محلے دار نے شوہر کو گھر کی دہلیز پر قتل کر دیا، برسوں سے انصاف مانگ رہی ہوں: مدعی مقدمہ

محلے دار نے شوہر کو گھر کی دہلیز پر قتل کر دیا، برسوں سے انصاف مانگ رہی ہوں: ...

لاہور(کامران مغل )محلے دار نے اپنے3بچوں کوسکول چھوڑنے کاپہلے ساڑھے 7ہزار روپے ماہانہ طے کیا ، پھر 2ماہ تک پیسے نہیں دیئے ،بعدازاں رقم مانگنے کے اصرارپر میرے شوہر(رکشہ ڈرائیور) کورات 9بجے گھر کی دہلیز پر سر میں ڈنڈے مار کر موت کے گھاٹ اتاردیا۔ملزم پہلے 3سال تک اشتہاری رہا جسے 2011ء میں گرفتارکیا گیا،گزشتہ 96ماہ سے کیس سیشن عدالت میں زیرسماعت ہے لیکن اب تک 12میں سے صرف 2کی شہادتیں قلمبند ہوسکی ہیں ۔میں بیوہ ہوں،بچوں کی کفالت کروں یا پھر عدالتوں کے دھکے کھاؤں؟گزشتہ کئی سالوں سے انصاف کی بھیک مانگ رہی ہوں لیکن میرا دکھ کوئی سننے والا نہیں ،ہر بار تاریخ پر تاریخ دے دی جاتی ہے لیکن مقدمہ کا فیصلہ نہیں ہورہا ہے ۔پاکستان کی جانب سے ’’ایک دن ایک عدالت ‘‘کے سلسلے میں کئے جانے والے سروے کے دوران ڈاکٹرغوث والی گلی بادامی باغ کی رہائشی بیوہ جمیلہ بی بی نے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کے بارے میں روتے ہوئے بتایا کہ اس کا شوہر محمد اشرف رکشہ ڈرائیور تھا ،ہم کرائے کے گھر میں رہائش پذیر تھے جس کا 8ہزار روپے ماہانہ کرایہ دینا پڑتا تھا،میرا شوہر مقامی محلے کے کچھ گھروں کے 5بچوں کو وہ سکول چھورٹا اور واپس لاتا تھا جن میں ایک مقامی محلے دار عبدالرحمن نے بھی اپنے 3بچوں کو سکول چھوڑنے کے لئے 2500روپے فی کس کے حساب سے رکشہ لگوایا تھا جس کل رقم ساڑھے 7ہزار روپے بنتی تھی ، ہم ہر گھر سے 5تاریخ کو پیسے لے لیتے تھے کیوں کہ ہرماہ 10تاریخ کو مالک مکان کو کرایہ دینا ہوتا تھالیکن عبدالرحمن نے فروی 2008کی فیس سمیت اس سے اگلے ماہ مارچ کی بھی نہیں دی جس پر میں نے اپنے 12سالہ بیٹے عمر کو پیسے لینے عبدالرحمن کے گھر بھیجا جس پر اس نے کہا کہ 2دن تک وہ پیسے دے دیگا جس کے بعد میرا شوہران کے گھر پیسے لینے گا لیکن عبدالرحمن گھر پر موجود نہیں تھا جس پر اس نے اس کی بیوی کہا کہ وہ غریب لوگ ہیں ،مکان کا کرایہ دینا ہے لہذا پیسے دے دیں ،13مارچ 2008ء کو یہ پیغام دے کر میرا شوہر گھر آگیا جس کے بعد رات 9بجے کے قریب عبدالرحمن نے گھر کے دورازے پر دستک دی جیسے ہی میرے شوہر نے دروازہ کھولا تو مذکورہ شخص نے میرے شوہر کے سر میں ڈنڈے مار کر اسے لہولہان کردیا اور موقع سے فرار ہوگیا ،فوری طبی امداد کے لئے اسے مقامی ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکا ،بعدازاں پویس نے میری مدعیت میں مقدمہ نمبر976/08بجرم302/34درج کرلیا۔ متاثرہ بیوہ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ پہلے تو ملزم 3سال تک اشتہاری رہا جس کے بعد2011ء میں اسے گرفتار کیا گیا ، انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ8سالوں سے شوہر کے قتل کو سزا دلوانے کے لئے اکیلی میں عدالتوں میں دھکے کھار رہی ہوں لیکن ابھی تک مقدمہ کا فیصلہ نہیں ہوا ہے ، مذکورہ مقدمہ میں 12شہادتوں میں سے اب تک صرف2ہی ریکارڈ ہوسکی ہیں ،میں غریب ہوں کیا میرا یہ ہی قصورہے اور مجھے انصاف کب ملے گا؟مقدمہ مدعی کے وکلاء کا کہنا تھا کہ مذکورہ خاتون کے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے ، ستم بالا ستم یہ کہ وہ بیوہ ہے اور اس کے باوجود انصاف کے لئے عدالتوں میں خوار ہورہی ہے جوافسوس ناک امر ہے ، وکلاء کا مزید کہنا تھا کہ یہ کیس کافی عرصہ سے سیشن عدالت میں زیرسماعت ہے اور مختلف ایڈیشنل سیشن ججز نے اس کیس کی سماعت کی ہے لیکن ابھی تک اس کا فیصلہ نہیں ہوسکا ہے ، اب اس کیس کی ایڈیشنل سیشن جج ساحر اسلام کی عدالت میں سماعت جاری ہے ، فاضل جج نے اس کیس میں شہادتیں طلب کررکھی ہیں اور اس کیس کی مزید سماعت 27جنوری کو ہوگی ۔

مزید : صفحہ آخر