افتخار علی ملک ایک عہد کی بزنس پالیٹکس کے نمائندہ ہیں

افتخار علی ملک ایک عہد کی بزنس پالیٹکس کے نمائندہ ہیں

حامد ولید:

افتخار علی ملک نے پاکستان کی بزنس کمیونٹی کی نمائندگی کا بیڑہ اٹھایا ہوا ہے اور اپنی سادہ طبیعت، کھری بات کرنے کی عادت اور ہر ایک کو گلے سے لگانے کی لگن نے انہیں ہردلعزیز بنادیا ہے ۔ ان کو دیکھ کر یقین آجاتا ہے کہ اگر ذوق یقیں ہو تو ہر ہدف کا حصول ممکن ہوتا ہے ۔ افتخار علی ملک ایک عہد کی بزنس پالیٹکس کے نمائندہ ہیں ، یہ وہ عہد تھا جب LUMSمعرض وجود میں نہ آیا تھا اور بزنس مین اپنے بچوں کو فنانس نہیں پڑھوانے کے بجائے کاروبار میں ساتھ بٹھانے کو ترجیح دیتے تھے ۔ اس ملک میں کاروبار کو سائنسی شکل میں ڈھالنے میں افتخار علی ملک کا نام نمایاں حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے ۔

ایک زمانہ تھا جب ان کا دعویٰ ہوتا تھا کہ PRان کی جیب کی گھڑی ہے لیکن آج جب بات پرنٹ میڈیا سے آگے بڑھ کر الیکٹرانک میڈیا کے دور میں داخل ہو چکی ہے تو جس طرح میدان سیاست میں چوہدری شجاعت حسین کا اصل تعارف لوگوں کو ہوا ہے اسی طرح افتخار علی ملک بھی کھل کر عوام سے متعارف ہوئے ہیں ، ٹی وی کیمرے نے اس عہد کی قیادت کو ایکسپوز کیا ہے جو اخباری تراشوں میں کبھی پیپر ٹائیگرز بن کر چھائے ہوتے تھے ۔

افتخار علی ملک نے بزنس کمیونٹی کی خدمت عبادت سمجھ کر کی ہے اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے پلیٹ فارم سے اس فریضے کو اس کمال سے سرانجام دیا کہ آج کیا لاہور چیمبر، کیا فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز اور کیا سارک چیمبر ہر جگہ ان کا طوطی بولتا ہے۔ افتخار علی ملک بزنس کمیونٹی کے وہ وزیر اعظم ہیں جن کا حلقہ نیابت پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے اور جن کے کردار کی خوشبو سرحد پار بھی محسوس کی جاتی ہے۔ بلاشبہ برصغیر میں کاروباری سرگرمیوں کو منظم کرنے اور ان کو فروغ دینے میں افتخار علی ملک کا نام سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔

افتخار علی ملک کی شخصیت کو دیکھا اور پرکھا جائے تو ایک بات بآسانی سمجھ آجاتی ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو سخت محنت کی ہے اور اپنی کجیوں، کمیوں اور کوتاہیوں کو اپنی طاقت بنالیا ہے ، آج لوگ ان کو کسی بھی سٹیج پر سنتے ہوئے جہاں زیرلب مسکراتے ہیں وہیں ان کی سیاسی سمجھ بوجھ اور ادراک پر سر دھنتے بھی نظر آتے ہیں، وہ بزنس کمیونٹی کی ’وڈی آپا‘ ہیں جو کسی بھی بہن بھائی کو نظر انداز نہیں کرسکتی ۔ان کا احترام ہر کاروباری حلقے اور طبقے میں یکساں ہے۔ وہ جہاں بھی گئے ہیں ، کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے ہیں اور مجال ہے کہ جہاں سے وہ ایک بار گزر جائیں پھر زندگی بھر وہ جگہ ان کے احساس سے خالی رہ سکے۔

سوال یہ ہے کہ آخر افتخار علی ملک نے ایسا کیا کیا ہے کہ وہ آج کاروباری اور غیر کاروباری حلقوں میں مقبول ہیں ۔ اس سوال کا ایک ہی جواب ہے کہ انہوں نے کاروباری برادری کو متحد کرکے ایک طاقت میں تبدیل کیا ہے اور ایک زمانے میں تو ، جب تک کہ WTOکا غلغلہ بلند نہیں ہوا تھا، وہ ایف بی آر(تب سی بی آر) اور بزنس کمیونٹی کے درمیان ایک فعال پل کا کردار ادا کرتے تھے اور بزنس کمیونٹی کے بڑے بڑے مسائل کو کامیابی سے حل کرواتے تھے، البتہ WTOکے متعارف ہو جانے کے بعد انہوں نے لاہور چیمبر آف کامرس کے آڈیٹوریم میں ہاتھ اٹھا کر اعلان کیا تھا کہ تاجروں کی سیلز ٹیکس کے لئے رجسٹریشن رکوانے کے لئے وہ کچھ نہیں کر سکتے ، سب کو رجسٹر ہونا ہی پڑے گا، تب ایسا لگتا تھا جیسے وہ بزنس کمیونٹی میں اپنا ووٹ بینک کھو بیٹھیں گے لیکن پھر چشم فلک نے دیکھا کہ تاجر حضرات نے سیلز ٹیکس کے لئے رجسٹریشن بھی کروائی اور افتخار علی ملک سے اپنے پیار کو بھی جاری رکھا، بلاشبہ وہ کاروباری برادری کے بلاشرکت غیرے سرخیل اور سردار ہیں، ان سے یہ مقام اور مرتبہ کوئی نہیں چھین سکتا۔

ڈاکٹر احسن محمود کے بقول افتخار علی ملک نے لیڈر شپ کا جو معیار اور وقار قائم کیا ہے اسے سوائے خراج تحسین پیش کرنے کے اور کوئی چارہ نہیں ۔ ان کے دیرینہ ساتھی ، رفیق و ہمدم ایس ایم منیر ان کے شانہ بشانہ ملکی ترقی کے لئے پرائیویٹ سیکٹر کی سرپرستی کر رہے ہیں اور دونوں لیڈر ز کے ایماء پر پاکستنا کی بزنس کمیونٹی کا سب سے بڑا گروپ یونائیٹڈ بزنس گروپ (UBG) تین سال قبل معرض وجود میں آیا اور فیڈریشن آف پاکستانی چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو کارکردگی کی معراج کی جانب گامزن کردیا۔ 30دسمبر 2016کو کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقد ہونے والے ملک گیر انتخابات میں UBGنے فقید المثال کامیابی حاصل کی اس کے نامزد کردہ صدارتی امیدوار زبیر طفیل اپنی دو سالہ بہترین کارکردگی کے پیش نظر 199ووٹ حاصل کرکے تاریخ ساز مینڈیٹ حاصل کرنے والے صدر ایف پی سی سی آئی بن گئے۔ دوسری جانب نے UBGنے فیڈریشن کے انتخابات میں فتوحات کی ہیٹرک مکمل کرلی جس پر وزیر اعظم پاکستان نواز شریف سے لے کر وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف، گورنر پنجاب رفیق احمد رجوانہ، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر کامرس خرم دستگیر، اور مشیر وزیر اعظم برائے ریونیو ہارون اختر سب نے افتخار علی ملک اور ایس ایم منیر کو مبارکباد دی ہے اور 10جنوری 2017کو اسلام آباد میں وزیر اعظم کی صدارت میں ایکسپورٹرز کا خصوصی اجلاس منعقد ہواجس میں معیشت کے حوالے سے اہم ترین فیصلے کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ایکسپورٹرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افتخار علی ملک، ایس ایم منیر ، زبیر طفیل اور چیئرمین اپٹما عامر فیاض شیخ کے پرزور اصرار پر 180ارب روپے کے تاریخ ساز پیکج کا اعلان کیاجسے ملک بھر کے معاشی حلقوں میں پذیرائی مل رہی ہے۔

بلاشبہ پاکستان کی ایکسپورٹنگ کمیونٹی افتخار علی ملک اور ان کی ٹیم کی شکر گزار ہوگی کیونکہ یہ کمیونٹی گزشتہ تین برسوں سے کوشش میں تھی مگر دال نہیں گل رہی تھی ۔ افتخار علی ملک نے ثابت کیا ہے کہ وہ تاجروں کے ہی نہیں صنعتکاروں کے بھی لیڈر ہیں اور ہر حال میں پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں کی سربلندی کے لئے کام کرتے رہیں گے۔

مزید : ایڈیشن 2