یورپ میں شدید سردی، 23 ہزار مہاجر بچوں کی زندگیاں خطرے میں

یورپ میں شدید سردی، 23 ہزار مہاجر بچوں کی زندگیاں خطرے میں

برسلز(این این آئی)اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف نے کہاہے کہ یورپ میں موجود قریب 23 ہزار مہاجر اور تارکین وطن بچوں کے لیے شدید سردی ایک خطرہ ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال کی جانب سے خبردار کیا گیا کہ یورپ بھر میں درجہء حرارت نقطہء انجماد سے کئی درجے نیچے ہے اور ایسے میں مختلف مہاجر کیمپوں میں موجود بچوں کو سانس اور گلے کی بیماریوں اور انفیکشنز کے خطرات لاحق ہیں۔یونیسیف کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ شدت سرد موسم اور مغربی، مشرقی اور جنوبی یورپ میں طوفانی ہواؤں میں فوری کمی کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ ایسے مین مہاجر اور تارکین وطن بچے سانس اور دیگر بیماریوں کے شکار ہونے کے خطرات سے دوچار ہیں۔گزشتہ کچھ روز میں یورپ بھر میں موسمِ سرما سے جڑی ہلاکتوں کی تعداد 60 سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں زیادہ تر بیگھر افراد اور مہاجرین تھے۔یونان میں اس وقت قریب ساٹھ ہزار مہاجرین موجود ہیں، جن میں زیادہ تر شامی باشندے ہیں۔ یونانی حکام نے بہت سے مہاجرین کو موسم سرما کے مقابلے کی صلاحیت کے حامل ٹینٹوں اور مکانات میں منتقل کیا ہے، تاہم بہت سے ایسے مہاجرین بھی موجود ہیں، جو کھلے آسمان تلے یا شکستہ کیمپوں میں موجود ہیں اور سردی سے شدید متاثر ہیں۔

مزید : عالمی منظر