ماضی میں ریلوے کو نظر انداز کرنے سے منافع بخش ادارہ خسارے کی نذرہو ا ،پراکس سے معاہدہ طے پا گیا ،14کروڑ اضافی آمدن متوقع:خواجہ سعد رفیق

ماضی میں ریلوے کو نظر انداز کرنے سے منافع بخش ادارہ خسارے کی نذرہو ا ،پراکس ...
ماضی میں ریلوے کو نظر انداز کرنے سے منافع بخش ادارہ خسارے کی نذرہو ا ،پراکس سے معاہدہ طے پا گیا ،14کروڑ اضافی آمدن متوقع:خواجہ سعد رفیق

  


لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے ماضی میں  ریلوے کو نظر انداز کیا گیاجس سے ایک منافع بخش ادارہ خسارے کی نظر ہو گیا‘پاکستان ریلوے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ریلوے اپنے ذیلی ادارے ’’پراکس‘‘ کے ذریعے نیشنل وملٹی نیشنل کمپنیوں کے برانڈز کی تشہیر کرے گا جس سے 14کروڑ روپے سالانہ اضافی آمدن ہو گی۔

ریلوے کے گریڈ ایک سے 11تک کے ملازمین کیلئے مراعاتی پیکیج سمیت ریائشی سہولتوں پر کروڑوں روپے خرچ کئے جائیں گے ، ریلوے پولیس کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے گا، اورنج لائن ٹرین منصوبہ میں آنے والی ریلوے کی زمین اور سٹرکچر کی پنجاب حکومت ادائیگی کرے گی۔

نجی ٹی وی کے مطابق ریلوے ہیڈکوارٹر میں ریلوے اور پراکس کے درمیان معاہدہ کے موقع پر اجلاس سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ریلوے کے پاس 527سے زیادہ اسٹیشن اور 50مسافر ٹرینیں موجود ہیں جو تمام نیشنل اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی تشہیر کے مواقع مہیا کر سکتے ہیں کہ و ہ اپنے پراڈکٹس کی مارکیٹنگ ایک محفوظ اور قابل اعتماد طریقے سے بڑے پیمانے پر پورے پاکستان میں انتہائی آسان اور کم ریٹ پر اشتہارات کی صورت میں کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی نظریہ کے تحت ریلوے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ریلوے اپنے ذیلی ادارے پراکس کے ذریعے ریلوے اسٹیشنوں اور ٹرینوں کی برانڈنگ اور خوبصورتی اور وہاں مسافروں کو مزید سہولیات فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ابتدائی مرحلہ میں 14ریلوے اسٹیشنوں اور پانچ ٹرینوں کے ذریعے برانڈزکی تشہیر کی جائے گی جس سے ریلوے کوسالانہ تقریبا14کروڑ سے زیادہ اضافی آمدن حاصل ہو گی جبکہ دوسرے مرحلے میں یہ منصوبہ باقی تمام ریلوے اسٹیشنوںاور ٹرینوں تک بڑھایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبہ کیلئے عوامی ایکسپریس ‘ ہزارہ ایکسپریس ‘ کراچی ایکسپریس‘ خیبر میل اور تیز گام کی ٹرینوں جبکہ حیدر آباد کراچی کینٹ ‘کراچی سٹی‘ خانیوال‘ لاہور‘ لانڈی ‘ ملتان‘ پشاور ‘ کوئٹہ ‘ راولپنڈی‘ روہڑی ‘ وزیر آباد‘ کوٹ لکھپت اور لاہور کینٹ کا انتخاب کیا گیاہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کے محنت کشوں کی فلاح و بہبود کیلئے بہت سے اقدامات کئے جا رہے ہیں جس سے ان کا معیار زندگی بلند ہو گااور ان کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے نے گریڈ ایک سے 11تک کے ملازمین کیلئے ایک پیکیج کا فیصلہ کیا ہے جس پر 39کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے ‘ جس سے 75ہزار ملازمین کو فائدہ پہنچے گا جو یکم جنوری سے لاگو ہو گااور اس پیکیج کا اطلاق ٹیکنیکل الاو¿نس ‘ ٹائم کیٹگری کے ملازمین پر ہو گا۔ وفاقی وزیر نے تمام سیاسی جماعتوں سے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو کالا باغ ڈیم کی طرح متنازعہ بنانے کی کوشش نہ کی جائے یہ ملکی مفاد میں نہیں ہو گا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اورنج لائن ٹرین منصوبہ میں آنے والی ریلوے کی زمین اور سٹرکچر کی پنجاب حکومت ادائیگی کرے گی ۔وفاقی وزیر نے سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ رائل پام کنٹری کلب کے مقدمہ کی ترجیحی بنیادوں پر سماعت کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ پشاور میں اربوں روپے کی ریلوے اراضی پر قبضہ مافیا نے ٹرک اڈہ بنایا ہو ا ہے جو کہ حکم امتناعی پر ہے جس کا فیصلہ بھی ہونا چاہئے۔

مزید : قومی