خوش قسمتی

خوش قسمتی
 خوش قسمتی

  

مسٹر مارک چائینہ کی ایک انجنئیرنگ و کنسٹرکشن کمپنی کے پاکستان اور گلف میں سی او ہیں۔یہ بڑے محنتی ،متحرک اور پروفیشنل سوچ کے مالک ہیں۔ان کی نگرانی میں اس وقت چھ کھرب کے منصوبے چل رہے ہیں، جن میں سے دو کھرب کے منصوبے اس وقت پاکستان میں چل رہے ہیں۔ ایک پروجیکٹ پر مجھے بھی ان کے ساتھ کام کرنے کا اتفاق ہوا۔ان کی شخصیت نے مجھے بہت متاثر کیا کیونکہ ان کی عمر اس وقت صرف تینتیس (33)سال ہے۔اس نوجوانی کی عمر میں اتنی کامیابیاں؟ میں اس راز کو جاننا چاہتا تھا۔مارک سے میری چند ہی دنوں میں بڑی اچھی گپ شپ ہو گئی ۔ ایک دن میں نے اس سے یہ راز پوچھ ہی لیا۔مارک نے شائد کبھی خود بھی اس پر غور نہیں کیا تھا اس لئے وہ کچھ دیر سوچتا رہا پھر مسکرا کرمیری طرف دیکھا اور کہا ’’ میری محنت‘‘ پھر خود ہی اپنے جواب سے وہ غیر مطمن نظر آیا اور اس نے کہا ہماری کمپنی میں سب لوگ بہت محنتی ہیں بلکہ مجھ سے بھی زیادہ محنت کرتے ہیں۔پھر کہنے لگا شائد میری تعلیم ، پھر اس نے قہقہہ لگایا اور کہنے لگا یہ بھی نہیں ، میرے کئی کلاس فیلو جو کلاس میں مجھ سے بہتر تھے اسی کمپنی میں ہیں، مگر مجھ سے جونئیر ہیں۔اس نے لمبی سانس لی اور کہا بس اس کا صرف ایک ہی جواب ہے مائی لک(my luck) ۔

پھر اس نے کہا میرے دوست قسمت کا کھیل لڈو کے کھیل سانپ اور سیڑھی کی طرح ہے، مگر اس میں تھوڑا سا فرق ہے لڈو کے کھیل میں ہمیں پہلے سے پتہ ہوتا ہے کہ کس قدم پر ہمیں سانپ نے ڈس لینا او ر اور کس قدم پر ہمیں سیڑھی کے ذریعے جمپ لگنا ہے، مگر قسمت کا کھیل اَن دیکھا ہوتا ہے اس میں سانپ اور سیڑھی کا بالکل پتہ نہیں ہوتا انسان چلتے چلتے اچانک اوپر نکل جاتا ہے یا نیچے گر جاتا ہے لیکن اس میں بھی اگر سوچ مثبت ہو تو سانپ پر پاؤں کم ہی آتا ہے اکثر سیڑھی ہی نصیب ہوتی ہے۔

مارک نے بالکل سچ کہا انسان کی زندگی میں سارا کھیل قسمت کاہے ۔دنیا سمندر کی طرح ہے اور انسان قسمت کی کشتی میں سوار ہوکر آگے بڑھنے کی جدوجہد کرتا رہتا ہے۔خوش قسمتی کی کوئی لہر اسے اچھا ل کر آگے نکال دیتی ہے اور بدقسمتی کی لہر اپنے ساتھ نیچے لے جاتی ہے ۔سیاست سے ہٹ کر آپ عمران خان کی زندگی کا جائزہ لیں تو اس میں بھی صرف اور صرف قسمت کا کھیل نظر آتا ہے۔شائد عمران خان نے خود بھی کبھی اس پر غور نہ کیا ہو کہ اس کی کامیابیوں اور موجودہ مقام کے پیچھے ایک بارش ہے اگر وہ بارش نہ ہوتی تو آج عمران خان بھی ظہیر عباس، ماجد خان ،جاوید میاں داد اور وسیم اکرم کی طرح ٹی وی پر تبصرے کررہا ہوتا۔ عمران کی قسمت ایک بارش نے بدل دی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ فتح کا تاج اسی ٹیم کے سر سجتا ہے جو گراؤنڈ میں اچھا کھیلتی ہے، مگر اس میں بڑی حقیقت ہے کہ فتح یا شکست کے فیصلے گراؤنڈ سے باہر کہیں اور ہو رہے ہوتے ہیں اور انسان کے دیکھتے ہی دیکھتے خوش قسمتی کا تا ج کسی اور کو نصیب ہو جاتا ہے۔

1992ء کے ورلڈکپ میں پاکستان کی ٹیم اپنے پول میچ کھیل کر ورلڈ کپ سے باہر ہو چکی تھی۔ایک میچ میں تو اس کی کارکردگی انتہائی خراب رہی وہ میچ تھا پاکستان اور انگلینڈ کا جو یکم مارچ 1992ء کو کھیلا گیا۔عمران خان کی قسمت میں عروج کی سیڑھی اس بدترین کارکردگی والے میچ نے مہیا کی ۔پاکستان کی پوری ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 74رنز پر آؤٹ ہوگئی ۔انگلینڈ کے لئے یہ بہت آسان ہدف تھا ، مگر پھر گراؤنڈ سے باہر کہیں قسمت کے فیصلے ہو رہے تھے اور بارش شروع ہوگئی جو تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔میچ ختم ہونے کا وقت قریب تھا کہ بارش رک گئی اور انگلینڈ کو 16 اوورز میں 64 رنز کا ٹارگٹ ملا جس کے حصول کے لئے وہ کسی بھوکے بھیڑئیے کی طرح جھپٹ پڑے ،مگر آٹھ اوورز کے کھیل کے بعد بارش ایسی ٹوٹ کے برسی کہ میچ کا فیصلہ نہ ہو سکا اور دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ دے دیا گیا۔یہی ایک پوائنٹ پاکستان کو اگلے راؤنڈ میں لے جانے میں کامیاب ہوا نہیں تو پاکستان ورلڈ کپ سے باہر ہوجاتا۔ اس ایک پوائنٹ کی وجہ سے پاکستان سیمی فائنل کھیلنے میں کامیاب ہو گیا اور پھر ورلڈ کپ جیت کر تاریخ رقم کردی۔اسی کامیابی نے عمران خان کو کرکٹ کی تاریخ کا بہترین کپتان ہونے کا اعزاز دلایا اور عمران قوم کا ہیرو بن کر شوکت خانم کینسر ہسپتال بنانے میں کامیاب ہوگیا۔شوکت خانم کی کامیاب تکمیل اور اسے عمدگی سے چلا کر اس نے عوام کو متاثر کرکے اپنا امیچ بہتر بنا کر سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا اور آج اپوزیشن کا اہم راہنما اور مستقبل میں وزیر اعظم بننے کے لئے میدان سیاست میں جدوجہد کرتا نظر آ رہا ہے۔

سوچئے اگر وہ ایک بارش نہ ہوتی تو کیا عمران خان ورلڈ کپ جیت کر کرکٹ کی تاریخ کا بہترین کپتان ہونے کا اعزاز حاصل کر سکتا تھا۔شوکت خانم لاہور پشاور اور اب کراچی میں بنانے کے کارنامے رقم کرسکتاتھا۔نمل یونیورسٹی کیا بنانا ممکن ہوتا۔پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر جاگیر دار یا صنعتکار خاندان سے تعلق نہ ہونے پر کیا سیاسی جماعت بنا کر اس قدر کامیابی ممکن تھی ؟عمران آج پاکستانی سیاست کا ایک طاقتور ستون بن چکا۔شوکت خانم اور نمل جیسے کارنامے رقم کر چکا ۔عمران خان کی ان کامیابیوں کا اگر جائزہ لیں تو اس کے پیچھے صرف اس کی قسمت کا کمال لگتا ہے نہیں تو دنیائے کرکٹ میں کتنے عظم کھلاڑی آئے اور گئے،مگر اس جیسا مقام حاصل نہ کرسکے۔سر ڈان بریڈ مین جیسے بیٹس مین،ٹنڈولکر جیسے کھلاڑی جنہیں لوگ اوتار سمجھتے رہے اور وسیم اکرم جیسا سوئنگ کا سلطان، مگر کامیابیوں اور بلندیوں کا سہرا عمران خان کے سر بندھا او اس کے پیچھے راز ایک بارش ہے جو کوئی عام بارش نہیں تھی بلکہ قسمت لکھنے والے کی حکمت تھی جس نے کرکٹ کے ایک عام کھلاڑی کو سماجی و سیاسی خدمت کے راستے پر ڈال دیا۔آپ غور کریں تو عمران کی زندگی سچ مچ لڈو کے کھیل سانپ اور سیڑھی جیسی ہے ۔عام انتخابات میں اسے کوئی بڑی کامیابی نہ مل سکی پھر اس نے دھاندلی کے خلاف دھرنا دے کر سانپ پر قدم رکھ لیا جس سے اس کی شہرت کو نقصان پہنچا اور دھاندلی پر بننے والے کمیشن نے اس کے الزامات کو قبول نہ کیا، جس سے اس کی سیاست کو شدید دھچکا لگا، مگر پھر نہ جانے کہاں سے اسے پاناما کی سیڑھی سے جمپ لگ گیا۔پاناما کی سیڑھی نے اسے پھر سے اوپر لا کھڑا کیا۔اب دیکھئے آگے کیا ہوتا ہے اگر تو کپتان کی نیت صاف رہی اور عوامی خدمت کے مشن پر قائم رہا تو اسے مزید سیڑھیاں مل سکتی ہیں ،لیکن اگر نیت میں کھوٹ ہوئی تو پھر اگلا قدم سانپ پر بھی پڑ سکتا ہے۔ قسمت کے اس کھیل کا انجام کیا ہوتا ہے اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی بہتر کر سکتا ہے۔

مزید : کالم