قومی احتساب بیورو ۔ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے پر عزم

قومی احتساب بیورو ۔ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے پر عزم
 قومی احتساب بیورو ۔ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے پر عزم

  

پاکستانی قوم بہترین صلاحیتوں کی حامل ایک ایسی قوم ہے جوہر مشکل وقت اور ہر گھڑی پر نہ صرف اپنے باہمی اختلافات بھلا کر یکجاہو ئی ہے ،بلکہ پاکستانی قوم نے اﷲتعالیٰ کے فضل و کرم سے نا ممکن کو ممکن بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ۔پاکستان کو اس وقت جس بڑے چیلنج کا سامنا ہے، وہ ہے بدعنوانی۔بدعنوانی ایک ناسور ہے جو کسی بھی ملک کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے۔ ہمارے سامنے بہت ساری مثالیں ہیں کہ جن ممالک نے ترقی کی منازل طے کیں ،انہوں نے اپنے ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے قومی جذبے کے تحت بدعنوانی خلاف عوامی شعور کو اجاگر کرنے کے لئے بھی مل کر کام کیا اور بدعنوانی کو کم سے کم سطح پر لے آئے۔مجھے صدر مملکت جناب ممنون حسن کی تقریر کے وہ الفاظ آج بھی یاد ہیں جس میں انہوں نے بد عنوانی کو جہاں تمام برائیوں کی جڑ قرار دیا وہاں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ کرپشن دیمک کی طرح ملک کو چاٹ رہی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر اپنے بچپن کا زمانہ بھی یاد کیا جب لوگ بدعنوان عناصر کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور بعض اوقات تو ان سے قطع تعلق کرلیتے تھے کیونکہ اس وقت لوگوں کا یہ پختہ یقین تھا کہ بد عنوانی اور ناجائز طریقوں سے کمائی گئی دولت کے استعمال سے برکت ختم ہوجاتی ہے او ر انسان کو فائدے کی بجائے نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بدعنوان عناصر نہ صرف ملک کو مالی طور پر نقصان پہنچاتے ہیں، بلکہ معاشرے میں بھی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے۔ بدعنوانی ایک ایسا ناسور ہے جو ملک کی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔

قومی احتساب بیوروکے موجودہ چیئرمین قمر زمان چودھری نے ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے لیئے جہاں شبانہ روز سخت محنت کی وہا ں انہوں نے اس کے لئے بہترین حکمت عملی ترتیب دی جس پربلا تفریق عمل کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو نے بدعنوان عناصر کے خلاف شواہد کی بنیا د پر قانون کے مطابق کارروائی کی اور 285 ارب روپے کی لوٹی ہوئی رقم بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائی جو ایک بہت بڑی کامیابی ہے ۔ اس کے علاوہ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین قمر زمان چودھری نے قومی احتساب بیورو کو ایک غیر جانبدار اور پروفیشنل ادارہ بنا یا ۔نیب کے افسران کی محنت سے گذشتہ دو سال کے دوران شفافیت اورپروفیشنل ازم بڑھانے میں مدد ملی ہے اور آج کا نیب ایک نیا نیب ہے جس کا برملا اظہار نہ صرف عوام نے گزشتہ سالوں کی نسبت امسال دوگنا درخواستیں دے کر کیا بلکہ غیر جانبدار اداروں ،جن میں ٹرانسپرینسی انٹر ینشل اور پلڈاٹ نے بھی قومی احتساب بیورو کی کاوشوں کا اعتراف کیا ہے ۔

معاشرے اور ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنے کے لئے قومی احتساب بیورو کے چیئر مین قمرزمان چودھری نے قومی احتساب بیورو کا دائرہ کار ملک کے کونے کونے میں پھیلانے کا نہ صرف عزم کیا بلکہ اس کو پورا کر کے دکھایا۔ آج ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ پورے ملک کی آواز بن چکا ہے جس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے قومی احتساب بیورو ہمہ وقت بدعنوان عناصر کے خلاف بلا تفریق قانون کے مطابق کارروائی کرنے کے لئے متحرک ہے۔ قومی احتساب بیورو کا صدرمقام اسلام آباد جبکہ اس کے آٹھ علاقائی دفاتر کراچی، لاہور ، کوئٹہ ، پشاور، راولپنڈی، سکھر، ملتان اورگلگت بلتستان میں کام کررہے ہیں جو بدعنوان عناصر کے خلاف اپنے فرائض قانون کے مطابق سرانجام دے رہے ہیں۔ قومی احتساب بیورو نے اپنی موجودہ افرادی قوت کو بڑھانے اور ان کی استعداد کار میں اضافہ کے لئے جہاں میرٹ پر 104 نئے تحقیقاتی افسران بھرتی کئے ہیں وہاں ان کو جدید خطوط پر پولیس ٹریننگ کالج سہالہ میں تربیت دی گئی۔ ان کی تربیت کی تکمیل کے بعد تفتیش اور تحقیقات کا نہ صرف معیار بڑھا ہے بلکہ تحقیقاتی افسروں کے کام میں اب مزیدتیزی آئی ہے۔ نیب اب پہلے سے زیادہ بہتر پوزیشن میں اپنا کام کرنے کا اہل ہے۔

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین قمر زمان چودھری کی ہدایت پر نیب کے افسران کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے اور اسے مزید بہتر بنانے کے لئے جامع معیاری گریڈنگ سسٹم شروع کیا گیا ۔ اس گریڈنگ سسٹم کے تحت نیب کے تمام علاقائی بیور وز کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ انہیں نہ صرف ان کی خوبیوں اور خامیوں سے آگاہ کیا جاتاہے بلکہ ان خامیوں کو دور کرنے کی ہدایت بھی کی جاتی ہے۔ نیب نے ایک موثر مانیٹرنگ اینڈ ایلیویشن نظام بنایا ہے جس کے تحت تمام شکایات کوجلد نمٹانے کے لئے انفراسٹرکچراورکام کرنے کے طریقہ کار میں جہاں بہتری آئی، وہاں شکایات کی تصدیق سے انکوائری اور انکوائری سے لے کر انویسٹی گیشن اوراحتساب عدا لت میں قانون کے مطابق ریفرنس دائر کرنے کے لئے ((10 دس ماہ کا عرصہ مقرر کیا ۔ قومی احتساب بیورو نے نیب میں عصرِ حاضر کے تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پراسیکیوشن ڈویژن میں نئے لاء افسروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی۔ اب نئے آپریشن ڈویژن کے تحت نئے تحقیقاتی افسروں اور پراسیکیوشن ڈویژن میں نئے لاء افسروں کی تعیناتی سے دونوں ڈویژن مزید متحرک ہو گئے ہیں۔ قومی احتساب بیورو نے اپنے تحقیقاتی افسروں اور نئے لاء افسروں کی جدید خطوط پر استعداد کار کو بڑھانے کے لئے ٹریننگ پروگرامز بھی ترتیب دئیے ہیں ، جہاں ان کو ملکی اور بین الاقوامی ماہرین کرپشن اور وائٹ کالر جرائم کے حوالے سے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے تحقیقات کے بارے میںآگاہی فراہم کی گئی، یہی وجہ ہے کہ قومی احتساب بیور و کا مجموعی طور پر Conviction Rate تقریباََ77 فیصد ہے۔

نوجوان کسی بھی ملک کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ قومی احتساب بیورونے ملک بھر کی یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلبہ وطالبات کو کرپشن کے اثرات سے آگاہی فراہم کرنے کے لئے ایک (MoU) پر دستخط کئے۔ قومی احتساب بیورو،ہائر ایجوکیشن کے ساتھ مل کر ملک بھر کی یونیورسٹیوں اور کالجز میں اس وقت تک تقریباً 42 ہزارکریکٹر بلڈنگ سوسائٹیز کا قیام عمل میں لا چکا ہے جس کے حو صلہ افزاء نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔نیب نے اسلام آباد میں فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے جس میں ڈیجیٹل فرانزک، دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیئے کی جدید سہولتیں میسر ہیں۔ فرانزک سائنس لیبارٹری کے قیام کا مقصد معاشرے سے بدعنوانی کے خاتمے کے لئے بڑھتی ہوئی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نیب کو جدید آلات سے لیس کرنا ہے ۔ فرانزک سائنس لیبارٹری کے قیام سے ایک تو وقت کی بچت ہوتی ہے دوسری کوالٹی اور سکریسی برقرار رہتی ہے۔

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین قمرزمان چودھری کی تجویز پر پاکستان میں سارک انٹی کرپشن سیمینار منعقد ہوا جس میں بھارت سمیت سارک ممالک نے پاکستان کی انسداد بدعنوانی کی کاوشوں کو سراہا اور قومی احتساب بیورو کی تجویز پر سارک انٹی کرپشن فورم کے قیام پر متفق ہو گئے جو کہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی تھی۔

بدعنوانی تمام ترقی پذیر ملکوں بالخصوص شرح نمو اور معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لئے کوشاں ایشیائی ملکوں کے لئے بڑی لعنت ہے جس سے معاشی ترقی کو نقصان پہنچتا ہے، گذشتہ دو عشروں کے دوران بدعنوانی کے عالمی معیشت پر برے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔پاکستان اور چین کے درمیان بدعنوانی کے خاتمے سے متعلق امور میں تعاون کے لئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط سے چین اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی اور تجارتی تعاون کے تناظر کے علاوہ دونوں ملکوں کی حکومتوں کو شفاف اور بد عنوانی سے پاک ماحول کی فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی اور اس سے دونوں ممالک بدعنوانی کے خاتمہ میں ایک دوسرے کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھائیں گے ،نیزدونوں دوست ملکوں کے درمیان تعاون میں مزید اضافہ ہو گا۔ دونوں ملکوں کے درمیان بدعنوانی کی روک تھام کے لئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط اہم پیشرفت ہے۔ بدعنوانی سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی ،ملکی ترقی میں رکاوٹ اور عدم اعتماد جیسے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، بدعنوانی کی وجہ سے درآمدات اور برآمدات کے اخراجات میں اضافے سے تجارتی خسارہ بڑھتا ہے،تاہم بدعنوانی پر قابو پاکر تجارتی خسارہ پر قابو پایا جا سکتا ہے اور ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

چیئرمین نیب قمرزمان چودھری کی ہدایت پر قومی احتساب بیورو نے اپنے ہر علاقائی دفتر میں ایک شکایت سیل بھی قائم کیا ہے، اس کے علاوہ نیب نے انویسٹی گیشن آفیسرز کے کام کرنے کے طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لیا ۔ ان کے کام کو مزید مؤثر بنا نے کے لئے سی آئی ٹی(CIT) کا نظام قائم کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت سینئر سپروائزری افسران کے تجربے اور اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر، انویسٹی گیشن آفیسرز اور سینئر لیگل کونسل پر مشتمل سی آئی ٹی(CIT) کا نظام قائم کیا گیا ہے جس سے نہ صرف کام کا معیار بہتر ہوا ہے، بلکہ کوئی بھی شخص انفرادی طور پر تحقیقات پر اثرا انداز نہیں ہوسکے گا۔

قومی احتساب بیورو کو مضاربہ /مشارکہ سکینڈل میں تقریباََ43 ہزاردرخواستیں موصول ہوئیں۔جن پر قومی احتساب بیورو نے قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے تقریباََ 616 ملین روپے کی رقم ریکور کرنے کے علاوہ ان سے تقریباََ 6ہزار کنال زمین، 10 مکانات اور 12 قیمتی گاڑیاں برآمدکرنے کے علاوہ 28ریفرنس احتساب عدالتوں میں دائر کر چکا ہے تاکہ عوام کی لوٹی ہوئی رقوم ملزمان سے ریکور کرکے متاثرین کو واپس کی جا سکیں۔

قومی احتساب بیورونے پورے ملک میں عوام کو کرپشن کے مضر اثرات سے آگاہی کے لئے بھر پو مہم چلائی جس کے بڑے دور رس نتائجؓ برآمد ہورہے ہیں۔ مزیدبرآں پورے ملک میں تمام کیبل آپریٹرز نے اپنے اپنے کیبل چینلز پر قومی احتساب بیورو کے پیغامات، جن پر کرپشن اور رشوت سے اجتناب کریں ،کرپشن ملک کی ترقی اور معیشت کے لئے زہر ہے ،چلائے جا رہے ہیں جن کے ذریعے عوام کو کرپشن کے مضر اثرات سے آگاہی حاصل ہو رہی ہے ۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ کسی ایک فرد ، ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی ذمہ داری ہے کہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لئے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔

قومی احتساب بیورو نے اپنے قیا م سے اب تک کے سفر میں جو نمایاں کامیابیا ں حاصل کی ہیں وہ نیب افسران کی انتھک محنت اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہیں۔ قومی احتساب بیورو کے موجودہ چیئرمین قمرزمان چودھری بھی ٹیم ورک پر یقین رکھتے ہیں ،وہ اپنے فرائض کو ہمیشہ میرٹ اور ایمانداری کے ساتھ سرانجام دیتے ہیں اور اس کا درس وہ اپنے تمام افسران اور اہلکاروں کو بھی دیتے ہیں ،وہ کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کو اپنا قومی فریضہ سمجھتے ہیں۔

مزید : کالم