شادمان اتوار بازار ، چیزوں پر من مانے ریٹ ، کافی سکیورٹی سے صارفین پریشان

شادمان اتوار بازار ، چیزوں پر من مانے ریٹ ، کافی سکیورٹی سے صارفین پریشان

 لاہور(عا مر بٹ سے)ناقص ،مضر صحت سبزیاں، گھریلو استعمال کی چیزوں پر من مانے ریٹ،ناکافی سکیورٹی انتظامات،میٹروپولیٹن لاہور کے زیر نگرانی شادمان اتوار بازار ضلعی انتظامیہ کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت بن گیا،پرائس کنٹرول مجسٹریٹس چیک اینڈ بیلنس برقرار رکھنے میں ناکام ہو گئے ،بد انتظامی ،لوٹ مار ،گراں فروشی،سستے اتوار بازار میں آنے والے شہری مہنگے داموں اشیاء خوردو نوش خریدنے پر مجبور ، اتوار بازار انتظامیہ کی جانب سے مقررہ تعداد سے سینکڑوں زیادہ سٹال لگوا کر ان کی کمائی اپنی جیبوں میں ڈالی جانے لگی ،سردی کی شدت کے ساتھ ہی خشک میواجات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا گیا ،سردی کے ملبوسات کی قیمتوں میں بھی معمولی اضافہ دیکھنے کو آیا،درجہ دوئم اور سوئم کی اشیا ء خوردونوش کی فراہمی پر خریدار احتجاج کرتے ہوئے نظر آئے ،پولٹری کی قیمتوں میں استحکام جبکہ گوشت کی قیمتوں بھی عام بازار کے مقابلے میں بہتر رہیں ، روزنامہ پاکستان کی جانب سے کئے جانے واے سروے کے دوران معلوم ہوا ہے کہ میٹروپولیٹن لاہور کے علاقہ شادمان میں قائم سستے اتوار بازار کی انتظامیہ عوام اور خریداروں کے لئے مسلسل زحمت بن گئی ہے ،منہ مانگی قیمت پر ناقص اور حفظان صحت کے اصولوں کے خلاف اشیا ء خوردونوش کی فروخت معمول بن گئی ہے ، پرائس کنٹرول اور اشیاء کی کوالٹی چیک کرنے آنے والے سرکاری اہلکاروں کو بھی بازار میں میں کھلے عام چیکنگ کی اجازت نہ ہے اور خاص نوازشات کے ذریعے ان کو مطمئن کر دیا جاتا ہے ،ایڈمنسٹریٹر ماڈل بازار سرکاری اہلکاروں کو بھی خاطر میں نہ لاتا ہے اور ماڈل بازار کو اپنی جاگیر بنا کر اپنے رشتہ داروں ،دوستوں کو نوازنے کے لئے مقررہ تعداد سے زیادہ سٹال اور دکانیں دے رکھیں ہیں ، جن کی ساری کمائی اپنی جیبوں میں ڈال کر کرپشن کا بازار بھی گرم کر رکھا ہے ماڈل بازار میں آنے والی خواتین کی اکثریت نے کہا ہے پنجاب حکومت نے پورے پنجاب میں ماڈل بازار صرف اس لئے قائم کئے ہیں عوام کو سستی اشیاء خوردونوش کی چیزیں آسانی سے دستیاب ہو سکیں لیکن اس ماڈل بازار میں آکر لگتا ہے کہ عوام کو سستے داموں اشیاء خوردونوش مہیاکرنے کا دعوٰی ہمارے حکمرانوں کی سیاسی قلابازی کے علاوہ کچھ نہ ہے ادھر سب چیزوں کے من مانے ریٹ مقرر ہیں جن پر ریٹ لسٹ بھی آویزاں نہ ہے ،پوچھنے پر بدتمیزی اور انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں ،خریدا ر شاہد محمود،قاسم علی،خرم شہزاد،علی وقار نے بتایا کہ اس بازار میں ہر چیز کا اپنی مرضی کا ریٹ کا مقرر کیا گیا ہے ،مہنگائی کم کرنے کا دعوٰی کرنے والے حکمران کبھی ادھر کا بھی وزٹ کر لیں تو انہیں پتہ چل جائے گا کہ عوام کس حال میں ہیں اور ان کو ووٹ دے کر منتخب کرنے کی کیا سزا مل رہی ہے ،اس ماڈل بازار کا سب سے بڑا مسئلہ سیاسی اجارہ داری ہے جس کی بناء پر ادھر دوکاندار بھی اپنے آپ کو ان داتا سمجھتے ہیں اور انتہائی غلط طریقے سے پیش آتے ہیں ،پھلوں ،سبزیوں کا یہ میعار ہے کہ کئی کئی دن کی باسی سبزیاں اور پھل فریج میں رکھ کر دوبارہ انہیں سٹال پر سجا کر فروخت کیا جارہا ہے ان زائد المیعاد سبزیوں اور پھل کھانے سے فوڈ پوازننگ اور دوسری بیماریاں بھی لاحق ہونے کا خدشہ ہے ،کئی بار ایڈمنسٹریٹر بازار سے شکائت کرنے کو گئے ہیں لیکن ہماری نہ تو کوئی شنوائی ہے اور نہ ہی اشیاء کے معیار کو بہتر بنایا گیا ہے، اصغر علی،خیام حسین،مراتب علی،سید شاہد حسین شاہ اور غلام رسول نے کہا کہ کیونکہ اس ماڈل بازار کا ایڈمنسٹریٹر ہر قانون اور ضابطے سے آزاد ہے اسی کے بل بوتے پر اس کے کارندے بھی ہر قانون ،ٖضابطے اور لحاظ شرم سے آزاد ہیں ،اس لئے ہر سٹال والا اپنے ہی طریقے سے اس بازار کو چلا رہا ہے ،خریداروں نے ڈی سی لاہور اور چیئرمین ماڈل بازار پنجاب افضل کھوکھر سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے،دوسری جانب میٹروپولٹین انتظامیہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ جہاں بھی شکایات ملتی ہیں فوری کارروائی کرتے ہیں ،اتوار بازاروں کا معیار بتدریج بہتر کر رہے ہیں ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1