سعودی عرب سے ایک ایسی خبر آگئی کہ جان کر آپ کے غصے کی بھی انتہا نہ رہے گی

سعودی عرب سے ایک ایسی خبر آگئی کہ جان کر آپ کے غصے کی بھی انتہا نہ رہے گی
سعودی عرب سے ایک ایسی خبر آگئی کہ جان کر آپ کے غصے کی بھی انتہا نہ رہے گی

  

جدہ(مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام ہمیں سادگی، اور اصراف سے بچنے کا حکم دیتا ہے مگر امیر عرب ممالک میں اشیائے خورونوش کس قدر ضائع کی جاتی ہیں یہ جان کر آپ حیران ہو جائیں گے۔ عرب نیوز ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق صرف مکہ المکرمہ میں ہی سالانہ اس قدر کھانا ضائع کیا جاتا ہے کہ اس سے افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے 18پسماندہ ممالک کے بھوکے بچوں میں سے 17فیصد کا پیٹ بھرا جا سکتا ہے۔ ان ملکوں میں فاقے کا شکار بچوں کی تعداد تقریباً50لاکھ ہے۔ یعنی 17فیصد کے حساب سے صرف مکہ المکرمہ میں ضائع ہونے والے کھانے سے ساڑھے 8لاکھ بچوں کی بھوک مٹائی جا سکتی ہے۔

مزید جانئے: سعودی عرب نے تنخواہ نہ ملنے پر غیر ملکی ملازمین کو خوشخبری سنا دی

مکہ المکرمہ کے چیئریٹی فوڈ پراجیکٹ کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ ”مکہ المکرمہ میں ایک درمیانے درجے کی شادی کی تقریب میں اتنا کھانا ضائع کیا جاتا ہے کہ اس سے 250لوگ سیر ہوسکتے ہیں۔ “ انہوں نے کہا کہ ”رواں برس سالانہ چھٹیوں کے دوران شادیوں اور دیگر سماجی تقریبات سے بچ جانے والا کھانا 24ہزار لوگوں کو کھلایا گیا۔ یہ کھانا مکہ کے 120شادی ہالوں میں سے صرف60ہالز سے اکٹھا کیا گیاتھا۔ اس کا مطلب ہے کہ شہر میں بڑے پیمانے پر کھانا ضائع کیا جا رہا ہے جس کی مقدار کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ مکہ المکرمہ کے 30فیصد شہری تقریبات میں بچ جانے والے کھانے کی اطلاع نہیں دیتے۔“

مزید : بین الاقوامی