ملتان میں میٹرو

ملتان میں میٹرو
 ملتان میں میٹرو

  

وزیر اعظم محمد نوازشریف کل ملتان میٹرو بس سروس کا افتتاح کرنے آ رہے ہیں۔ ایک صبر آزما انتظار کے بعد ملتانیوں کی زندگی میں یہ دن آیا ہے۔ یہ منصوبہ 9ماہ میں مکمل کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، مگر ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ لگ چکا ہے اس دوران منصوبے کی لاگت میں بھی اضافہ ہوا اور لوگ اس جدید سفری سہولت سے بھی محروم رہے۔ میں اب یہاں وہ پرانی باتیں نہیں دہراؤں گا کہ اس منصوبے پر جو خطیر رقم خرچ کی گئی ہے وہ نئے ہسپتالوں کے قیام اور نئی یونیورسٹیاں بنانے پر خرچ کی جاتی، یا پھر اس رقم سے شہر میں سیوریج کے دیرینہ مسئلے کو حل کیا جاتا اور تمام سڑکیں بھی از سر نو تعمیر کر کے کھلی اور کشادہ کر دی جاتیں، جس سے اگلے پچاس برسوں کے یہ مسائل حل ہو جاتے۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ ضروری ہیں لیکن میٹرو بس منصوبہ بھی کوئی کارِ زیاں نہیں ہے۔ یہ منصوبہ تو اپنی جگہ ہے ہی لیکن اس کی وجہ سے شہر کی جو حالت بدل کر رہ گئی ہے وہ کسی بھی طرح خطیر فنڈز کے بغیر ممکن نہ تھی۔ اندرون شہر کے گنجان آباد علاقے خونی برج، چونگی نمبر 14، ہمایوں روڈ، ممتاز آباد، بی سی جی چوک، وہاڑی چوک، چوک کمہاراں والا، آبشار روڈ وغیرہ اس میٹرو منصوبے کی وجہ سے کشادہ ہو گئے اب وہاں بھی جدید اور کھلی دو رویہ سڑکیں بن گئی ہیں، وگرنہ پہلے وہاں سے گزرنا محال ہوتا تھا شہریوں سے زمین حاصل کرنے کے لئے اربوں روپے دیئے گئے جو عام حالات میں کسی صورت نہ ملتے اور یہ قدیمی شہر اسی پرانے انفراسٹرکچر کے ساتھ چلتا رہتا۔

میٹرو بس منصوبے کے روٹ پر اعتراضات بڑی حد تک درست ہیں اسی لئے اس منصوبے کے آغاز پر یہ نوید سنائی گئی تھی کہ دوسرے مرحلے میں اس کا دائرہ شہر کی شمال اور مغربی سمت کی طرف بڑھایا جائے گا اس کی وجہ یہ ہے کہ ریلوے اسٹیشن، ہوائی اڈے اور نشتر ہسپتال جیسے بڑے مقامات کے ساتھ میٹرو بس کے روٹ کا کوئی تعلق نہیں وہ ان مقامات سے 7 تا دس کلومیٹر کے فاصلے سے گزرتی ہے لیکن اب اس کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ ان علاقوں سے میٹرو بسیں چلائی جا رہی ہیں جو شہریوں کو نزدیک ترین میٹرو بس اسٹیشن تک پہنچائیں گی۔ اس طرح میٹرو بس تک رسائی آسان ہو جائے گی۔ میٹرو بس کا مین روڈ جنرل بس اسٹینڈ سے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی تک ہے، گویا ایک گنجان آباد علاقے سے لے کر ایک کشادہ علاقے تک کا یہ منصوبہ شہریوں کو اعلیٰ سفری سہولت کم معاوضے میں فراہم کر سکتا ہے۔ موجودہ صورتِ حال میں اگر کوئی شخص بی سی جی چوک، وہاڑی چوک یا چوک کمہاراں والا سے یونس روڈ یا بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی جانا چاہتا ہے تو اسے رکشہ والے کو دو سے اڑھائی سو روپے دینے پڑتے ہیں جبکہ میٹرو بس پر وہ بیس روپے میں سفر کرے گا۔ چونگی نمبر 9 سے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی تک صبح کے اوقات میں انتہائی رش ہوتا ہے کیونکہ شہر کے تمام بڑے تعلیمی ادارے اسی سڑک پر ہیں میٹرو بس کے چلنے سے امید ہے کہ ہزاروں طالب علم اور دیگر افراد اپنی گاڑیوں کی بجائے اس پر سفر کریں گے اور ٹریفک کا دباؤ کم ہو جائے گا۔ اس سڑک پر آبادی کا پھیلاؤ بہت زیادہ ہے، بڑے پلازے ڈی ایچ اے سمیت بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیاں اور تعلیمی ادارے اسی سڑک پر بن رہے ہیں اس لئے مستقبل میں میٹرو بس اس علاقے کے لئے سب سے بڑی سہولت بن جائے گی۔

وزیر اعظم نوازشریف اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی اپنی خاص سوچ اور ترجیحات ہیں وہ رابطے بڑھانے پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ سڑکیں، موٹرویز، میٹرو بس منصوبے اور اورنج ٹرین ان کی اسی سوچ اور ترجیحات کا عکس ہیں اس حوالے سے ان پر اپوزیشن کی طرف سے تنقید بھی ہوتی ہے اور کمیشن کھانے کے الزامات بھی لگتے ہیں، مگر وہ اپنی دھن کے پکے ہیں۔ میں اس صورتِ حال کو اس نظر سے دیکھتا ہوں کہ ملتان سے بڑی بڑی شخصیات اقتدار کے ایوانوں میں گئیں اعلیٰ ترین مناصب پر فائز ہوئیں مگر وہ چند کروڑ کے منصوبوں کے سوا ملتان کے لئے کچھ حاصل نہ کر سکیں۔ ایک سید یوسف رضا گیلانی ہیں جنہوں نے وزیر اعظم بن کر ملتان کی تعمیر و ترقی کے بارے میں کچھ سوچا اور ایک بڑا فلائی اوور بنوانے میں کامیاب ہو گئے۔۔۔ اس چھوٹے سے منصوبے کے لئے بھی انہیں قومی اسمبلی میں تنقید کا سامنا رہا کہ وہ اپنا سارا فنڈ ملتان میں لگا رہے ہیں۔ یہ ماجرا آج کا نہیں بہت پرانا ہے کہ آپ دارالخلافہ اور دارالحکومتوں سے ہٹ کر کسی پسماندہ علاقے کو ترقی دینے کے لئے کام کریں گے تو سب آپ کے پیچھے پڑ جائیں گے۔ محکمہ خزانہ میں بیٹھے ہوئے بیورو کریٹس ہی ایسے منصوبوں میں سو سو کیڑے نکالیں گے۔ ایسے میں اگر شہباز شریف نے 30 ارب روپے کا میٹرو بس منصوبہ ملتان کو دیا ہے تو یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ اتنا پیسہ تو کبھی جنوبی پنجاب کے کسی شہر کو یکمشت نہیں ملا۔ اسی منصوبے کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کو اچھا روز گار ملا ہے۔ شہر کا نقشہ تبدیل ہوا ہے، اس میں بڑے شہروں والی جدت پیدا ہوئی ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اب بیس روپے میں ویگنوں اور بسوں میں لٹک کر جانے کی بجائے وہ آرام دہ سفر سے مستفید ہو سکیں گے۔

البتہ ایک ایسا پہلو ہے جس پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ملتان میٹرو منصوبہ اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اس کا کچھ حصہ فلائی اوور پر مشتمل ہے اور کچھ حصہ زمین پر بنایا گیا ہے۔ جہاں جہاں فلائی اوور سے میٹرو بس گزرے وہاں تو یوٹرن بنا دیئے گئے اور شہری ایک سمت سے دوسری سمت کی طرف جا سکتے ہیں مگر جہاں یہ منصوبہ زمین پر ہے وہاں آبادیاں تقسیم ہو کر رہ گئی ہیں مثلاً شاہ رکن عالم اور نیو ملتان آہنی دیوار کے ذریعے ایک دوسرے سے منقطع ہو کر رہ گئے ہیں اسی بوسن روڈ پر بہادر پور کے مقام پر چونکہ میٹرو بس زمین پر اتر آتی ہے، اس لئے ایک سمت سے دوسری طرف جانا ممکن نہیں رہا۔ ان علاقوں کے لوگوں نے اس پر احتجاج بھی کیا ہے اور میٹرو بس کو روکنے کی دھمکی بھی دے رکھی ہے ایسے مختلف علاقوں میں فلائی اوورز اور انڈر پاسز تعمیر کرنے کی فوری ضرورت ہے تا کہ یہ منصوبہ لوگوں کی زندگی میں آسانی پیدا کرے، دشواری نہیں یہ منصوبہ جو ایک حقیقت کا روپ دھار چکا ہے، جب شروع کیا جا رہا تھا تو ملتان میں اس کے خلاف شدید احتجاج دیکھنے میں آیا تھا۔ تاجر تنظیموں، قوم پرست سرائیکی جماعتوں اور سیاسی پارٹیوں نے بھی اسے وسائل کا ضیاع قرار دے کر فنڈز کو جنوبی پنجاب کے صحت و تعلیم کے منصوبوں پر خرچ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ پھر جب یہ خبریں سامنے آئیں کہ پنجاب حکومت ملتان کے لئے میٹرو منصوبے کو ختم کرنے پر غور کر رہی ہے تو سول سوسائٹی باہر آ گئی ا ور اس منصوبے کے حق میں مظاہرے ہونے لگے۔ آج یہ حال ہے کہ اس منصوبے کا دوسرا فیز شروع کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے پسماندہ علاقوں کو جو کچھ مل جائے، انہیں اسے دل سے قبول کر لینا چاہئے۔ آج ملتان ملک کے تین ایسے بڑے شہروں میں شامل ہو گیا ہے جہاں میٹرو منصوبے مکمل ہوئے ہیں۔ مکھی پر مکھی مارنا یا احتجاج برائے احتجاج کرنا ایک منفی عمل ہے، ملتان میٹرو منصوبے کی اب تک جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، ان کے مطابق یہ لاہور اور راولپنڈی کے میٹرو بس منصوبوں سے زیادہ جدید ہے اس کے میٹرو اسٹیشنوں پر ہوائی اڈے جیسی سہولیات فراہم کی گئی ہیں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے اس سروس کو ہر شہری کی دسترس میں دیدیا گیا ہے کوئی اچھا کام ہوا ہو تو اس کی تعریف کرنے میں کوئی حرج نہیں اور جو خامیاں وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آتی ہیں، ان کا حل بھی وقت کے ساتھ نکل آتا ہے۔ صدیوں پرانے شہر کو اگر اس منصوبے کی وجہ سے جدت اور قدامت کا سنگم کہا جائے تو یہ بے جا نہیں ہوگا۔ میں جب بوسن روڈ سے گزرتا ہوں تو بل کھاتی میٹرو کا ٹریک اور نیچے خوبصورت لینڈ سکیپنگ اور رات کے وقت اس کا جگمگ کرتا نظارہ اس احساسِ محرومی کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے، جو لاہور جا کر دامن گیر ہو جاتا ہے۔

مزید : کالم