراور اسی طرح انفارمیشن آفیسر بھی اسی مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کے لئے ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ، پرویز رشید نے آج سنٹرل پولیس آفس لاہور میں وزارت اطلاعات کے پراجیکٹ Pakistan Peace Collectiveکی طرف سے پولیس اور دیگر محکموں کے افسروں کی دو روزہ تربیتی ورکشاپ کے اختتامی اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ورکشاپ میں کمانڈنٹ وار کالج ،لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد اقبال، سابق وفاقی سیکرٹری اطلاعات، سلیم گل شیخ اور ڈائریکٹر جنرل PPC، شبیر انور کے علاوہ تمام سینےئر پولیس افسران نے شرکت کی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت اطلاعات اور نشریات اپنے پراجیکٹ PPCکے ذریعے تمام سرکاری اداروں میں افسروں کے لئے تربیتی ورکشاپ کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کے انتہائی مثبت اثرات حاصل ہو رہے ہیں ۔انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ، مشتاق احمد سکھیرا نے اس موقع پر وزارت اطلاعات کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ PPCکی طرف سے منعقد کی گئی اس تربیتی ورکشاپ سے پولیس آفیسرز کی انتہائی مثبت تربیت کی گئی ہے جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی اس جنگ میں میڈیا بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہا ہے اور انہیں بروقت حقائق اور اطلاعات فراہم کرنا پولیس کا بنیادی فرض ہے اور یہی اس تربیتی ورکشاپ میں افسروں کو سکھایا گیا ہے۔مشتاق سکھیرا نے کہا کہ پنجاب پولیس صوبے سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے اور اسے جڑ سے اکھاڑکر دم لیں گے تا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جا سکے۔آئی جی پنجاب نے اس موقع پر PPCکی چیف ایگزیکٹو، بشریٰ تسکین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس طرح کی ورکشاپ منعقد کر کے ایک ایسی روایت ڈالی ہے جس کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا تا کہ میڈیا اور پولیس کے رابطوں کو مزید اور قابل اعتماد بنایا جا سکے۔آخر میں وزیر اطلاعات ، آئی جی پنجاب اور بشریٰ تسکین نے ورکشاپ کے شرکاء میں اسناد تقسیم کیں۔

مزید : صفحہ آخر