بھارت میں مسلم خواتین سے بدسلوکی

بھارت میں مسلم خواتین سے بدسلوکی
 بھارت میں مسلم خواتین سے بدسلوکی

  

خواتین کیلئے جہنم سمجھا جانے والا ملک بھارت 2022ء میں انسانوں کی دلدل بن جائے گا جہاں نوے فیصد آبادی بنیادی حقوق سے محروم ہوگی۔خواتین کو تحفظ فراہم نہ کرنے کی وجہ سے بھارت کو دنیا میں خواتین کیلئے جہنم کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں خواتین کیلئے آج بھی جانوروں سے بھی بدتر سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ لیکن 2022ء میں یہ صورتحال یکسر تبدیل ہوجائے گی۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت کی آبادی 2022ء میں چین سے تجاوز کرجائے گی۔

سیکولر ریاست کے دعویداربھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی غیر محفوظ ہو کر رہ گئیں۔ بھارت میں عورتیں اپنے ہی گلی محلوں میں محفوظ نہیں۔ ہندو انتہا پسندوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت نے اتنا اندھا کیا کہ بنگلور میں اوباش بھارتی نوجوانوں نے برقعہ پوش مسلمان لڑکی کو روکا اور جنسی طور پر ہراساں کیا۔بھارتی شہر بنگلور میں نیو ائیر نائٹ پر خواتین پر ہونے والے جنسی حملے کا طوفان تھما نہ تھا کہ ایک اور دل خراش واقعہ پیش آگیا مگر اس بار نشانہ بنی ایک مسلم خاتون جسے گھر جاتے ہوئے جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی خاتون کی چیخ و پکار شاید وہاں کے رہائشیوں کو نہ سنائی دی ہو لیکن گلی میں گھومنے والے آوارہ کتوں نے صورت حال کو دیکھ کر ان درندہ صفت ہندووں پر بھونکنا شروع کردیا جس کے باعث وہ خاتون کی زبان کاٹ کر فرار ہوگئے۔مسلم خاتون کو زخمی حالت میں دیکھ کر علاقہ مکینوں نے بنگلور پولیس کو اطلاع دی جس پر پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر خاتون کو اسپتال منتقل کیا۔ نیو ائیر نائٹ پر بھی بنگلور کی سڑکوں پر جشن منانے والی کئی خواتین پر جنسی حملے کئے گئے تھے جس کے باعث کئی خواتین زخمی ہوگئی تھیں۔ خواتین پر ہونے والے جنسی حملے کے بعد بنگلور پولیس کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ بالی ووڈ کے کئی فنکاروں نے نیو ائیر پر خواتین کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کو بھارت کے لئے بد نما داغ قرار دیا ہے۔

مقبوضہ کشمیرمیں بزرگ کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی کی سرپرستی میں قائم فورم اور جموں و کشمیر مسلم لیگ نے سینٹرل جیل سرینگر میں نظربندوں کے ساتھ ملاقات کیلئے آنے والی خواتین کے ساتھ سی آر پی ایف اہلکاروں کے تذلیل آمیز سلوک پر شدید ردعمل ظاہرکیا ہے۔ انتظامیہ کو وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں خواتین کے ساتھ اس قسم کی زیادتی ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گی۔ انہوں نے جیل انتظامیہ کو خبردار کیا کہ اگر ملاقاتیوں کو بدسلوکی کا نشانہ بنانے کا سلسلہ بند نہیں کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ سینٹرل جیل میں گزشتہ دنوں ایک خاتون ملاقاتی کو نیم برہنہ کرنے کے خلاف جیل میں نظر بند کشمیریوں نے احتجاج کرتے ہوئے ملاقات اور اپنے خلاف مقدمات کی سماعت کیلئے عدالت جانا بند کردیا تھا ، جس کے بعد جیل انتظامیہ کی جانب سے اس طرح کی بدسلوکی دوبارہ نہ کرنے کی یقین دہانی کے بعد نظربندوں نے اپنا احتجاج بند کر دیا تھا۔ تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ جیل میں ایک مرتبہ پھر خواتین کی تذلیل کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے پر نظربندوں نے ملاقاتوں کا سلسلہ بند کیا اور عدالتوں میں پیش ہونے سے انکار کردیا ہے۔

جموں و کشمیر مسلم لیگ نے بھی ایک بیان میں سرینگر سینٹرل جیل میں سی آر پی ایف اہلکاروں کی طرف سے کشمیری نظر بندوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی شدید مذمت کی ہے کہ کشمیری خواتین کے ساتھ بھارتی فوجیوں کا ناشائستہ رویہ روز کا معمول بن چکا ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی اور مقامی تنظیموں سے اپیل کی گئی کہ وہ جیلوں میں کشمیری نظربندوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک اور ملاقات کیلئے آنے والے ان کے رشتہ داروں کے ساتھ بدسلوکی کاسخت نوٹس لیں۔

بھارت میں خواتین کی عصمت دری کا سلسلہ جس طرح عام ہو چکا تھا اس کا لازمی نتیجہ یہی نکلنا تھا کہ اب اس ملک میں خواتین سے زیادتی کو کمائی کا لرزہ خیز کاروبار بھی شروع ہو گیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کا کہنا ہے کہ بھارت کی متعدد ریاستوں میں لڑکیوں سے زیادتی کی ویڈیوز بنا کر دکانوں پر فروخت کرنے کا سلسلہ ایک خوفناک کاروبار کی صورت اختیار کرگیا ہے۔ ریاست اترپردیش کی متعدد دکانوں پر ان ویڈیوز کی فروخت کے ثبوت بھی حاصل کئے گئے ہیں۔

اخبار کا کہنا ہے کہ نوعمر لڑکیوں اور خواتین کی عزت لوٹنے اور اس کی ویڈیو بنا کر بیچنے کا شرمناک فعل اب باقاعدہ کاروبار کی صورت اختیار کرگیا ہے اور بھارت میں روزانہ سینکڑوں یا شاید ہزاروں کی تعداد میں ایسی ویڈیوز بیچی جارہی ہیں۔ معاشرے کی اخلاقی پستی کا یہ حال ہوچکا ہے کہ ان ویڈیوز کی ڈیمانڈ حد سے زیادہ نظر آرہی ہے۔ ایک ویڈیو کی قیمت 50 روپے سے لے کر چند سو بھارتی روپے تک وصول کی جا رہی ہے اور دکاندار عام طور پر یہ ویڈیوز کسٹمرز کے موبائل فون پر ڈان لوڈ کردیتے ہیں۔ ساری صورتحال پولیس کے علم میں ہے اور ظلم کا نشانہ بننے والی متعدد لڑکیاں اپنی جان لے چکی ہیں، اس کے باوجود اس لرزہ خیز جرم کے خلاف قانون حرکت میں آرہا ہے نہ ہی معاشرے میں اس کے خلاف کوئی احتجاج نظر آیا ہے، گویا جنسی زیادتی کی طرح اس کی ویڈیو کی فروخت بھی معمول کی بات بن گئی ہے۔

مزید : کالم