نئے لاءکالجز کے الحاق پر پابندی ،طلباءکی تعداد 100مقرر،تین سالہ ایل ایل بی کورس ختم ،پاکستان بار کونسل نے رولز جاری کردیئے

نئے لاءکالجز کے الحاق پر پابندی ،طلباءکی تعداد 100مقرر،تین سالہ ایل ایل بی ...
نئے لاءکالجز کے الحاق پر پابندی ،طلباءکی تعداد 100مقرر،تین سالہ ایل ایل بی کورس ختم ،پاکستان بار کونسل نے رولز جاری کردیئے

  


لاہور(نامہ نگار خصوصی )پاکستان بار کونسل نے ملک بھر کی یونیورسٹیوں کو نئے لاءکالجز کے الحاق سے روک دیا ہے جبکہ پاکستان میں بیرونی ممالک کی یونیورسٹیوں کے لاءپروگرامز کو بھی پاکستان بارکونسل کے این او سی سے مشروط کردیا گیا ہے ۔پاکستان بار کونسل نے "مشروم لاءکالجز"کی حوصلہ شکنی کے لئے نئے رولز جاری کرتے ہوئے ان پر عمل درآمد کے لئے تمام یونیورسٹیوں اور ڈگریاں جاری کرنے والے تعلیمی اداروں کو چٹھی بھیج دی ہے جس میں آئندہ کے لئے ایل ایل بی کا 3سالہ پروگرام ختم اور لازمی طور پر 5سالہ ڈگری پروگرام شروع کرنے کی پابندی عائد کی گئی ہے ۔پاکستان بار کونسل کے اس مراسلے میں کہا گیا ہے کہ آئندہ ایل ایل بی ڈگری کا کورس 5سال سے کم نہیں ہوگا ۔آئندہ ایل ایل بی 3سالہ پروگرام میں کسی قسم کا داخلہ نہیں ہوگا تاہم یونیورسٹیاں اور لاءکالجز جاری 3سالہ ایل ایل بی کورس کو مکمل کرسکتی ہیں ۔آئندہ ایل ایل بی کے پہلے سال میں کوئی یونیورسٹی او ر تعلیمی ادارہ 100سے زیادہ طالب علم داخل نہیں کرے گا۔کسی یونیورسٹی اور لاءکالج میں ایل ایل بی کی شام کی کلاسز نہیں ہوں گی تاہم موجودہ کورس کی تکمیل تک شام کی کلاسیں جاری رکھی جاسکتی ہیں ۔کسی بھی لاءکالج اور ڈگری دینے والے تعلیمی ادارے کو ایل ایل ایم اور پی ایچ ڈی کی کلاسز شروع کرنے سے قبل پاکستان بار کونسل سے اجازت لینا ہوگی جو ادارے اس وقت ایل ایل ایم اور پی ایچ ڈی کی کلاسز کاآغاز کرچکے ہیں ان کے لئے 6ماہ کے اندر پاکستان بار کونسل سے ان پروگرامز کی منظوری لینالازم ہوگا ۔ہر یونیورسٹی اور لاءکالج کو تعلیمی سال کے آغاز پر سرٹیفکیٹ دینا ہوگا کہ پاکستان بار کونسل کے ان رولز پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد کیا جارہا ہے ۔کوئی لاءکالج اور تعلیمی ادارہ پاکستان بار کونسل سے این او سی حاصل کئے بغیر کسی بیرونی یونیورسٹی کی لاءڈگری کا پروگرام شروع نہیں کرسکتا،جو ادارے اس وقت بیرونی ممالک کی یونیورسٹیوں کے لاءڈگری پروگرامز شروع کرچکے ہیں ان کے لئے بھی ان رولز کے اجراءکے بعد 6ماہ کے اندر پاکستان بار کونسل سے این او سی لینا ضروری ہوگا۔

مزید : لاہور