کرپشن نے ملکی معیشت کابیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے، میاں مقصود

کرپشن نے ملکی معیشت کابیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے، میاں مقصود

لاہور( نمائندہ خصوصی ) امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمدنے کہاہے کہ کرپشن نے ملکی معیشت کابیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے۔حکمران اپنی نااہلیاں چھپانے کے لیے منافع بخش اداروں کو اونے پونے فروخت اور لیز پر دے رہے ہیں۔کرپشن اور سیاسی بھرتیوں نے قومی اداروں کوتباہی کے دھانے پرلاکھڑاکیاہے۔ ملک میں کرپشن اورلوٹ مار کابازار گرم ہے۔نیب جیساادارہ بڑے بڑے مگرمچھوں کے لیے سہولت کار بن چکا ہے۔احتساب کے نام پربے گناہ اور عام عوام کوپریشان کیا جارہاہے۔انہوں نے کہاکہ جب تک اینٹی کرپشن،نیب ،ایف بی آر اور مالیاتی امور کی جانچ پڑتال کرنے والے دیگر ادارے اپنے اندر سے کالی بھیڑوں کونہیں نکالیں گے ملک میں احتساب کاخواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔سیاسی دباؤ کے باعث بے گناہ افراد کو ہراساں کرنے کاسلسلہ بند ہوناچاہئے۔آئین وقانون کاتقاضاہے کہ اگر کسی نے کوئی رشوت خوری سمیت کسی بھی جرم کاارتکاب کیا ہے تو اس کے خلاف ٹھوس ثبوت عدالت میں پیش کیے جائیں۔ملک میں کرپشن کی انتہاہوچکی ہے۔روزانہ 12ارب روپے کی کرپشن حکمرانوں کی بدترین کارکردگی کامظہر ہے۔میاں مقصود احمد نے مزیدکہاکہ چورچوروں کامحاسبہ نہیں کرسکتے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ باکردار، محب وطن اور پڑھے لکھے افراد کو میرٹ پرسرکاری اداروں میں تعینات کیاجائے۔پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ محب وطن قیادت کافقدان ہے۔موروثی سیاست اور اقرباء پروری نے پاکستان اور اس کے اہم اداروں کوناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔انہوں نے کہاکہ جب تک حکمران اپنے اوپر لگنے والے ٹیکس چوری کے الزامات کوغلط ثابت نہیں کردیتے عوام کا اعتماد بحال نہیں ہوسکتا۔دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں کرپشن کرنے والوں کے لیے سخت ترین سزائیں رکھی گئی ہیں مگر بدقسمتی سے پاکستان میں قانون اشرافیہ کے لیے موم کی ناک سے زیادہ کچھ نہیں۔چھوٹے چوروں کو گرفت لیاجارہاہے اور بڑے مگرمچھ اسمبلیوں میں بیٹھ کر قوم کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ملک سے کرپشن اور کرپٹ عناصر کاقلع قمع ناگزیر ے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ دور حکومت میں آئے روزاسکینڈلزسامنے آرہے ہیں۔ایک طرف حکمران عوام کوہنگامی بنیادوں پر ریلیف فراہم کرنے کی باتیں کرتے ہیں تودوسری طرف قرضوں کے پہاڑ کھڑے کرکے مہنگائی میں اضافہ کردیاگیا ہے۔عملاً20کروڑ عوام پریشان حال ہیں اور کوئی ان کاپرسان حال نہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1