نئے امریکی صدر کے لئے نئے چیلنج!

نئے امریکی صدر کے لئے نئے چیلنج!
 نئے امریکی صدر کے لئے نئے چیلنج!

  

ڈونلڈ ٹرمپ کا دورِ صدارت 20 جنوری سے شروع ہو چکا ہے۔ ان کے آئندہ افعال و اعمال کے بارے میں طرح طرح کی چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں جو اس وقت تک ہوتی رہیں گی جب تک وہ اپنے انتخابی وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کا آغاز نہیں کرتے۔ ان کو کسی نہ کسی سکیل میں سہی یہ معلوم ہے کہ ریاست اور دفاع کا آپس میں گہرا تعلق ہوتاہے۔ امریکہ آج دنیا کی واحد سپر پاور ہے تو اس کا اولین سبب یہ ہے کہ اس کا دفاع سپر ہے۔ دنیا بھر میں جتنے بھی دوسرے پیشے ہیں وہ اگر کسی ایک ریاست میں بدرجۂ کمال بھی جمع ہو جائیں تو ریاست کو سپر پاور نہیں بنا سکتے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، صحت، تعلیم، طب، فلسفہ، شعر و ادب، مذہب، سیاسیات، فلکیات، سماجیات اور آپ کے خیال میں جو موضوع بھی آئے اس کو اس فہرست میں شامل کر لیجئے اور پھر اُن سب کے چوٹی کے ماہرین کا ایک گروپ بنا لیں اور انہیں ایک جگہ لے جا کر بسا دیں تو پھر بھی وہ تمام ماہرین اس جگہ کو عظیم نہیں بنا سکیں گے۔ عظمت کا تعلق شوکت و سطوت سے ہے اور شوکت و سطوت مضبوط دفاع کی براہ راست تخلیق ہیں۔ اس لئے اگر امریکہ آج دنیا کی واحد سپر پاور کہلاتا ہے تو صرف اور صرف اس وجہ سے کہ اس کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔۔۔۔

البتہ دفاع کا مفہوم مردرِ ایام سے تبدیل اور اَپ ڈیٹ ہوتا رہتا ہے۔ اول اول جب انسان صرف تیر کمان اور ڈھال تلوار سے لڑا کرتا تھا تو دفاع کا موضوع صرف انہی ابتدائی ہتھیاروں تک محدود تھا لیکن پھر جوں جوں دفاعی سائنس ترقی کر کے وار ٹیکنالوجی میں ڈھلتی گئی اور انسان نے اس وار ٹیکنالوجی کو میدانِ آزمائش میں ٹیسٹ کر کے اور اسے کارگر پا کر اپنی افواج کے حوالے کر دیا تو وہی ریاست عظیم کہلائی جس کی دفاعی ٹیکنالوجی عظیم تھی۔

اسی طرح دفاع اور خارجہ پالیسی کا بھی چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جنرل کلاز وٹز نے ٹھیک کہا تھا کہ جنگ خارجہ پالیسی کے تسلسل کا دوسرا نام ہے۔ مطلب اس کا یہ تھا کہ جب دو ریاستوں کے درمیان کوئی مسئلہ بات چیت سے حل نہیں ہوپاتا اور خارجہ تعلقات کی پراسس جہاں بے بس ہو جاتی ہے تو وہاں جنگ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ چنانچہ جنگ اور خارجہ امور گویا ایک دوسرے کو اوور لیپ کرتے ہیں۔

اس وقت پاکستان کا وزیر خارجہ کوئی نہیں۔ صرف مشیرِ امور خارجہ ہیں اور وزیر دفاع بھی میری نظر میں محض مشیرِ امورِ دفاع ہی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم سے زیادہ ذہین اور دانشمند وزیر خارجہ آج تک پاکستان کو نہیں مل سکا۔ لیکن کیا وہ 1965ء کی جنگ کو روک سکے؟ کیا اگست 1965ء کے آپریشن جبرالٹر میں ان کا کوئی حصہ نہیں تھا؟ لیکن اس سے بھی زیادہ بڑا سوال یہ ہے کہ کیا آپریشن جبرالٹر کامیاب ثابت ہوا؟۔۔۔ ہم جانتے ہیں کہ نہیں ہوا ۔۔۔ تو اس کی واحد وجہ کیا تھی؟ کیا وزیر خارجہ کی ذہانت میں کوئی شک و شبہ تھا؟ اگر نہیں تو کیا وجہ تھی کہ پاکستان کو جنگ کی طرف جانا پڑا؟

ہم نے کشمیر کے مسئلے پر بھارت سے تین جنگیں لڑی ہیں۔ ان تینوں کے اسباب پر غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ چونکہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ، مسئلہ زیرِ تنازعہ کو حل نہ کر سکے اس لئے انہیں جنگ کی طرف جانا پڑا۔ یعنی ابتداء خارجہ پالیسی کی نا کامی سے ہوئی اور نوبت جنگ پر جا کر انجام پذیر ہوئی۔ میں فتح یا شکست کی بات نہیں کر رہا۔ میں آپ کو یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ خارجہ امور اور دفاعی امور کے باہمی تعلقات میں زیادہ اہمیت کس کو حاصل ہے؟ اور اگر جنگ خارجہ پالیسی کے تسلسل کا دوسرا نام ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ جو فریق جنگ میں زبردست ہے وہی فاتح ہے اور اس کی خارجہ پالیسی بھی کامیاب ہے اور جو جنگ میں کمزور ہے اس کی خارجہ پالیسی بھی اسی اعتبار سے کمزور سمجھی جائے گی۔ کوئی بھی کمزور ملک محض عیارانہ خارجہ پالیسی کے طفیل جنگ نہیں جیت سکتا۔ ہاں عیارانہ دفاعی پالیسی سے جنگ جیتی جا سکتی ہے۔۔۔ اس نکتے کی سپورٹ میں تاریخ سے اَن گنت مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نہ تو کسی خارجہ پالیسی کا کوئی ماہرانہ شعور حاصل ہے اور نہ ہی کسی مربوط دفاعی پالیسی کا۔ وہ امریکہ کے 45 ویں صدر ہیں۔ ان سے پہلے 44 صدور میں سے اکثریت کسی نہ کسی رینک میں ملک کی مسلح افواج سے وابستہ رہ چکی تھی اس لئے ان کو جنگ و جدال کی ابجد سے کچھ نہ کچھ واقفیت ضرور تھی۔ جنگ کی ابجد سے واقفیت کا مطلب خارجہ امور سے ذیلی واقفیت بھی ہے خواہ اس کا سکیل کسی کمتر درجے یا حجم کا ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن صدر ٹرمپ کو تو خارجہ اور دفاعی پالیسیوں کا کچھ بھی ادراک نہیں۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں ناٹو کو جس طرح از کار رفتہ اور غیر سود مند قرار دیا یا ان علاقوں سے امریکی ٹروپس کی واپسی کا اشارہ دیا جن میں امریکی بوٹ گھٹنوں گھٹنوں دھنسے ہوئے ہیں تو ظاہر ہے اس موضوع پر ان کی ’’الف بے‘‘ بھی محض سنی سنائی یا کتابی معلومات ہی پر ہو گی۔ امریکی صدر چونکہ اپنی افواج کا کمانڈر انچیف بھی ہوتا ہے تو اس تناظر میں ٹرمپ کو اپنے دفاعی مشیروں ہی پر انحصار اور اعتماد کرنا پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے وزارتِ دفاع (پینٹا گون) کی سربراہی کے لئے جس شخص کا انتخاب کیا ہے وہ سویلین نہیں سابقہ وردی پوش جرنیل ہے۔ اس نے اک عمر اسی دشتِ جنگ و جدل کی سیاحی میں بسر کی ہے۔ اسی طرح ٹرمپ نے وزارت خارجہ کے لئے بھی جن لوگوں کا انٹرویو کیا تھا ان میں سابق وردی پوش بھی شامل تھے۔ یہ اور بات ہے کہ جنرل پیٹریاس وغیرہ کی جگہ ٹلرسن (Tillerson)کو نامزد کیا گیا۔

خیال ہے اسی ہفتے وہ اپنے نامزد وزیر دفاع جنرل میٹس (Mattis) سے بریفننگ لیں گے۔ ان کے ہمراہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف، جنرل ڈن فورڈ بھی ہوں گے۔ اب امریکہ کے عسکری تھنک ٹینک اس موضوع کو زیر بحث لا رہے ہیں کہ یہ دونوں وردی پوش (ایک ریٹائرڈ اور دوسرا حاضر سروس) اپنے کمانڈر انچیف کو دفاعی امور میں کن خطوط اور کن پہلوؤں پر بریفننگ دیں گے ۔۔۔ ایسے کمانڈر انچیف کو جو عسکری علم و فن کی موشگافیوں سے کچھ زیادہ واقف نہیں اور اس فیلڈ میں اس کا ذاتی تجربہ بھی صفر ہے!

امریکہ کی مسلح افواج عددی اعتبار سے شائد دنیا میں سب سے بڑی نہ ہوں لیکن قوتِ حرب و ضرب کے حوالے سے بلا شبہ سب سے زیادہ موثر اور طاقتور شمار ہوتی ہیں۔ یہ امریکی افواج ملک کی دفاعی اور خارجہ پالیسی کی تشکیل میں ہمیشہ سے ایک اہم رول ادا کرتی چلی آ رہی ہیں۔ کسی مارشل خوش کا یہ مقولہ کہ جنگ ایک ایسا سنجیدہ کاروبار ہے جو جرنیلوں پر چھوڑا نہیں جا سکتا تو اس مقولے کی دھجیاں مارشل خوش کے عہد ہی میں اڑ گئی تھیں!

آپ کو معلوم ہوگا کہ 1939ء میں جب دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی تھی تو امریکہ دنیا کی تیسرے درجے کی عسکری قوت تھا۔ اس وقت برطانیہ، دنیا کی واحد سپر پاور تھا اور اس کے بعد جرمنی، فرانس اور روس کا نمبر آتا تھا جو دوسرے درجے کی عالمی قوتیں شمار ہوتی تھیں۔ لیکن چھ برسوں کے اندر اندر (1939ء تا 1945ء) امریکہ ایک تیسرے درجے کی فوجی قوت سے اٹھ کر اگر ایک عالمی سپر پاور بن گیا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نصف عشرے میں روائتی سپر پاورز شکست کھا گئی تھیں۔اس خلا کو جن عالمی قوتوں نے پُر کیا وہ امریکہ اور سوویت یونین تھیں۔ پھر تقریباً نصف صدی تک (1945ء تا 1990ء) امریکہ اور روس دنیا کی سپر طاقتیں کہلاتی رہیں۔ لیکن 1991ء میں جب سوویت یونین ٹوٹ کر محض روس رہ گیا تو امریکہ واحد عالمی سپر پاور بن گیا۔۔۔ اس کا یہ اعزاز آج ربع صدی گزرنے کے بعد بھی قائم ہے۔

لیکن امریکی تھنک ٹینک سمجھ رہے ہیں کہ ان کی قوت کا سورج نصف انہار تک پہنچ کر اب ڈھلنے والا ہے۔ اس کی جگہ چین لے رہا ہے۔ اس لئے امریکی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں کا رخ اب مشرق کی طرف ہوچکا ہے۔ اگرچہ اس رول میں امریکہ کے ساتھ بھارت اور ویت نام قسم کے ممالک بھی شامل ہو چکے ہیں لیکن یہ مجوزہ امریکی اتحاد کو سہارا دینے کی بجائے اسی طرح اس کے گلے کا ہار بن سکتے ہیں جس طرح دوسری جنگ عظیم میں اٹلی، جرمنی کے لئے بجائے سپورٹ کے ایک بوجھ بن گیا تھا۔ ہٹلر اور اس کی نازی افواج نے مسولینی کو اوپر اٹھانے کی بڑی کوششیں کیں لیکن 1943ء کے آغاز پر ہی اٹلی نے اتحادیوں (امریکہ، برطانیہ، روس) کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ عین ممکن ہے اگر مستقبل قریب میں چین اور امریکہ کے درمیان کوئی روائتی جنگ ہو بھی جائے تو روس تو چین کے ساتھ مل کر اس کو تقویت بہم پہنچائے گا لیکن بھارت امریکہ کے لئے جنگ عظیم دوم والا دوسرا اٹلی بن جائے گا!۔۔۔ اندریں حالات دنیا میں یہ حقیقت بڑی شدت سے اُبھر کر سامنے آ رہی ہے کہ جس تیزی سے روس اور چین کا اتحاد مستقبل میں عالمی قوت کا ایک بڑا اتحاد بن رہا ہے اس کے مقابلے میں امریکہ کو مشرق میں اسرائیل اور بھارت کے ہوتے ہوئے بھی اس اتحاد کا کوئی موزوں جواب دکھائی نہیں دے رہا۔

یہی وہ چیلنج ہے جو پینٹا گون کے کرتا دھرتاؤں کو پیش ہے۔ اپنی انتخابی مہم میں ٹرمپ نے اپنے غیر عسکری ماضی کے باوجود یہ محسوس کر لیا تھا کہ امریکی افواج پر ناٹو ایک ناروا بوجھ ہے اور دوسرا بڑا بوجھ وہ امریکی Involvement ہے جو سابق صدورِ امریکہ (بش اور اوباما) نے خواہ مخواہ اپنے سر لے لی تھی۔ افغانستان اور عراق میں بالخصوص اور شام میں بالعموم حد سے بڑھی ہوئی یہ امریکی Involvement کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ان جنگوں میں سابق صدور نے جس بے بصری اور کوتاہ اندیشی کا ثبوت دیا اس کی تفصیلی بریفننگ پینٹا گون میں تیار کی جا رہی ہے۔۔۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) ڈیوڈ بارنو (David barno) اور سٹرٹیجک امور کی ماہر نورا بن ساہل (Nora Bensahel) نے اپنے ایک حالیہ تجزیہ میں اس بریفننگ کے کنٹورز کا جو نقشہ پیش کیا ہے وہ حد درجہ قابل توجہ ہے ۔۔۔ اس تجزیہ کے چیدہ چیدہ پہلو اگلے کالم میں قارئین کے سامنے رکھوں گا۔

مزید : کالم