پنجاب کے چار اضلاع میں کریمینل جسٹس پائلٹ پراجیکٹ

پنجاب کے چار اضلاع میں کریمینل جسٹس پائلٹ پراجیکٹ

سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا ہے کہ عوام کو انصاف کی بروقت فراہمی ہمارا اولین فریضہ ہے، لیکن بدقسمتی ہے کہ ہمارے نظام میں دادا مقدمہ کرتا ہے اور پوتے کو مقدمہ لڑنا پڑتا ہے انصاف کی جلد فراہمی کے لئے مقدمات کو غیر ضروری طور پر ملتوی کرنے کی روایت ختم کرنا ہو گی جس طرح سی پیک (پاک چین اقتصادی راہ داری) پاکستان کے لئے گیم چینجر ثابت ہو گا اسی طرح کریمینل جسٹس پراجیکٹ عدلیہ کے لئے گیم چینجر ثابت ہو گا، پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں پائلٹ کریمینل جسٹس پراجیکٹ کے حوالے سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے والد جب وکالت کی پریکٹس کرتے تھے اس دور میں کسی بھی فوج داری مقدمے کا فیصلہ تین دن میں ہو جاتا تھا انہوں نے اپنی 38سالہ پریکٹس میں دیکھا ہے کہ موجودہ قوانین کی موجودگی میں بھی فوج داری مقدمات کا جلد فیصلہ ممکن ہے ہمیں قوانین نہیں طریق کار بدلنے کی ضرورت ہے۔

کریمنیل جسٹس کے حوالے سے پائلٹ پراجیکٹ بنیادی طور پر چار اضلاع میں شروع کیا جا رہا ہے جن میں اٹک، چنیوٹ، نارووال اور وہاڑی شامل ہیں۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹرجسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ پراجیکٹ میں شامل چار اضلاع پورے پنجاب کے لئے مثالی بن سکتے ہیں، یک دم پورے پنجاب کی بجائے صرف پائلٹ پراجیکٹ پر کام شروع کیا گیا ان اضلاع میں منشیات اور قتل کے مقدمات باقی مقدمات کی نسبت زیادہ ہیں، پائلٹ پراجیکٹ میں شامل اضلاع میں فی جج پچاس ٹرائلز بنتے ہیں سول اور فوجداری عدالتوں کو علیحدہ علیحدہ کر کے قابل عمل کاز لسٹ جاری کرنے کی ضرورت ہے، ان کا کہنا تھا کہ کیس مینجمنٹ پلان سے استفادہ کئے بغیر پراجیکٹ کامیاب نہیں ہو سکتا ۔ وکلاء کے لئے بھی اس نظام میں آسانی ہو گی، بارز کی خواہش بھی ہے کہ پرانا کلچر تبدیل کر کے ان چار اضلاع کو مثالی بنایا جائے، ہڑتال کلچر کو ختم کر کے عدالتوں کو فنکشنل بنائیں۔

کچھ تو آبادی بڑھنے کی وجہ سے عدالتوں میں مقدمات کی تعداد بڑھ گئی ہے لیکن گزشتہ چند عشروں سے مقدمے بازی کے رجحان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ عدالتوں کے سامنے ایسے مقدمات بھی آئے ہیں جن میں مقدمہ دائر کرنے والا فریق سراسر غلط ہوتا ہے اسے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بالآخر یہ مقدمہ ہار جائیگا لیکن مقدمہ دائر کر کے وہ اس لحاظ سے مطمئن ہو جاتا ہے کہ یہ مقدمہ سال ہا سال چلے گا، جائیدادوں کے ناجائز قابضین عموماً ایسے مقدمات دائر کرتے ہیں او ر ماتحت عدالتوں سے اپنے حق میں حکم امتناعی حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں، اس مقصد کے لئے عموماً عدالتوں میں جعلی دستاویزات جمع کرائی جاتی ہیں ستم ظریفی یہ ہے کہ سو فیصد جائز دستاویزات رکھنے والا مالک تو جائیداد کے قریب نہیں پھٹک سکتا لیکن جس شخص نے جعلی دستاویزات پر جائیداد ہتھیائی ہوئی ہوتی ہے وہ جائیداد سے پوری طرح مستفید ہوتا ہے، اگر یہ کوئی کمرشل جائیداد ہے تو اس کا کرایہ بھی وہ وصول کرتا ہے اور اصل مالک کے ہاتھ کچھ نہیں آتا، عدالتوں میں سال ہا سال تک مقدمے چلنے کے بعد جب فیصلہ ہوتا ہے تو اپیل در اپیل کا چکر چل نکلتا ہے اس طویل نہ ختم ہونے والی مقدمے بازی میں فریقین میں کسی نہ کسی کی موت واقعہ ہو جاتی ہے یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ورثا مقدمے کی پیروی سے ہی دستبردار ہو جاتے ہیں اور یوں ناجائز قبضہ کرنے والا ہر لحاظ سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

ناجائز قبضوں کا سلسلہ باقاعدہ کاروبار ہے جو لوگ بیرون ملک مقیم ہیں ان کے قریبی رشتے دار بھی اس دھندے میں ملوث ہوجاتے ہیں وہ پہلے تو اپنے ہی رشتے دار کی جائیداد پر کسی نہ کسی قبضہ گروپ کا قبضہ کراتے ہیں، پھر اپنے رشتے دار کو یہ راستہ دکھاتے ہیں کہ انہیں مختار عام بنا دیا جائے تو وہ مقدمے کی پیروی کرتے رہیں گے، یوں وہ وکیلوں کی فیسوں اور دوسرے اخراجات کے نام پر اپنے رشتے داروں کو لوٹتے رہتے ہیں، قبضہ مافیا کا کاروبار بڑا وسیع ہے یہ لوگ اپنے کارندوں کے ذریعے ایسی جائیدادوں کی ٹوہ میں رہتے ہیں جن کے مالک غیر حاضر ہوں، جعلی کاغذوں پر جائیدادوں کی خرید و فروخت کا دھندا بھی عام ہے۔ ایک جائیدا د یا پلاٹ وغیرہ کئی کئی ہاتھوں میں بک جاتا ہے اس سارے معاملے کا جائزہ لے کر سول مقدمات کو جلد نپٹانے کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ بعض سینئر وکلا اور ان کے چیمبر زیر سماعت مقدمات میں جعلی یا تبدیل کی ہوئی دستاویزات کی فوٹو کاپیاں عدالتوں میں جمع کرا کے مقدمہ لڑتے رہتے ہیں اور بعد میں انکشاف ہوتا ہے کہ یہ دستاویزات تو جعلی تھیں اور سارا معاملہ وکیل صاحب کی مشاورت سے ہو رہا تھا۔ ایسے ہی معاملات سامنے آنے کے بعد بعض فاضل ججوں کو خاص طور پر یہ حکم جاری کرنا پڑا کہ اس سلسلے میں بدنام قانونی چیمبروں کی غیر مصدقہ فوٹو کاپیاں قبول نہ کی جائیں۔

وکیل کا بنیادی منصب تو یہ ہے کہ وہ کسی بھی مقدمے میں جج صاحب کو سچ تک پہنچنے میں قانونی معاونت کرے، لیکن اس وقت ٹرینڈ یہ ہے کہ وکیل ہر حالت میں اپنے مؤکل کا مقدمہ جیتنا چاہتا ہے چاہے اسے جھوٹی اور جعلی دستاویزات کا سہارا ہی کیوں نہ لینا پڑے اس طرح نہ صرف فاضل ججوں کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ مقدمات بھی طول کھینچتے ہیں اور جعل سازی کی بنیاد پر فیصلہ حاصل کرنے والے وکلا بھی کامیاب ہو جاتے ہیں اپنے حق میں مقدمے کا فیصلہ لینے کا یہی رجحان ہے جس کی وجہ سے وکلاء عدالتوں کے اندر ججوں سے بدتمیزی پر اتر آتے ہیں۔ ایسے واقعات عام ہو گئے ہیں ججوں کی جانب جوتے تک پھینکے گئے ، بار کے عہدیدار عموماً ایسے ہی وکلاء کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں چاہے وہ صریح طور پر قصور وار ہوں۔ اگر معاملہ حل نہ ہو سکے تو ہڑتالوں کی نوبت آ جاتی ہے ۔ وکیل عدالتوں میں پیش نہ ہوں تو مقدمات کی سماعت رک جاتی ہے یوں ایک طویل چکر چلتا رہتا ہے جس کی وجہ سے مقدمات غیر ضروری طوالت کا شکار ہوتے ہیں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان عام طور پر وکلاء کو یہ تلقین کرتے رہتے ہیں کہ وہ ہڑتالوں سے گریز کریں لیکن اس وعظ و نصیحت کا بظاہر کوئی اثر وکلاء پر نہیں ہوتا، اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سلسلے میں قانون سازی کی جائے یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ بعض وکلاء نے جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر بار کی رکنیت حاصل کر رکھی ہے۔ یہ تو قانون کے مقدس پیشے کے ساتھ سراسر ظلم ہے کہ جس شخص نے صبح و شام قانون اور انصاف کی مالا جپنی ہے وہ خود ہی جعل سازی کا مرتکب ہو۔ کیا یہ ممکن ہے کہ بار ایسوسی ایشن اپنے ارکان کی ڈگریاں چیک کرنے کا کوئی معقول بندوبست کریں؟

کریمینل جسٹس کا جو پائلٹ پراجیکٹ چار اضلاع میں شروع کیا گیا ہے اس کا مقصد فوجداری مقدمات کو جلد از جلد نپٹانا اور لوگوں کو جلد از جلد انصاف مہیا کرنا ہے لیکن یہ پائلٹ پراجیکٹ بھی وکلا کی عملی معاونت کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا، اگر قتل کے مقدمات میں یہ جانتے ہوئے بھی کہ ملوث ملزم قصور وار ہے وکیل مقدمہ لڑنے کی حامی بھریں گے اور پھر کسی نہ کسی طرح ہر حربہ اختیار کر کے قتل کے ملزم کو بری کرانے کے لئے کوشاں رہیں گے تو انصاف کے تقاضے کیسے پورے ہوں گے؟ اس پہلو سے پائلٹ پراجیکٹ کی کامیابی کا امکان نہیں ہو گا۔ بار اور بنچ نظام انصاف کے دو پہیے ہیں یہ نظام ایک پہیے پر نہیں چل سکتا لیکن دیکھا یہی گیا ہے کہ جج صاحبان تو نظام کی بہتری کے لئے ہر وقت فکر مند رہتے ہیں لیکن وکلا کے طبقے میں مجموعی طور پر اس حوالے سے کوئی زیادہ فکر مندی نہیں پائی جاتی ایسے میں اصلاح احوال آسان نہیں ہے ، اگر اس پائلٹ پراجیکٹ کو گیم چینجر سمجھ کر اس سے امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں تو تمام تر توانائیاں استعمال کر کے اس کو کامیاب کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید : اداریہ