کاروباری سرگرمیاں پہلے سے بہترہیں

کاروباری سرگرمیاں پہلے سے بہترہیں

انٹرویو : نعیم الدین، غلام مرتضیٰ

تصاویر : عمران گیلانی

تعارف: منہاج گلفام کراچی الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین برائے لاء اینڈ آرڈر کمیٹی ہیں۔ وہ ایک نوجوان اور باصلاحیت انسان ہیں اور تاجر برادری میں ان کی ایک اپنی شناخت ہے ، وہ الیکٹرونکس کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ اور وہ کراچی الیکٹرونکس مارکیٹس میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ایسوسی ایشن کی CPLC کمیٹی کے سینئر چیئرمین عابد سوریا کے ساتھ مل کر اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ روزنامہ پاکستان نے ان سے خصوصی گفتگو کی ہے جس کا احوال قارئین کی نذر ہے۔

بزنس پاکستان : امن و امان بہتر ہونے کے بعد شہر میں کاروبار کی کیا صورتحال ہے ؟

منہاج گلفام : اگر مارکیٹ میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو تو صارفین اپنے آپ کو محفوظ تصور کریں گے اور زیادہ سے زیادہ تعداد میں مارکیٹوں کا رُخ کریں گے۔ گذشتہ کچھ سالوں سے ہڑتالوں کی بھرمار تھی اور چھینا جھپٹی روز کا معمول تھا ، یہی وجہ تھی کہ کسٹمر مارکیٹ آنے سے گریز کرتا تھا۔ ہم نے امن وا مان کے حوالے سے الیکڑونک مارکیٹ میں بہت زیادہ کام کیا ہے اور ہم اس کو بہتر سے بہترین کی جانب لے جارہے ہیں۔ جہاں تک سوال ہے کہ گذشتہ سالوں کے مقابلے میں اب کاروبار کی کیا صورتحال ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اب مارکیٹ میں کارباری سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں

بزنس پاکستان : فروری میں کراچی ایکسپو سینٹر میں کراچی الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے نمائش کا انعقاد کیا جارہا ہے، اس حوالے سے کچھ بتائیں ؟

منہاج گلفام : فروری 2017ء میں کراچی الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام کراچی الیکٹرونکس الیکٹریکل موبائل اینڈ ٹیلی کام فیئر (KEEMTF) 2017ء نمائش کا انعقاد کیا جارہا ہے جس میں پاکستان اور بیرون ملک سے تعلق رکھنے والی متعدد کمپنیاں شرکت کررہی ہیں ۔ اس میلے کا سب سے منفرد پہلو یہ ہے کہ یہاں پر صارفین کو ہول سیل قیمتوں پر تمام الیکڑونکس اپلائنسزدستیاب ہونگی۔ اس نمائش میں کمپنیاں خود اپنے اسٹالز لگارہی ہیں اور توقع ہے کہ اس نمائش سے ان کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا اور کسٹمرز کو بھی استفادہ حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ امید ہے کہ 40 لاکھ سے زائد افراد نمائش کو وزٹ کریں گے۔ نمائش میں دنیا بھر سے ملٹی نیشنل کمپنیاں شرکت کررہی ہیں جن کے وفود نمائش کا دورہ کریں گے جس سے پاکستانی تاجروں کو ان کے تجربات سے استفادہ حاصل کرنے کا موقع ملے گا ۔ اس سے قبل بھی کراچی الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے ایک نمائش کا انعقاد کیا گیا تھا لیکن وہ زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہوئی تھی۔ اس نمائش کا انعقاد تین دن کیلئے 17 تا 19 فروری تک کیا جائے گا اگر یہ نمائش کامیاب ثابت ہوئی تو ممکن ہے کہ آئندہ نمائش کا انعقاد تین دن سے زیادہ کیا جائے گا۔

بزنس پاکستان : آپکی ایسوسی ایشن کتنے عہدیداروں پر مشتمل ہے ؟

منہاج گلفام : ہماری ایسوسی ایشن کی 18 رکنی کیبنٹ ہوتی ہے جبکہ مارکیٹ کمیٹیوں میں ہر علاقے کی مارکیٹ کے چیئرمین ہوتے ہیں ۔ صدر کی الیکٹرونک مارکیٹ ایشیاء کا سب سے بڑا حب ہے۔ اس کے علاوہ کراچی کی درجنوں مارکیٹس ہماری ایسوس ایشن میں شامل ہیں ۔ صدر الیکٹرونک مارکیٹ نا صرف پاکستان بلکہ ایشیاء کی سب سے بڑی الیکٹرونک مارکیٹ ہے اور یہاں دکانوں کی تعداد 10ہزار سے زائد ہے۔ اس مارکیٹ کے ایک مال میں 300 سے زائد دکانیں ہیں ۔ اس لحاظ سے یہ ایک بہت بڑی ایسوسی ایشن ہے اور ہمارے شہید لیڈر سید محمد عرفان نے بھی اس مارکیٹ کیلئے قربانی دی تھے جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ وہ ٹارگٹ ہوئے اور ان کی خدمات ایسوسی ایشن کیلئے قابل ستائش ہیں۔ کراچی الیکٹرونکس مارکیٹ کی مجموعی سرمایہ کاری کا حجم اربوں روپے سے زائد ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی یہاں کامیابی سے کاروبار کررہی ہیں اور ان کے کاروبار کا حجم بھی اربوں روپے میں ہے۔

بزنس پاکستان : آپ نے چوری کے موبائل فو ن کی فروخت روکنے کیلئے کیا اقدامات کئے ہیں ؟

منہاج گلفام : چوری کے موبائل اور ان کی فروخت کی روک تھام کے لئے لاء اینڈ آرڈر کے حوالے سے دیکھا جائے تو ہماری ایسوسی ایشن نے بہت زیادہ کام کیا ہے۔ ہم نے مارکیٹ میں ایک نوٹس جاری کیا ہے کہ اگر کوئی بھی فون فروخت کرنے آئے تو اس فرد کا CNIC کارڈ لیا جائے اور اس کی CPLC سے تصدیق کروائی جائے ۔ CPLC کیلئے ہماری ایسوسی ایشن میں ایک الگ کمیٹی ہے جس کے چیئرمین عابد سوریا ہیں، اس کا مقصد یہ ہے کہ اس معاملے کو مؤثر انداز میں دیکھا جائے اور اس کی نگرانی کی جائے ۔ ہمارے دفتر میں روزانہ کی بنیادوں پر 500 تا 600 موبائل فونز کی CPLC سے تصدیق کی جاتی ہے۔ ہم نے ابھی حال ہی میں CPLC کے تعاون سے ایڈیشنل آئی جی مشتاق مہر کو وہ موبائل فونز دیئے ہیں جو تصدیق کے دوران پکڑے جاتے ہیں جبکہ اس سے قبل ہم نے 60 تا 70 لاکھ روپے مالیت کے چوری کے موبائل ایڈیشنل آئی جی کو جمع کروائے تھے ۔ اگر کراچی الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کی بات کی جائے تو ہمارے موجودہ صدر محمد رضوان عرفان اور اس سے قبل محمد عرفان کے زمانے میں موبائل فونز کی ریکوری پر بہت کام ہوا ہے اور آج بھی ہو رہا ہے اگر اعداد و شمار کے حوالے سے دیکھا جائے تو ابھی تک ایسوسی ایشن نے 1 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے 300 تا 400 موبائل فونز recoverکئے ہیں ، موبائل فونز کی ریکوری کے حوالے سے بتاتے ہوئے عابد سوریا نے کہا کہ گذشتہ 5 سال قبل بھتہ خوری اپنے عروج پر تھی ۔ جرائم پیشہ عناصر شہر پر راج کررہے تھے، لیکن کراچی آپریشن کے بعد صورتحال بہت تبدیل ہوئی ہے ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کاروائیوں کے باعث یہ عناصر شہریوں سے لوٹ مار میں مصروف ہوگئے ، جس کے تدارک کی اشد ضرورت ہے ۔ دراصل عوام میں شعور کی کمی ہے انہیں چاہیے کہ فوراً دوسرے موبائل سے اسی فون کو بلاک کروائیں جو چھین چکا ہو، جب اس فون کو وہ مارکیٹ میں فروخت کرنے جائے گا دکاندار اس کو خریدنے سے ہچکچائے گا کیونکہ وہ شناختی کارڈ کی کاپی فراہم نہیں کر سکے گا۔ سی پی ایل سی کی جانب سے جو ایس او پی دی گئی ہے اس کو ہم نے مارکیٹ میں اسی طرح جاری کیا ہے۔

بزنس پاکستان : پولیس کی جانب سے موبائل فون بلاک کرنے کے لئے جو نیا سافٹ ویئر متعارف کروایا جارہا ہے ، کیا اس کا توڑ ممکن ہے ؟

منہاج گلفام : آئی فون اور دیگر نئے فون جو مارکیٹ میں آئے ہیں ان کا آئی ایم ای آئی نمبر تبدیل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ہم نے اپنی کوششوں سے پہلے 150 اور حال ہی میں 90 موبائل فونز ایڈیشنل آئی جی کو دیئے ہیں اور یہ سب کچھ اپنے بل بوتے پر کررہے ہیں ، ہمیں کسی قسم کا کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ اور اس کام کیلئے ہم کسی سے پیسہ نہیں لے رہے ہیں یعنی رضا کارانہ طور پر یہ خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود پولیس کی جانب سے کوئی پروٹو کول نہیں دیا جارہا ہے حالانکہ ہمیں متعدد جرائم پیشہ افراد کی جانب سے انتہائی خطرناک دھمکیاں مل چکی ہیں۔ کسی سے اپنے طور پر 50 ہزار یا اس سے زائد مالیت کا فون recover کرنا آسان بات نہیں ہے جبکہ وہ شخص جس سے فون recvoer کیا گیا ہو وہ جرائم پیشہ بھی ہو۔ یہاں ایک بات اور کہنا چاہوں گا کہ ایئرپورٹ پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کی جانب سے آئی ایم ای آئی نمبر رجسٹرڈ کیا جانا چاہیے۔ میرے علم کے مطابق دنیا میں کہیں بھی ڈومیسٹک کارگو کو روکا نہیں جاتا ہے لیکن یہاں ایسا ہوتا ہے ۔مثال کے طور پر اگر میرا کوئی رشتہ دار باہر ہے، میں اس سے کہوں گا کہ وہاں سے دو اچھے موبائل لے آنا وہ وہاں ذرا سستے پڑتے ہیں لیکن ہوتا یہ ہے کہ ان موبائل فونز کو روک لیا جاتا ہے اور رشوت طلب کی جاتی ہے۔ ان کو چاہیے کہ وہ ان فونز پر ڈیوٹی لگا دیں اور ایک معیار مقرر کردیں ۔ مثال کے طور پر اگر 50 ہزار روپے مالیت کا فون ہو تو اس پر 500 روپے اور ایک لاکھ روپے مالیت کے فون پر 1000 روپے ڈیوٹی عائد کی جائے۔ اس طرح یہ ایک لیگل پروسس ہوجائے گا اور ہر فون رجسٹرڈ ہو کر ایئرپورٹ سے باہر آئے گا۔ جو فون PTA سے رجسٹرڈ ہوگا وہ آسانی سے بلاک ہوجائے گا بصورت دیگر فون کو بلاک نہیں کیا جاسکتا ہے۔

بزنس پاکستان : چھینے ہوئے یا چوری شدہ موبائل کس طرح مارکیٹ میں آتے ہیں ؟

منہاج گلفام : موبائل فونز چھیننے کی کاروائیوں میں بڑے گینگ ملوث ہیں ۔ ہم نے اس پر بہت زیادہ ورکنگ کی ہے اور اسی حوالے سے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر بھی کام کررہے ہیں ۔

بزنس پاکستان : کیا پاکستان سے افغانستان یا خطے کے دیگر ممالک کو فونز اسمگل کئے جاتے ہیں ؟

منہاج گلفام : جرائم پیشہ افراد کو جب یہ پتہ چلتا ہے کہ صدر مارکیٹ کی ایسوسی ایشن چوری کے موبائل فونز نہ خریدنے پر کام کررہی ہے تو وہ یہ سوچتے ہیں کہ اگر ہم وہاں جائیں گے تو پکڑے جائیں گے لہذا وہ افغانستان یا خطے کے دیگر ممالک میں فونز اسمگل کرنے کو ترجیح دے گا کیونکہ پاکستان میں تو ان موبائل فونز کا نیٹ ورک جام ہوتا ہے جبکہ دیگر ممالک میں وہ کھل جاتا ہے اور قابل استعمال ہوجاتا ہے۔

بزنس پاکستان : امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے سے کیا مہنگے موبائل فونز کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا ہے ؟

منہاج گلفام : یہ بتانا ذرا مشکل ہے لیکن 16 تا 20ہزار روپے والے موبائل فونز کی فروخت بہتر ہوئی ہے اور اس کٹیگری کے موبائل زیادہ فروخت ہورہے ہیں ۔ پہلے کے مقابلے میں آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ مارکیٹ میں چینی باشندوں سمیت دیگر غیر ملکی بھی نظر آتے ہیں اور یہ صرف امن وامان کی بہتر صورتحال کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ پولیس سیکورٹی کے حوالے سے آپ کو بتانا چاہوں گا ، مارکیٹ میں صرف 6 پولیس اہلکار تعینات ہوتے ہیں باقی تمام اقدامات ایسوسی ایشن اپنے طور پر کرتی ہے۔ ہم تاجر ہیں ہم اپنے آپ کو اور کسٹمرز کو تحفظ دینے کیلئے ہر ممکن اقدامات کررہے ہیں۔ صدر موبائل مارکیٹ ایشیاء کا سب سے بڑا حب ہے جہاں صرف 6 پولیس اہلکار تعینات ہوتے ہیں ، اب آپ بتائیں کہ وہ کس طرح نگرانی کرسکتے ہیں۔لہذا ہم خود اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر سیکورٹی کے انتظامات کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نفری میں اضافہ کیا جائے تاکہ ہم بے خوف ہو کر اپنا کاروبار بہتر انداز سے چلا سکیں۔

بزنس پاکستان : مارکیٹ میں پتھارا مافیا کی بھرمار ہے، اس کی کیا وجہ ہے ؟

منہاج گلفام : پتھارا مافیا کی وجہ سے جرائم پیشہ افراد زیادہ باخبر رہتے ہیں کیونکہ برگر والے ، جوس والے اور دیگر پتھاروں پر کھڑے ہو کر جرائم پیشہ افراد تاجروں کی سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں اور وارداتیں کرتے ہیں۔ جس کی روک تھام کیلئے ہم کوشش کررہے ہیں مسئلہ یہ ہے کہ پتھارے داروں کی بھی سرپرستی کی جاتی ہے نیچے سے لے کر اوپر تک تمام لوگوں کو حصہ ملتا ہے۔ میں کسی ایک کا نام نہیں لینا چاہوں گا لیکن اس کی بھی بھرپور انداز میں سرپرستی کی جاتی ہے۔ ہماری کوششوں سے مارکیٹ کی حدود میں چھینا جھپٹی کی وارداتیں بالکل ختم ہو کر رہ گئی ہیں۔

مزید : ایڈیشن 2