سندھ اسمبلی: باچا خان یونیورسٹی پرحملے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور

سندھ اسمبلی: باچا خان یونیورسٹی پرحملے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی نے جمعہ کو ایک قرار داد اتفاق رائے سے منظور کر لی ، جس میں باچا خان یونیورسٹی چار سدہ پر دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کی گئی اور یہ مطالبہ کیا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کو تیز کیا جائے اور پاکستان کے ہر شہری کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے ۔ یہ قرار داد تمام پارلیمانی جماعتوں کی طرف سے مشترکہ طور پر پیش کی گئی ۔ قرار داد میں کہا گیا کہ ’’ یہ ایوان باچا خان یونیورسٹی چار سدہ پر دہشت گردوں کے بہیمانہ حملے کی مذمت کرتا ہے ، جس میں اساتذہ اور طلباء سمیت 20 سے زائد افراد شہید ہو گئے ۔ یہ ایوان اس سانحہ پر اپنے گہرے رنج و غم اور سوگوار خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہے ۔ انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کا یہ بہیمانہ اقدام ہمارے لیے ایک چیلنج ہے ۔ یہ واقعہ پاکستان کے نوجوانوں اور آئندہ نسل پر حملہ ہے ، جو یہ تقاضا کرتا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن تیز کیا جائے اور تمام متعلقہ سکیورٹی اداروں کے مضبوط رابطوں سے پاکستان کے ہر شہری کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے ۔ قرار داد پر خطاب کرتے ہوئے سینئر وزیر برائے تعلیم و پارلیمانی امور نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ پاکستان میں انتہا پسندی کا آغاز 1977 ء سے ہوا ، جب جمہوری حکومت پر شب خون مارا گیا اور بعد میں جمہوری حکومتوں کو کام نہیں کرنے دیا گیا ۔ پاکستان کو دوسروں کی جنگ میں جھونک کر مزید حالات خراب کیے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اجتماعی دانش سے نمٹا جا سکتا ہے ۔ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کسی صوبے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ پورے ملک میں بلا امتیاز کارروائی کی جائے ۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو امن دینے کے لیے سنجیدگی سے کام کرنا ہو گا ۔ اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہارالحسن نے کہا کہ آج بھی اچھے اور برے طالبان کا فرق موجود ہے ۔ آج بھی دوسرے ملکوں میں ہماری دلچسپیاں موجود ہیں حالانکہ ہمیں پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کو کراچی ایکشن پلان نہ بنایا جائے ۔ مجرموں کے خلاف ضرور کاررائی کی جائے مگر قوموں کے خلاف کارروائی نہ کی جائے ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو بے نقاب کیا جائے اور ان کے خلاف ایکشن لیا جائے ۔ وزیر بلدیات جام خان شورو نے کہا کہ کچھ سیاسی اور مذہبی جماعتیں نیشنل ایکشن پلان کی سیاسی طور پر حمایت نہیں کرتی ہیں ۔ جب تک تمام سیاسی جماعتیں پلان کی سیاسی طور پر حمایت نہیں کریں گی ، تب تک دہشت گردی ختم نہیں ہو گی ۔ دہشت گردوں کو دہشت گرد کہنا ہو گا ۔ قرار داد پر پیپلز پارٹی کے ارکان سید سردار علی شاہ ، خیرالنساء مغل ، نصرت سلطانہ اور امداد علی پتافی ، ایم کیو ایم کے ارکان ہیر اسماعیل سوہو ، سید خالد احمد ، انجینئر صابر حسین قائم خانی ، رؤف صدیقی اور فیصل سبزواری ، مسلم لیگ (فنکشنل) کی مہتاب اکبر راشدی ، تحریک انصاف کی ڈاکٹر سیما ضیاء اور مسلم لیگ (ن) کی سورٹھ تھیبو نے بھی خطاب کیا ۔ قرار داد کی منظوری کے بعد اسپیکر نے اجلاس پیر کی صبح تک ملتوی کر دیا ۔

مزید : کراچی صفحہ اول